اجمود — قدرت کا نمکیاتی خزانہ

Advertisements

پہچان اور تاریخ

اجمود، خاندانِ umbelliferae کا رکن، اجوائن سے ملتی جلتی مگر اس سے ہلکی جڑی بوٹی ہے۔ عربی میں اسے فطراسالیون، فارسی میں کرفس اور لاطینی میں Apium graveolens کہا جاتا ہے۔ اس کی گرہ دار جڑیں، سبز ڈنڈیاں اور موٹی جڑوں سے پھوٹنے والے پتے اسے اجوائن سے ممتاز کرتے ہیں — رنگت میں سبزی مائل، ذائقے میں چرپرا مائل بہ تلخی، اور خوشبو و تیزی میں اجوائن سے کمتر۔ اس کا پھل چھوٹا اور نارنجی مائل بھورا ہوتا ہے، کاٹنے پر ایک مخصوص بو خارج کرتا ہے۔

دو ہزار سال سے زائد عرصے سے کاشت کی جانے والی یہ بوٹی پانچویں صدی قبل مسیح میں چین میں بھی معروف تھی۔ انگلستان میں ابتدا میں یہ خودرو جنگلی پودا تھا جسے “سالج” کہا جاتا اور محض دوا کے طور پر برتا جاتا تھا؛ سولہویں صدی میں باغوں میں لا کر پہلے طبی، پھر بعد میں سالن و کھانوں کی خوشبو کے لیے کاشت کیا جانے لگا۔ برصغیر میں یہ پنجاب کے پہاڑی علاقوں اور اترپردیش میں، سطح سمندر

سے تقریباً 900 میٹر بلندی پر واقع ٹھنڈے، معتدل اور بارانی خطوں میں خوب پھلتی پھولتی ہے۔

مزاج اور طبی افعال

اجمود کا مزاج گرم خشک دوسرے درجے میں ہے۔ اس کی طبیعت “غدی عضلاتی” ہے — یعنی غدود میں تحریک، عضلات میں تحلیل اور اعصاب میں تسکین پیدا کرتی ہے، جس کے نتیجے میں خون میں صفرا اور حرارت بڑھتی ہے۔

اس بنیاد پر اجمود کے افعال یوں بیان کیے جا سکتے ہیں: مسمن و مجفف جگر، مسکنِ دماغ و اعصاب، جالی و مشتہی (بھوک بڑھانے والی)، کاسرِ ریاح، مدرِ حار، قاتلِ کرم اور دافعِ تعفن۔ یہی خواص اسے جگر، گردوں اور معدہ و امعاء کی کمزوری کے لیے ایک قیمتی نسخہ بناتے ہیں۔

غذائی ترکیب

ایک سو گرام تازہ اجمود میں 88 فیصد پانی، 6.6 فیصد چکنائی، 6.3 فیصد پروٹین، 2.1 فیصد معدنیات، 1.6 فیصد کاربوہائیڈریٹس اور 1.3 فیصد ریشہ پایا جاتا ہے، جس کی غذائی صلاحیت 37 کلوریز ہے۔ اس میں کیلشیم، فاسفورس، آئرن، کیروٹین، ریبوفلاوین، نایاسین اور وٹامن سی کے علاوہ وٹامن اے اور کے، اور فولک ایسڈ بھی شامل ہیں۔ بیجوں سے ایک زرد رنگ کا اڑ جانے والا میٹھا تیل بھی حاصل ہوتا ہے جس کے اجزاء میں لیمونین، ڈی سیلی نین، سیڈاناتک ایسڈ اور سیڈانولائیڈ شامل ہیں۔

امراض میں استعمال

نقرس اور جوڑوں کا درد

اجمود میں نامیاتی سوڈیم وافر ہوتا ہے جو لائم اور میگنیشیا کو محلول کی صورت میں برقرار رکھ کر جوڑوں کو سوزش سے محفوظ رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ اس میں موجود الکلی عناصر جسم میں یورک ایسڈ کی مقدار کم کرتے ہیں، جس سے تیزابیت کی وجہ سے پیدا ہونے والی بیماریوں میں افاقہ ہوتا ہے۔ بہتر نتائج کے لیے پتوں کا تازہ نچوڑا جوس استعمال کیا جائے، جبکہ بیجوں کا جوس جڑوں کی نسبت زیادہ توانا ہوتا ہے۔ سرد موسم میں جوڑوں کے درد پر اجمود کا لیپ راحت دیتا ہے۔

اعصابی خلل

اعصاب کی حفاظتی تہہ کے انحطاط سے پیدا ہونے والی خرابیوں میں اجمود کے جوس کو گاجر کے جوس میں ملا کر پینا مفید ہے۔ جب اعصابیت کے باعث رطوبات کی زیادتی نقصان دہ ہو جائے تو اجمود کی گرمی خشکی سکون کا باعث بنتی ہے۔

خون کے عارضے

انیمیا، ہاجکن کی بیماری، ہیموفیلیا اور لیوکیمیا جیسے امراض میں اجمود اکسیر کا درجہ رکھتی ہے۔ اس میں موجود میگنیشیم اور آئرن خون کے خلیوں کی تشکیل کے لیے ضروری غذائی امتزاج فراہم کرتے ہیں۔ گاجر کے جوس کے ساتھ اس کا استعمال ان امراض میں خاص طور پر نافع پایا گیا ہے۔

سانس کی بیماریاں

تشنج زائل کرنے والے اجزاء کی موجودگی اسے دمہ، برونکائٹس، پھیپھڑوں کے غلاف کی سوزش اور تپِ دق میں مفید بناتی ہے۔ سردی کے سبب جب سانس کی رطوبات میں عدم توازن پیدا ہو تو اجمود کی گرمی خشکی انہیں اعتدال پر لا کر تنفس میں آسانی پیدا کرتی ہے۔

نظامِ ہضم

معدے کی ٹھنڈک سے پیدا ہونے والے اپھار اور تعفن میں بیجوں کو توے پر بھون کر نیم گرم کھانا مفید ہے، یا ایک چائے کا چمچہ بیج پانچ گھنٹے پانی میں بھگو کر چائے میں ملا کر پیا جائے۔ جو افراد اعصابیت کے باعث دودھ یا دودھ سے بنی اشیاء ہضم نہیں کر پاتے، وہ اجمود کے بیج اور کالا نمک ملا کر سفوف بنا لیں اور نیم گرم پانی سے استعمال کریں۔ بدہضمی، اپھارہ، پیٹ درد اور اسہال میں ایک سے دو ماشہ سفوف مؤثر ثابت ہوتا ہے۔

گردے اور مثانے کی پتھری

اجمود قدرتی مدرِ بول ہے جو گردوں سے زہریلے مادوں اور فاضل نمکیات کے اخراج میں مدد دیتی ہے۔ جب گردوں میں حرارت کی کمی سے صفائی کا نظام سست پڑ جائے اور اخراج ہونے والے باریک ذرات جمع ہو کر پتھری کی شکل اختیار کرنے لگیں، تو اجمود کی حرارت انہیں نرم کر کے خارج کرنے میں معاون ہوتی ہے۔ باقاعدہ استعمال پتھری بننے کے عمل کو روکتا ہے۔

عمومی کمزوری

خشک جڑوں کا سفوف ایک مؤثر ٹانک ہے۔ ایک چمچہ سفوف روزانہ دو بار کھانے کے ساتھ لینا جسمانی حرارت اور توانائی کی کمی کو پورا کرتا ہے۔

بے خوابی

اجمود کے جوس میں شہد ملا کر رات سونے سے قبل پینا گہری اور پرسکون نیند لاتا ہے۔ چونکہ بے خوابی اکثر اعصابی تناؤ کا نتیجہ ہوتی ہے، اس لیے اعصاب کو مناسب حرارت پہنچا کر یہ بوٹی ذہنی انتشار کا ازالہ کرتی ہے۔

دل کی صحت

اس میں موجود فولیٹ خون میں ہوموسسٹین کی سطح کو متوازن رکھتا ہے، جس سے دل کی شریانوں کے امراض کا خطرہ کم ہوتا ہے۔

ہڈیوں کی مضبوطی

وٹامن کے کی وافر مقدار ہڈیوں کی کثافت برقرار رکھنے اور بڑھاپے میں ان کے کمزور ہونے سے بچاؤ میں معاون ہے۔

بینائی

بیٹا کیروٹین اور لیوٹین آنکھوں کے خلیات کو تحفظ دے کر عمر رسیدگی سے پیدا ہونے والی بینائی کی کمزوری سے بچاتے ہیں۔

جلد

وٹامن سی اور اینٹی آکسیڈنٹس کولیجن کی پیداوار بڑھا کر جلد کو تروتازہ رکھتے ہیں اور داغ دھبے مٹانے میں مددگار ہیں۔

ماہواری کے مسائل

روایتی طب میں اجمود کا قہوہ ماہواری کے درد اور بے قاعدگی میں بچہ دانی کے پٹھوں کو آرام دینے کے لیے استعمال ہوتا رہا ہے۔

سانس کی بو

کلوروفل کی موجودگی کے باعث کھانے کے بعد چند تازہ پتے چبانا منہ کی بدبو دور کرنے کا قدرتی نسخہ ہے۔

طریقہ استعمال

اجمود کی ڈنڈیاں، شاخیں، بیج اور سبز پتے — سب کچھ قابلِ استعمال ہیں؛ سبز حصوں کو الگ کرنا وٹامنز سے محرومی کا باعث بنتا ہے۔ اسے سلاد میں کچا، یا پکا کر کریم و مکھن کے ساتھ کھایا جا سکتا ہے۔ جڑ کو چائے کی طرح پانی میں ابال کر دودھ ملا کر پینا دماغ و اعصاب کے لیے مقوی سمجھا جاتا ہے۔ ہر مریض کی طبیعت اور پسند کے مطابق اسے قہوہ، سفوف، گولی یا شربت کسی بھی صورت میں استعمال کرایا جا سکتا ہے۔

احتیاط

حاملہ خواتین کو اجمود کا کثرت سے استعمال — بطور دوا یا مقوی عرق — نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ یہ بچہ دانی کے پٹھوں پر اثرانداز ہو کر حمل ساقط کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔

Leave a Comment

Hakeem Muhammad Younas Shahid

Hakeem Muhammad Younas Shahid

Hakeem Muhammad Younas Shahid, the visionary mind behind Tibb4all, revolutionizes education and daily life enhancement in Pakistan. His passion for knowledge and unwavering community dedication inspire all who seek progress and enlightenment.

More About Me

Newsletter

Top Selling Multipurpose WP Theme