
میواتی ادب و تاریخ ترتیب۔اور مضامین کی آمد
حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو
آتے ہیں غیب سے یہ مضامیں خیال میں
غالبؔ صریرِ خامہ نوائے سروش ہے
میواتی ادب لکھنو میرے مارے خدا نے آسان کردئیو ہے۔ہمہ دانی کو دعویٰ نہ ہے۔لیکن اتنی بات ضرور ہے جب لکھن بیٹھوہوں تو مضامین اور عبارات کی لائن لگ جاوے ہے۔قدرتی طورپےایسا مضامین ذہن میں القاء ہووا ہاں کہ یاسو پہلے کدی وہم و گمان بھی ان کو گذر نہ ہو۔نہ یابارہ میں لکھن پے طبیعت آمادہ ہی۔لیکن مضامین کو القاء بسااوقات اتنو گھنو ہوجاوے ہے کہ اصل

مضمون ثانوی حیثیت اختیار کرجاوے ہے۔
کدی مدی کائی مضمون کے مارے کتابن کو مطالعہ کرنے پڑے ہے مطلب کی بات کدی تو فورا ہی مل جاوے ہے کدی کئی کئی سو صفحات کا مطالعہ سو بھی اطمنان نہ ہووے ہے۔لیکن یہی مطالعہ جب مضامین کو القاء ہووے ہے تو ایسے لگے ہے کہ فلاں وقت جو کتابن کی ورق گردانی کری ہی۔شاڑتو ڑے وہد آج کا مضمون کے مارے ہی۔
اللہ کو خاص کرم ہے جب لکھن بیٹھو ہوں تو متعلقہ حوالہ جات ذہن میں ایسے اُمنڈا ہاں جیسے کوئی فوارہ تیزی سو ابل رو ہوئے۔
فیض احمد فیض کہوے ہے
دل میں اب یوں تیرے بھولے ہوئے غم آتے ہیں
جیسے بچھڑے ہوئے کعبے میں صنم آتے ہیں

یا چیز سو کدی کدی پریشانی بھی ہوجاوے ہے کہ جا مضمون اے لکھ بیٹھو ہوں،اُو پیچھے رہ جاوے ہے۔جا مضمون کا بارہ القائی کیفیت طاری ہووے ہے۔اُو آگے بڑھ جاوے ہے۔
یادوران دماغ و قلم معمول سو کہیں تیز چلن لگ پڑا ہاں۔مختصر وقت میں اتنو گھنو لکھ دو ہوں عام حالات میں اتنا سوچنا سو بھی طبیعت پے گرانی محسوس ہون لگ جاوے ہے۔
یہی وجہ ہے کہ جب میں اپنا پرانا فولڈر ن نے دیکھوں ہوں تو ایسا مضامین۔بلکہ کتابن کو مکمل لے آئوٹ ملے ہے اگر شعوری انداز میں ایسو پیٹر تیار کرنو پڑے تو سوچ و بچار میں کئی گھنٹہ بلکہ کئی دن لگ سکاہاں ۔لیکن جب ای کیفیت طاری ہووے ہے تو مختصر وقت میں اتنا کام سِمٹے ہے کہ

میں یاکی کوئی توجیح بیان کرن سو قاصر ہوں۔
اگر یا دوران کائی وجہ سو اٹھنو پڑجائے یعنی تسلسل ٹوٹ جائے۔بعد میں لاکھ کوشش کروں ایسو ربط پیدا ہووے ای نہ ہے۔ کئی کتاب جن کو لے آئوٹ اور فارمیٹ اور موضوع ایسو چنیدہ اور نرالو رہوے ہے کہ موئے خود حیرانی ہووے ہے کہ ای کیسے ممکن ہوسکو۔؟
مرزا غالب کہوے ہے
کبھی اے حقیقتِ منتظر نظر آ لباسِ مجاز میںکہ
ہزاروں سجدے تڑپ رہے ہیں مری جبینِ نیاز میں
یہ ساری بات کائی بزرگی یا کائی تفوق کی وجہ سو نہ لکھ رو ہوں۔بلکہ میں بتانو چاہ رو ہوں کہ میرے ساتھ ایسو ہووے ہے۔کدی مدی ایسو بھی ہووے ہے کہ یادداشت کے مارے کچھ باتن نے الگ سو لکھ دئیو ہوں۔وا وقت مضامین کی مکمل ترتیب ذہن میں رہوے ہے۔لیکن جب ای کیفیت زائل ہووے ہے تو لاکھ کوشش کروں یہ مضامین متفرقہ یکجا ہووا ای نہ ہاں۔
بحمد اللہ بچپن سو کتاب و قلم سو لگائو رہو ہے۔سفر وحضر میں کاغذ۔قلم۔اور کتاب ساتھ رہوے ہی۔ سرہائے ان چیزن کو موجود ہونو گویا کہ معمولات شب و روز میں داخل ہو۔ایسو بھی وقت آجاوے ہے کہ سوتا کی اچانک آنکھ کھلی۔بدن پورا طریقہ سو چاک و چوبند ۔کوئی سستی کاہلی نہ ۔قلم اٹھائیو لکھنو شروع کردئیو۔جب تک مضمون سمیٹ نہ لئیو یا حالت سو باہر نہ آسکو ۔دھیرئیں جب سرہانے اتنو کچھ لکھو ملتو تو حیرت ہووے ہی۔لیکن ذہن میںہلکی سے یاد ٹمٹماوے ہی کہ ای تینے ای رات میں لکھو۔پھر میری لکھائی میں میرا سرہانہ کے نیچے۔یہ مضامین ملے ہا تو عادت سی ہوگئی ہی۔کہ ایسو بھی ہوسکے ہے۔طب و عملیات اور تاریخ و ادب کا موضوع پے میرا بہترین کالم

و مضامین ان ہی کیفیات میں لکھا گیا ہا۔
ایسو بھی کئی بار ہووے ہو اب بھی کدی مدی ہوجاوے ہے کہ اچھو بھلو چل پھر رو ہوں یا دوست احباب،گھر والان سے بات چیت کررو ہوں۔طبیعت ایسی بوجھل ہووے ہے۔کہ نیند بہت زیادہ غلبہ پاری ہے۔مجبورا موئے لیٹنو پڑے ہے۔
ای نیند چند منٹ کی رہوے ہے۔پھر آنکھ کھل جاوے ہے۔میں لیٹو رہنو بھی چاہوں تو کڑی اے بستر پے نہ ٹہرا سکوہوں۔لازمی اٹھنو پڑے ہے،
یا چند منٹ کی نیند میں کچھ ایسا مضامین۔یا زندگی سو منسوب کچھ واقعات جن کو میری ذات یا میرا متعلقین میں سو تعلق ہوئے۔سیندک دکھائی دیواہاں۔گویا کہ بعد میں رونما ہون والو واقعہ موکو پہلے دکھائی دئیو جاوے ہے۔ضروری نہ ہے کہ ہر واقعہ کا بارہ میں ایسو ہوتو ہوئے۔لیکن کچھ واقعات میں ایسو ہووے ہے۔حیرت انگیز طور پے۔جو دکھائی دئیو ہوبہو ایسے ای ہووے ہے۔
لیکن میری زندگی کا رکھ رکھائو میں ان کیفیات کو بہت عمل دخل ہےمثلا ایک تعلق دار ہے واسو بہترین مراسم اور معاملات ہاں۔کائی قسم کو کوئی وہم شبہ و شبہ ۔تعلق میں دراڑ کو وہم بھی نہ رہوے ہے۔موئے ان تعلقاتن سو بہت سی توقعات وابسطہ رہوا ہاں۔لیکن میں روک دئیو جائو ہوں۔ای سب کچھ میری سمجھ سو بالاتر رہوے ہے۔البتہ کچھ وقت کے بعد جو کچھ دیکھو رہوے ہے۔ہو بہو

ہوجاوے ہے۔
شاید یہی وجہ ہے کہ دنیاوی طورپے بہترین تعلقات یامارے روک دیا گیا کہ طبیعت کو میلاپ ختم ہوکے رہ گئیو۔زندگی میں بہترین دوست ۔اور تعلق دار ایسا بھی ہاں۔بلاسبب رُک گیا۔لیکن بعد کا حالات نے ثابت کرو کہ تعلقات کو ای تعلق میرے مارے رحمت ثابت ہوئیو۔
دنیاوے لحاظ سو ایسا لوگ اچانک زندگی میں آیا جن کا بارہ میں عام آدمی سوچ بھی نہ سکے ہے۔ یہ تعلقات مخصوص مدت تک چلا۔پھر اچانک راستہ جدا ہوئیو۔وے لوگ جن کا بارہ تاثر ایسو ہو کہ ان کے بغیر زندگی ادھوری ہے ۔وے جب زندگی سو بے دخل ہویاتو پتو چلو کہ قدرت یاسو آگے کچھ کرنو چاہ ری ہے۔
کچھ لوگ ایسا آیا ان کا توسط سو وے کام ہویا جن کی توقع بھی نہ کری جاسکے ہی۔جن ان کی ضرورت نہ رہی تو بغیر کائی لڑائی جھگڑا۔اور کشیدگی کے راستہ الگ ہوگیا۔
موئے اب ایسو لگن لگ پڑو ہے کہ قدرت جب موسو کوئی کام لینو چاوے ہے تو واکا اسباب۔واسو متعلقہ افراد۔وسائل اور ضرورت کی ساری چیز لین باندھ کے باری باری چلی آواہاں۔جب کام ہورو ہوجائے تو مستعار چیز سب واپس لے لی جاواہاں۔ان میں نفع و نقصان کی بحث ثانوی حیثیت راکھے ہے۔موئے تو اپنی طبیعت کے خلاف رونما ہون والی ہر چیز میں اللہ کی حکمت محسوس ہووے ہے۔جو کچھ بھی خلاف طبع ہووے ہے زبان سو بے اختیار نکلے ہے بہتر ہوئیو۔اللہ کا مہیں سو یامیں خیر ہوئے گی،حقیقت میں خیر ہی کی شکل نمایاں ہوجاوے ہے۔
اب طبیعت میں ایسو ٹہرائو ہے۔کہ پوری کائینات کا بارہ میں ایسے لگے ہے جیسے سب کچھ میرا فائدہ اور ضرورت کے مارے بنائی گئی ہے۔جو کچھ رونما ہووے ہے،وا وقت میری عقل کام کرے نہ کرے۔سمجھ میں آوے یا نہ آوے لیکن جو بھی ہووے ہے اُو بہتری کے مارے ہووے ہے۔رہی بات ذاتی نفع اور رغبت کی تو ان کی حیثیت و حقیقت یاسو زیادہ کہا ہوسکے ہے ۔ایک معمولی عقل سے لامتناہی سلسلہ اے ناپن کی کوشش رہوے ہے۔کاملات میں ناقصات کی حقیقت کہا ہوسکے ہے۔
ضروری نہ ہے کہ ہر وقت طبیعت میں انبساط و روانگی رہتی ہوئے۔کدی کدی انقباض بھی اتنی شدت اختیار کرجاوے ہے۔مضامین لکھنو اور مختلف معاملات پے خامہ فرسائی تو رہی ایک گھاں کو۔اپنو نام تک لکھنو مشکل ہوجاوے ہے۔ایسو بند لگے ہے کہ واکا اثرات میرا چہرہ مہرہ سو لیکے چال ڈھال تک میں نمایاں دکھائی دیوے ہے۔دوست چاحبات گھر والا۔متعلقین سبن سو بے زاری ۔لیکن ای گھٹن ایسی رہوے ہے جیسے برسات سو پہلے فضاء میں گھٹن پیدا ہووے ہے۔واسو پیچھے موسلا دھار بارش برسے ہے۔
جب انقباض انبساط سو بدلے ہے تو۔نت نیا مضامین خیالات میں ندرت۔طبیعت میں فرحت و تازگی۔اور چال ڈھال میں چستی پھرتی انگ انگ میں توانائی کی ایک لہر محسوس ہووے ہے۔کام کی رفتار بے تھکان اتنی زیادہ ہوجاوے ہے۔عام حالات میں ایسو کچھ دکھائی نہ دیوے ہے
