انجمن اتحاد و ترقی میوات۔ایک نئے دور میں۔کچھ آراء و تجاویز

0 comment 7 views
انجمن اتحاد و ترقی میوات۔ایک نئے دور میں۔کچھ آراء و تجاویز
انجمن اتحاد و ترقی میوات۔ایک نئے دور میں۔کچھ آراء و تجاویز

انجمن اتحاد و ترقی میوات۔ایک نئے دور میں۔
کچھ آراء و تجاویز
حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو۔
ایک دو دن سے انجمن اتحاد ترقی میوات کے صدر جناب شہزاد جواہر کی صدارت سے سبکدوشی۔اور جناب ممتاز شفیق میو کی عبوری صدر کے طورپر سوشل میڈیا پر مبارک بادو کی بھرمار ہے۔جناب شہزاد جواہر نفیس اور سلجھے ہوئے، تعلیم یافتہ انسان ہیں۔ان کے سوچنے کا انداز عام انسان سے

Advertisements

مختلف ہے۔
دستور دنیا ہے جانے والوں کو الوداع ،نئے آنے والوں کو مبارک باد دی جاتی ہے۔میو قوم تو سوشل میڈیا پر سوائے مبارک بادوں اور جنازوں کے اعلان کے شاہد کچھ کرنے کے موڈ میں نہیں ہے۔
نئے عبری صدر بھی باصلاحیت محنتی اور مخلص انسان ہیںمیو قوم کے لئےہمدردانہ جذابت رکھتے ہیں۔کچھ نہ کچھ کرنے کا عزم ہمہ وقت سر پر سوار رکھتے ہیں۔
میڈیا کے توسط سے عاملہ و دیگر انتظامیہ کے ناموں کی طویل فہرست بھی دیکھنے کو ملی۔سب ہی لوگ جانے پہنچانے ہیں۔عمومی طورپر یہ لو گ پچھلی کئی دیہائیوں سے کسی نہ کسی انداز میں دخیل و شریک معاملات رہے ہیں۔
کچھ باتیں ذہن میں آئیں ۔قوم کے سامنے حاضر ہیں۔ماننا نہ ماننا ان کی مرضی پر منحصر ہے ۔۔مجلس عاملہ و انتظامیہ۔اور الیکشن کمیشن میں شامل لوگوں نے حتی الوسع پہلی بھی جدو جہد کی تھی اب نئے عزم کے ساتھ میدان عمل میں اترے ہیں۔
سو فیصد کسی بھی انسان سے اتفاق کرنا ناممکن ہوتا ہے ۔ہر انسان اپنے خیالات و افکار کا قیدی ہوتا ہے۔جہاں تک ہماری معلومات ہیں۔انجمن اتحاد ترقی میوات پاکستان میں سب سے پرانی اور

نمائیندہ جماعت ہے ۔اس نے میو قوم کے تعارف میں ایک کردار ادا کیا ہے۔
اس وقت انجمن اتحاد ترقی میوات کے وجود یا اس کی کارکردگی کا سوال نہیں بات تو ہے بدکی ٹیکنیکل کالج کی تعمیر کی۔چو پچاس سالوں سے معلق ہے۔ابھی تک کوئی ایسی پالیسی وضع نہیں کی گئی کہ پرانی کوتاہیوں اور تساہمات کے ازالے کی کوئی تدبیر کی جاسکے۔
انجمن کا معاملہ میو قوم کی فلاح و فوز سے زیادہ انا پرستی۔دھڑے بندی۔اقرباء کی ٹسل بازی کا عملی ثبوت ملتا رہا ہے۔
عبوری باڈی میں شامل لوگوں کوکئی اقسام پر تقسیم کیا جاسکتا ہے۔
(1)عطیہ دہندہ۔(ڈونر) کے طورپر شریک لوگ۔جو عملی طورپر ایک دوسرے کو نیچا دکھاتے آئے ہیں۔۔ایک مانتا ہے تو دوسرا روٹھ جاتا ہے۔
(2)دوسرے ریٹائرڈ لوگ۔ جو قوم کی خدمت کا جذبہ ضرور رکھتے ہیں لیکن انہوں نے دوران سروس ایسی توجہ نہیں دکھائی جس کا اظہار اس وقت کیا جارہا ہے۔یہ طبقہ اپنی بقاء اور چوہدر میں زیادہ دلچسپی رکھتاہےکیونکہ عملاََ بے شمار مواقع ایسے آئے کہ شاندار خدمات سر انجام دے سکتے تھےلیکن خوئے قدیم کے عادی ہونے کی وجہ سے یس سر۔نو سر پر زیادہ یقین رکھتے ہیں۔
(3)تیسرا طبقہ وہ لوگ ہیں جو مالی طورپر زیادہ آسودہ نہیں لیکن قوم کا درد رکھتے ہیں ۔جہاں ضرورت پڑے اپنی حاضری یقینی بناتے ہیں۔
(4)چوتھے قسم کے لوگ زندہ باد مردہ باد والے ہیں۔یہ بنیادہ طورپر اپنی پسند کے لوگوں کے پلڑے میںاپنا وزن ڈالنے اور دھڑے کو کامیاب کرانے کو ہی میو قوم کی خدمت سمجھتے ہیں۔انہیں خانہ پوری کے طورپر شمار کیا جاسکتا ہے۔
بدوکی کالج شاید سالوں سے اس لئے التوا کا شکار ہے کہ یہاں کچھ لوگوں کی انا کا مسئلہ ہے۔امید ہے یہ مسئلہ آج بھی پوری آب و تاب سے موجود رہے گا۔کیونکہ انجمن کا وجود ہی بدکی کالج والی زمین سے مشروط ہے۔اس میں جس قدر الجھائو اور انا آچکی ہے ۔ایک الیکشن کی پچاس الیکشن بھی ہوجائیں تو ۔نتیجہ ڈھاک کے وہی تین پات۔
کچھ تجاویز۔
(1) الیکشن سے پہلے غیر متعلقہ افراد پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی جائے جو اس بات کی تحقیق کرے کہ پچاس سال کیوں ضائع ہوئے؟
(2)وہ نقائص تلاش کئے جائیں جو کمزوری بن کرآگے بڑھنے اور عملی اقدام اٹھانے سے مانع رہے۔
(3)آج تک جن لوگوں نے جس انداز میں خدمات سرانجام دی ہیں ان کی لسٹ جاری کی جائے ۔تاکہ میو قوم جاسکے کہ ۔گمنامی کی حالت میں کونسے مخلصین نےخدمات سرانجام دی ہیں۔اک وائٹ پیپر کی شکل میں رپورٹ بناکر میو قوم کے سامنے سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کردی جائے۔
(4)ایسی پالیسز تشکیل دی جائیںکہ جن پر عمل پیرا ہوکر پرانی غلطیاں نہ دھرائی جائیں
(5)نوجوان نسل کے نمائیدہ کمیٹی میں شامل کئے جائیں ۔میڈیا اس میں اپنا مثبت کردار ادا کرے۔
(6)کوئی ڈیجیٹل پلیٹ فارم ایسا ہونا چاہئےکہ اس پر ہر کوئی اپنی رائے اور مشورہ کے اظہار کرسکے۔
(7)عہدہ داروں کو اپنے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ماہانہ یا سہ ماہی طورپر ہر ممبر اور عہدہ دار اپنی رپورٹ پورٹل پر شائع کرنے کا پابند ہومسلسل تین چار ماہ غیر فعال رہنے کی صورت میں سسٹم کے تحت نئے لوگ اس کی جگہ لے لیں۔
(8)پورے سسٹم کو ڈیجیٹلائز کردیا جائےہر فیصلہ اپ لوڈ ہو۔ہر پالیسی پبلک کردی جائے اکائونٹ اور حساب کتاب کم از کم ماہانہ طور پر ویب سائٹ کی زینت بنادیا جائے
میو قوم کی طرف سے جو آراء و تجاویز سامنے آئیں انہیں عاملہ کے اجلاس میں ایجنڈا کے طورپر ڈیسکس کیا جائے۔
(9)یہ ایک بڑا پروجیکٹ ہے ۔کسی فرد واحد کے بس کی بات نہیں ہے۔اس لئے آن لائن ایسا سسٹم بنایا جائے۔کوئی ایک روپیہ بھی حصہ ڈالنا چاہے تو اس کا حساب شفاف طریقے سے انٹر نیٹ پر موجود ہو۔دنیا بھر میں کوئی بھی کسی بھی جگہ سے اپنی دی ہوئی رقم کا حساب دیکھ سکے۔
(10)عہدہ اپنے فن میں ماہر شخص کو منتخب کیا جائے۔جو جس فن میں مہارت رکھتا ہو۔اسی شعبہ میں اس کا انتخاب کیا جائےیعنی اگر کوئی ماہر تعلیم ہے۔یا ماہر تعمیرات یا حساسب و کتاب میں خدمات سرانجام دے چکا ہے۔ایسےجوانوں کو منتخب کیا جائے۔صرف چوہدری ہونا ۔یا ریٹائرڈ ہونا کسی قابلیت کی دلیل نہیں ہے۔البتہ اگر کسی فن میں وہ محکمانہ خدمات اسی شعبہ میں سرانجام دے چکا ہے ۔تو حرج کی بات نہیں کہ ان کے تجربات سے فائدہ اٹھایا جائے۔
التبہ اضافی طورپر خدمات کوئی بھی سرانجام دے سکتا ہے۔
یہ دس نکات ہیں امید ہے اہل حل و عقد اس بارہ میں ضرور غور فرمائیں گے۔الیکشن میں کوئی بھی حصہ لے سکتا ہےلیکن اپنے گریبان میںضرور جھانک کر دیکھے جو عہدہ طلب کررہا ہے کیا اس بارہ میں سوجھ بھی رکھتا ہے۔یا وقت اور جذبہ موجود ہے؟
یہ باتیں قابل قبول بھی ہیں قابل عمل اور قابل نفاذ بھی لیکن اس وقت ۔جب قومی مفاد سامنے رکھا جائے۔اگر پہلے جیسی دھڑے بندے۔ٹانگ کھنچائی۔انا پرستی والی روایات دُہرانی ہیں تو چھوڑیں ۔یہ الیکشن جیسے چل رہا ہے۔چلنے دیں۔مجلس عاملہ عاملہ اور باڈی میں شامل لوگ پچاس سے اوپر کے ہیں بلکہ ساٹھ ستر سالہ زندگی گزار چکے ہیں۔ دوچار سال میںچپکے چپکے ایصال ثواب کے منتظر ہونگےممکن ہے آنے والی نسلوں میں کچھ لوگ اس حساس مسلے کوقومی مسئلہ سمجھ کر کچھ بہتر کرسکیں۔
خدا لگتی کہئے ۔جولوگ پچاس سالوں میں دو قدم نہ چل سکے۔آج ان کے وجود کا بوجھ ان کی ٹانگیں اٹھانے سے انکاری ہیں۔وہ اپنی روش اور عادات سےپیچھے ہٹنے اور نئی نسل کو آگے آنے سے خوف ذدہ ہیں ۔ پھر میو قوم کو اس وقت کا منتظر رہنا چاہئے۔جب اللہ آگے بڑھنے کے مواقع پیدا کردے۔
کیا جتنے لوگ شوری و عاملہ میں شامل ہیں ان میں سے آدھے لوگ بھی اس بات پر غور کرنے کے لئے آمادہ ہیں؟ کہ اتنے سال ضائع ہوئے اس کا سبب کیا تھا۔آیا وہ غلطیاں درست کرلی گئی ہیں؟۔یا وہ آج بھی موجود ہیں ۔اگر موجود ہیں تو پھر دس سال اور انتظار کیجئے۔تاکہ قانون قدرت حرکت میں آئے/وتلک الایام نداولہا بین الناس۔

Leave a Comment

Hakeem Muhammad Younas Shahid

Hakeem Muhammad Younas Shahid

Hakeem Muhammad Younas Shahid, the visionary mind behind Tibb4all, revolutionizes education and daily life enhancement in Pakistan. His passion for knowledge and unwavering community dedication inspire all who seek progress and enlightenment.

More About Me

Newsletter

Top Selling Multipurpose WP Theme