
میو قوم میں بڑھتی ہوئی طلاقوں کا رجحان
اسباب، عوامل اور اصلاحی امکانات
از قلم۔۔۔حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو
سعد طبیہ کالج کاہنہ نو لاہور
تمہید
میو قوم برصغیر کی ایک قدیم، بہادر، غیرت مند اور خاندانی روایات رکھنے والی قوم ہے۔ اس قوم کی اصل طاقت ہمیشہ خاندان، برادری، رشتہ داری، بزرگوں کے احترام، باہمی تعاون اور اجتماعی زندگی میں رہی ہے۔ میواتی معاشرے میں شادی صرف دو افراد کا رشتہ نہیں سمجھی جاتی تھی بلکہ دو خاندانوں، دو گھروں اور کبھی کبھی دو بستیوں کے درمیان تعلق کا نام ہوتی تھی۔ مگر وقت کے بدلتے حالات، معاشی دباؤ، سماجی ناہمواریوں، جہیز کی بڑھتی ہوئی لعنت، عدم برداشت، تربیت کی کمی، موبائل و سوشل میڈیا کے غلط استعمال اور خاندانی مداخلتوں نے ازدواجی زندگی کو کمزور کر دیا ہے۔
پاکستانی معاشرے میں طلاق کے رجحان کے بارے میں دستیاب عمومی اعداد و شمار بھی بتاتے ہیں کہ طلاق کی شرح یا طلاق شدہ افراد کا تناسب وقت کے ساتھ بڑھتا محسوس ہو رہا ہے۔ Gallup Pakistan کی PSLM پر مبنی رپورٹ کے مطابق 2010-11 میں 15 سال سے زائد آبادی میں طلاق شدہ افراد کا تناسب 0.31%، 2012-13 میں 0.38% اور 2014-15 میں 0.39% بتایا گیا، اور رپورٹ کے مطابق یہ رجحان مسلسل اضافے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ البتہ میو قوم کے اندر الگ سے مستند اعداد و شمار دستیاب نہیں، اس لیے یہ مضمون قومی رجحانات، سماجی مشاہدات اور میواتی معاشرتی ساخت کے تناظر میں لکھا جا رہا ہے۔
1۔ طلاق: ایک ناپسندیدہ مگر جائز راستہ
اسلام نے نکاح کو محبت، سکون، ذمہ داری اور عفت کا ذریعہ بنایا ہے۔ قرآنِ کریم میں میاں بیوی کو ایک دوسرے کا لباس قرار دیا گیا، یعنی ایک دوسرے کی عزت، حفاظت اور سکون کا ذریعہ۔ لیکن جب زندگی ناقابلِ برداشت ہو جائے، ظلم، تشدد، بے وفائی، مسلسل ناانصافی یا شدید اختلاف ختم نہ ہو سکے تو طلاق کو آخری راستہ رکھا گیا ہے۔ مسئلہ طلاق کے جائز ہونے کا نہیں، بلکہ اس کے بے جا، جلد بازی، انا، غصے اور خاندانی دباؤ کے تحت استعمال کا ہے۔
میو قوم میں ماضی میں طلاق کو بہت بڑی سماجی ناکامی سمجھا جاتا تھا۔ لوگ صلح کراتے، بزرگ بیٹھتے، پنچایتیں ہوتی تھیں، خاندان دونوں طرف سے سمجھوتہ کرواتے تھے۔ آج بھی صلح کی ضرورت ہے، لیکن پرانی پنچایت کے ساتھ ساتھ دینی شعور، قانونی سمجھ، نفسیاتی مشاورت اور انصاف پر مبنی فیصلوں کی بھی ضرورت ہے۔ صرف عورت کو دبانے یا مرد کو برا کہنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا؛ دونوں طرف اصلاح، تربیت اور ذمہ داری ضروری ہے۔
2۔ معاشرتی ناہمواریاں اور طبقاتی فرق
میو قوم کے اندر ایک بڑا مسئلہ معاشرتی ناہمواری ہے۔ بعض خاندان معاشی طور پر مضبوط ہیں، بعض کمزور؛ بعض تعلیم یافتہ ہیں، بعض ابھی بھی تعلیمی پسماندگی کا شکار ہیں؛ بعض گھرانے شہری ماحول میں آ چکے ہیں جبکہ بعض دیہی روایات میں زندگی گزار رہے ہیں۔ جب رشتہ کرتے وقت ان فرقوں کو سمجھا نہیں جاتا تو شادی کے بعد مسائل پیدا ہوتے ہیں۔
کبھی لڑکے والوں کی توقعات بہت زیادہ ہوتی ہیں، کبھی لڑکی والوں کے خواب حقیقت سے بڑے ہوتے ہیں۔ بعض اوقات لڑکی شہر کے ماحول میں پلی ہوتی ہے اور سسرال دیہی مزاج رکھتا ہے۔ کہیں لڑکا بیرونِ ملک یا بڑے شہر میں کام کرتا ہے مگر اس کی ذہنی پختگی کم ہوتی ہے۔ کہیں خاندان صرف ذات، برادری یا زمین دیکھ کر رشتہ کر دیتے ہیں، مگر مزاج، تعلیم، کردار، دین داری، روزگار، صحت، اخلاق، گھر کے ماحول اور ذمہ داری کو نہیں دیکھتے۔ یہی بے جوڑ رشتے بعد میں جھگڑوں، شکوک، بداعتمادی اور طلاق کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔
3۔ جہیز کی بڑھتی ہوئی فرمائش
میو قوم میں جہیز کا مسئلہ پہلے اتنا خطرناک نہ تھا جتنا آج بن چکا ہے۔ پہلے شادی سادگی سے ہوتی تھی، ضرورت کی چیزیں دی جاتی تھیں، رشتہ انسانی بنیادوں پر ہوتا تھا۔ اب بہت سے گھرانوں میں جہیز کو عزت، شان، مقابلہ اور مطالبے کا ذریعہ بنا دیا گیا ہے۔ فریج، واشنگ مشین، موٹر سائیکل، فرنیچر، سونا، نقد رقم، قیمتی کپڑے، مہنگا ولیمہ اور شادی کے فضول اخراجات غریب خاندانوں کو قرض، ذلت اور ذہنی دباؤ میں ڈال دیتے ہیں۔
پاکستان میں “Dowry and Bridal Gifts (Restriction) Act, 1976” موجود ہے، جس کا مقصد جہیز اور شادی کے تحائف کو ضابطے میں لانا ہے؛ مگر قانون کے باوجود سماجی دباؤ اور رسم و رواج اکثر قانون سے زیادہ طاقتور دکھائی دیتے ہیں۔ (Pakistan Code)
جہیز کی فرمائش صرف مالی بوجھ نہیں، یہ لڑکی کے وقار پر حملہ بھی ہے۔ جب سسرال بار بار کہے کہ “یہ نہیں لائی، وہ نہیں لائی”، تو لڑکی کے دل میں احساسِ کمتری، غصہ اور نفرت پیدا ہوتی ہے۔ کبھی یہی باتیں طنز، تشدد، علیحدگی اور آخرکار طلاق تک پہنچ جاتی ہیں۔ جہیز کے نام پر لڑکی کو کمتر سمجھنا نہ اسلامی ہے، نہ انسانی، نہ میواتی غیرت کے مطابق۔
4۔ عدم برداشت اور انا پرستی
آج کا ازدواجی بحران صرف غربت یا جہیز کی وجہ سے نہیں، بلکہ عدم برداشت بھی بڑا سبب ہے۔ معمولی بات پر ناراضی، غصہ، خاموشی، ضد، “میں کیوں جھکوں؟”، “میرے گھر والے ٹھیک ہیں”، “تمہارے گھر والے غلط ہیں” جیسے رویے رشتے کو کمزور کرتے ہیں۔
شادی میں اختلاف ہونا فطری بات ہے۔ دو انسان مختلف گھروں، عادتوں، سوچوں اور مزاجوں سے آتے ہیں۔ اصل کمال یہ نہیں کہ اختلاف نہ ہو؛ اصل کمال یہ ہے کہ اختلاف کو عزت، صبر اور حکمت سے حل کیا جائے۔ مگر ہمارے گھروں میں بچوں کو غصہ قابو کرنا، بات سننا، معافی مانگنا، رشتہ نبھانا، دوسرے کے جذبات سمجھنا اور اختلاف کو لڑائی بننے سے روکنا کم سکھایا جاتا ہے۔
بعض مرد یہ سمجھتے ہیں کہ بیوی پر سختی مردانگی ہے۔ بعض عورتیں یہ سمجھتی ہیں کہ ہر بات پر ضد کرنا خودداری ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مردانگی ظلم نہیں، ذمہ داری ہے؛ اور خودداری بدتمیزی نہیں، وقار ہے۔ جب میاں بیوی دونوں انا کو عزت سے بڑا بنا دیں تو گھر بکھر جاتے ہیں۔
5۔ تربیت کی کمی
طلاق کے بڑھتے رجحان کی جڑوں میں تربیت کی کمی بہت اہم ہے۔ ہمارے ہاں بیٹے کو کمانا سکھایا جاتا ہے مگر بیوی کا احترام نہیں سکھایا جاتا۔ بیٹی کو گھر سنبھالنا سکھایا جاتا ہے مگر اپنے حقوق، گفتگو کا سلیقہ، صبر اور حدود نہیں سکھائی جاتیں۔ والدین شادی کی تیاری میں کپڑے، زیور، فرنیچر اور دعوت پر توجہ دیتے ہیں، مگر ازدواجی تربیت پر نہیں۔
لڑکے کو شادی سے پہلے یہ بتایا جانا چاہیے کہ بیوی نوکرانی نہیں، شریکِ حیات ہے؛ اس کا نان نفقہ، عزت، حفاظت اور جذبات اس کی ذمہ داری ہیں۔ لڑکی کو بھی یہ سمجھایا جانا چاہیے کہ شادی صرف خوابوں کا گھر نہیں، ذمہ داری، صبر، خدمت، سمجھوتہ اور حکمت کا نام بھی ہے۔ دونوں کو یہ بتایا جائے کہ سسرال کا احترام لازم ہے مگر ظلم برداشت کرنا لازم نہیں؛ والدین کی عزت ضروری ہے مگر میاں بیوی کے گھر کی رازداری بھی ضروری ہے۔
6۔ خاندانی مداخلتیں
میو قوم میں مشترکہ خاندانی نظام کی اپنی خوبیاں ہیں: بزرگوں کا سایہ، بچوں کی تربیت، معاشی سہارا، دکھ سکھ کی شراکت۔ مگر یہی نظام اس وقت نقصان دہ بن جاتا ہے جب ہر شخص میاں بیوی کے ذاتی معاملات میں دخل دینے لگے۔ ماں، بہن، بھائی، چچا، خالہ، پھوپھی، نند، دیور، سالی، سالا—ہر طرف سے مشورے، شکایات اور دباؤ گھر کو میدانِ جنگ بنا دیتے ہیں۔
بعض مائیں بیٹے کی شادی کے بعد بہو کو رقیب سمجھنے لگتی ہیں۔ بعض لڑکی کے والدین ہر چھوٹی بات پر بیٹی کو واپس آنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ بعض بہنیں بھائی کے گھر کے فیصلوں میں غیر ضروری مداخلت کرتی ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ میاں بیوی ایک دوسرے کے بجائے اپنے اپنے خاندان کے نمائندے بن جاتے ہیں۔ ازدواجی زندگی میں سب سے پہلے میاں بیوی کو آپس میں مسئلہ حل کرنے کا موقع ملنا چاہیے۔ بزرگوں کی مداخلت آخری مرحلے میں، انصاف اور اصلاح کے لیے ہونی چاہیے، آگ لگانے کے لیے نہیں۔
7۔ معاشی دباؤ اور بے روزگاری
معاشی تنگی بھی طلاق کے اسباب میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری، کم آمدنی، کرایہ، بچوں کے اخراجات، علاج، بجلی کے بل، قرض اور سماجی مقابلہ میاں بیوی کے درمیان تناؤ پیدا کرتے ہیں۔ جب آمدنی کم ہو اور خواہشات زیادہ ہوں تو گھر میں لڑائی بڑھتی ہے۔
بعض نوجوان شادی تو کر لیتے ہیں مگر روزگار مستحکم نہیں ہوتا۔ بعض لوگ دکھاوے کے لیے مہنگی شادی کر کے قرض لے لیتے ہیں، پھر شادی کے بعد قرض اتارنے کا دباؤ رشتے کو خراب کرتا ہے۔ بعض عورتیں شوہر کی مالی حالت کو سمجھنے کے بجائے دوسروں کے گھروں سے موازنہ کرتی ہیں۔ بعض مرد کمائی کی کمی کا غصہ بیوی پر نکالتے ہیں۔ ایسے حالات میں محبت بھی دباؤ میں آ جاتی ہے۔
حل یہ ہے کہ شادی سے پہلے مالی حقیقت واضح ہو، اخراجات سادہ رکھے جائیں، قرض سے بچا جائے، لڑکا روزگار کی ذمہ داری سمجھے، اور لڑکی بھی گھر کے حالات کے مطابق زندگی گزارنے کا حوصلہ رکھے۔
8۔ موبائل، سوشل میڈیا اور بدگمانی
موبائل فون اور سوشل میڈیا نے جہاں رابطے آسان کیے ہیں، وہیں گھروں میں شکوک، موازنہ، غیر ضروری تعلقات اور ذہنی انتشار بھی بڑھایا ہے۔ فیس بک، واٹس ایپ، ٹک ٹاک اور انسٹاگرام پر دوسروں کی مصنوعی خوشیاں دیکھ کر لوگ اپنے گھر سے ناخوش ہونے لگتے ہیں۔ ہر کوئی اپنی زندگی کا خوبصورت حصہ دکھاتا ہے، مگر مسائل نہیں دکھاتا۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ شوہر بیوی سے، بیوی شوہر سے، اور دونوں اپنے گھر سے غیر مطمئن ہونے لگتے ہیں۔
بعض طلاقوں میں غیر محرم گفتگو، خفیہ چیٹنگ، پرانے تعلقات، جعلی دوستی، فون چھپانا، پاس ورڈ نہ بتانا، یا ہر وقت موبائل میں مصروف رہنا بھی وجہ بنتا ہے۔ بدگمانی اور بے اعتمادی جب گھر میں داخل ہو جائے تو محبت آہستہ آہستہ ختم ہونے لگتی ہے۔ میاں بیوی دونوں کو چاہیے کہ موبائل استعمال میں شفافیت، حیا، اعتماد اور حدود کا خیال رکھیں۔
9۔ نشہ، تشدد اور بداخلاقی
کچھ گھروں میں طلاق کی وجہ نشہ، جوا، بدزبانی، مارپیٹ، بے وفائی یا مسلسل ظلم ہوتا ہے۔ ایسے معاملات کو صرف “صبر کرو” کہہ کر نظر انداز کرنا درست نہیں۔ اسلام ظلم کے خلاف کھڑے ہونے کا درس دیتا ہے۔ اگر شوہر بیوی پر تشدد کرے، نان نفقہ نہ دے، نشہ کرے، کردار خراب ہو، یا بیوی مسلسل ذہنی و جسمانی اذیت میں ہو تو خاندان کو صرف طلاق روکنے کے بجائے ظلم روکنا چاہیے۔
اسی طرح اگر بیوی مسلسل بدزبانی، نافرمانی، گھر کی بے عزتی، شوہر کی توہین، یا غیر مناسب تعلقات میں مبتلا ہو تو اسے بھی معمولی بات نہیں سمجھنا چاہیے۔ اصلاح دونوں طرف لازم ہے۔ گھر صرف عورت کے صبر سے نہیں چلتا، مرد کے انصاف اور اخلاق سے بھی چلتا ہے۔
10۔ دینی شعور کی کمی
نکاح ایک دینی عہد ہے، مگر افسوس کہ شادیوں میں دین کم اور رسمیں زیادہ ہو گئی ہیں۔ مہندی، ڈھول، دکھاوا، مہنگے لباس، فضول خرچی، برادری کا خوف، تصویریں، ویڈیوز اور کھانوں کی دوڑ میں نکاح کی اصل روح گم ہو جاتی ہے۔ شادی کے وقت خطبہ نکاح سنا جاتا ہے مگر اس کے حقوق و فرائض پر عمل نہیں کیا جاتا۔
اگر لڑکے کو معلوم ہو کہ بیوی کے حقوق ادا نہ کرنا گناہ ہے، اور لڑکی کو معلوم ہو کہ شوہر کی جائز اطاعت اور گھر کی حفاظت دین کا حصہ ہے، تو بہت سے جھگڑے کم ہو سکتے ہیں۔ دینی تعلیم کا مقصد صرف مسائل طلاق جاننا نہیں، بلکہ طلاق سے پہلے نکاح کو کامیاب بنانا ہے۔
11۔ غلط رشتہ سازی اور تحقیق کی کمی
آج کل بعض رشتے جلد بازی میں طے ہو جاتے ہیں۔ کہیں صرف برادری دیکھی جاتی ہے، کہیں صرف پیسہ، کہیں صرف خوبصورتی، کہیں صرف نوکری، کہیں صرف بیرونِ ملک رہائش۔ مگر اصل چیزیں نظر انداز ہو جاتی ہیں: کردار، نماز، اخلاق، غصہ، ذمہ داری، خاندانی ماحول، صحت، تعلیم، روزگار، سابقہ تعلقات، نشے کی عادت، قرض، ذہنی کیفیت اور گھریلو مزاج۔
میو قوم میں رشتہ کرتے وقت بزرگوں کی تحقیق بہت اہم ہوا کرتی تھی۔ اب یہ تحقیق کمزور ہو گئی ہے۔ لوگ ظاہری شان دیکھ کر فیصلہ کر لیتے ہیں۔ شادی کے بعد حقیقت کھلتی ہے تو پچھتاوا ہوتا ہے۔ رشتہ صرف “اچھا خاندان” دیکھ کر نہیں، “اچھا انسان” دیکھ کر کرنا چاہیے۔
12۔ عورت کی تعلیم اور مرد کی ذہنی تیاری
تعلیم یافتہ عورت اگر دین، اخلاق اور گھر داری کے شعور کے ساتھ ہو تو خاندان کی ترقی کا سبب بنتی ہے۔ مگر جب تعلیم غرور بن جائے، یا مرد عورت کی تعلیم کو خطرہ سمجھنے لگے، تو اختلاف پیدا ہوتا ہے۔ اسی طرح مرد اگر عورت کی رائے کو کوئی حیثیت نہ دے، اسے صرف خدمت کرنے والی سمجھے، تو گھر میں احساسِ محرومی پیدا ہوتا ہے۔
آج کی عورت پہلے سے زیادہ باشعور ہے۔ وہ ظلم، بے عزتی اور مسلسل ناانصافی کو پہلے کی طرح خاموشی سے برداشت نہیں کرتی۔ یہ تبدیلی بذاتِ خود بری نہیں، مگر اس تبدیلی کو دینی اخلاق، خاندانی وقار اور ذمہ داری کے ساتھ جوڑنا ضروری ہے۔ مرد کو بھی ذہنی طور پر تیار ہونا چاہیے کہ بیوی ایک زندہ انسان ہے، اس کی رائے، عزت، پسند، تکلیف اور خواب ہیں۔
13۔ طلاق کے اثرات
طلاق صرف دو افراد کی جدائی نہیں، اس کے اثرات بہت دور تک جاتے ہیں۔ بچوں کی نفسیات متاثر ہوتی ہے، دونوں خاندانوں میں دشمنی پیدا ہوتی ہے، عورت کو معاشرتی دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے، مرد بھی ذہنی اور مالی پریشانی میں مبتلا ہوتا ہے، دوسری شادی مشکل ہو جاتی ہے، اور برادری میں بداعتمادی بڑھتی ہے۔ بعض اوقات بچے ماں باپ کی لڑائی کے درمیان اپنی شخصیت، تعلیم اور اعتماد کھو بیٹھتے ہیں۔
اس لیے طلاق کو نہ تو اتنا بدنام کیا جائے کہ مظلوم انسان ظلم میں جلتا رہے، اور نہ اتنا آسان بنایا جائے کہ ہر معمولی اختلاف پر گھر توڑ دیا جائے۔ اعتدال یہی ہے کہ پہلے اصلاح، پھر مشاورت، پھر خاندان کے منصف بزرگ، پھر دینی و قانونی رہنمائی، اور آخر میں اگر کوئی راستہ نہ بچے تو عزت کے ساتھ علیحدگی۔
14۔ اصلاح کی عملی تجاویز
میو قوم میں طلاق کے رجحان کو کم کرنے کے لیے صرف نصیحت کافی نہیں، عملی نظام کی ضرورت ہے۔
سب سے پہلے شادیوں کو سادہ بنایا جائے۔ جہیز کی فرمائش کو برادری سطح پر عیب سمجھا جائے۔ جو خاندان جہیز کا مطالبہ کرے، اسے عزت نہیں بلکہ اصلاح کی ضرورت سمجھا جائے۔ نکاح کو آسان اور رسموں کو کم کیا جائے۔
دوسرا، شادی سے پہلے لڑکے اور لڑکی دونوں کی ازدواجی تربیت ضروری ہو۔ نکاح سے پہلے کم از کم چند نشستیں ایسی ہوں جن میں حقوق الزوجین، گفتگو کا سلیقہ، غصہ قابو کرنے کا طریقہ، مالی ذمہ داری، خاندانی حدود اور بچوں کی تربیت پر بات ہو۔
تیسرا، ہر گاؤں، محلے یا برادری میں چند سمجھدار، دیندار، غیر جانبدار بزرگوں اور تعلیم یافتہ افراد پر مشتمل اصلاحی کمیٹی ہو جو جھگڑوں میں آگ لگانے کے بجائے صلح کرائے۔ مگر یہ کمیٹی عورت یا مرد پر ظلم نہ کرے؛ انصاف، رازداری اور حکمت سے کام لے۔
چوتھا، والدین رشتہ کرتے وقت صرف ذات، زمین، پیسہ یا ظاہری شان نہ دیکھیں؛ کردار، دین، اخلاق، روزگار، گھر کا ماحول اور مزاج کو بھی دیکھیں۔
پانچواں، گھریلو تشدد، نشہ، جوا، بدکاری، مسلسل بدزبانی اور مالی ظلم کو معمولی نہ سمجھا جائے۔ اصلاح نہ ہو تو قانونی اور دینی راستہ اختیار کیا جائے۔
چھٹا، نوجوانوں کو موبائل اور سوشل میڈیا کے اخلاق سکھائے جائیں۔ غیر محرم تعلقات، خفیہ چیٹنگ اور بدگمانی سے بچنا گھر بچانے کے لیے ضروری ہے۔
ساتواں، لڑکیوں کو تعلیم دی جائے مگر ساتھ ہی گھر، رشتہ، صبر، گفتگو اور دینی حدود کی تربیت بھی دی جائے۔ لڑکوں کو روزگار، ذمہ داری، بیوی کے حقوق اور حسنِ اخلاق کی تربیت دی جائے۔
نتیجہ
میو قوم میں طلاقوں کا بڑھتا ہوا رجحان ایک خطرے کی گھنٹی ہے۔ یہ صرف چند گھروں کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری قوم کے خاندانی نظام، اخلاقی بنیادوں اور مستقبل کی نسلوں کا مسئلہ ہے۔ طلاق کے اسباب میں معاشرتی ناہمواریاں، جہیز کی بڑھتی ہوئی فرمائش، عدم برداشت، تربیت کی کمی، معاشی دباؤ، خاندانی مداخلت، دینی شعور کی کمی، غلط رشتہ سازی، موبائل کا غلط استعمال، نشہ اور گھریلو تشدد سب شامل ہیں۔
اصلاح کا راستہ بھی واضح ہے: سادگی، تربیت، صبر، انصاف، دینی شعور، جہیز سے نفرت، بزرگوں کی حکمت، نوجوانوں کی رہنمائی، اور میاں بیوی کے درمیان محبت و احترام۔ میو قوم نے تاریخ میں بڑے بڑے بحرانوں کا مقابلہ کیا ہے؛ یہ خاندانی بحران بھی علم، اخلاق، دین اور اجتماعی اصلاح کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔ گھر بچانا صرف عورت کی ذمہ داری نہیں، صرف مرد کی ذمہ داری بھی نہیں؛ یہ دونوں خاندانوں، بزرگوں، علما، اساتذہ اور پوری برادری کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
