نئی نسل کی آبیاری۔پرانان کی حوصلہ افزائی۔

0 comment 76 views
نئی نسل کی آبیاری۔پرانان کی حوصلہ افزائی۔
نئی نسل کی آبیاری۔پرانان کی حوصلہ افزائی۔

نئی نسل کی آبیاری۔پرانان کی حوصلہ افزائی۔
حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو۔
انسانی زندگی میں چاہے اوُ کتنی بھی کم یا مختصر ہوئے۔بہت سا اُتار چڑھائو آواہاں۔کدی ایسی من پسند چیز دیکھن کو ملا ہاں کہ انسان اپناآے سب سو خوش قسمت سمجھے ہے۔
کدی مدی ایسو انقباض آوے ہے کہ سب کچھ ہوتے ہوئے بھی انسان گُھٹو گھٹو رہوے ہے۔۔
ساری نعمت ہونا کے باوجود زندگی بے مزہ سی دکھائی دیوے ہے۔
پڑھن پڑھان کو سلسلہ تقریبا چالیس سال سو گھنا کی مدت راکھے ہے پہلے خود پڑھتا رہا ۔
اللہ کی کرنی ایسی ہوئی کہ پھر خود استاد بننا کی توفیق ملی۔
پہلے کتابن نےپڑھے یا۔پھر اللہ نے خود صاحب کتاب بنادیا۔
یا چالیس سالہ تعلیم و تعلم کی زندگی میں دن رات بدلائو دیکھا۔

Advertisements

ایک کتاب سو دوسری کتاب پڑھنے پے نئیو تجربہ ملو۔مزید آگے بڑھن کی اُمنگ پیدا ہوئی۔
ایک نظریہ اور سوچ سو دوسری میں چھلانگ لگتی رہی۔کتابن کی دنیا میں ایسا لوگن سو بھی ملنو پڑو۔جو مہذبیا اعتقادی دنیا میں مجرم قرار دے کے پابند سلال کردیا گیا۔۔جن کی کتاب پڑھنو۔ایمان سو ہاتھ دھونو شمنار ہووے ہے۔
یعنی ہم نے کتابی دنیا میں ایسا سفر کرا جو معاشرہ کے محافظن نے ممنوع قرارد یا ۔لیکن سچی بات ای ہے،جو بات اور نزدگی کو مشاہدہ،اور حقائق سو قربت یا ممنوعہ علاقہ میں ملی۔واسو مہذب دنیا بالکل فارغ اور تہی دست ہی۔
جب انسان کو جھاکو کھل جاوے ہے تو کائی بھی کام اے کئی بار کرے تو پریشانی نہ ہووے ہے۔
ہم نے مسلکی مذہبی اور وقتی طورپے قانونا تادیبی کتب کی مدد سو ایسی دنیا کی سیر کری،جنن نے زندگی کا مشاہدات فطری انداز میں

پیش کرا ہا۔
ان کتب کی مخالفت شاہد یائی بنیاد پے کری گئی ہی کہ اگر لوگ ایسی کتابن نے پڑھنگا تو چوہدر۔پیشوائی۔تقدس کو لبادہ تار تار ہوجائے گو۔ یامارے اُنن نے اپنی اپنی ڈومین میں رہتے ہوئے وے کتاب ہی گمراہی کوسبب قرار دیدی،جن سو سوچ سمجھ میں اضافہ ہوسکے ہو۔
یہی صورت حال تعلیم اور نظام تعلیم کو بھی ہو۔
مدارس و سکول و کالجز ہوواں یا یونیورسٹی کی تعلیم۔یہ سب ایسی انداز میں ترتیب دی گئی ہاں کہ سوائے انسانیت کی تذلیل کے کچھ حاصل نہ ہوسکے۔


سکول و کالجز کی تعلیم کو منتہائے نظر ایک ملازمت اور فرمانبردار جی حضوری طبقہ کی پروڈییکشن ہی۔ایک معاشرتی تقسیم ہی۔
کہ جو یاسو وابسطہ ہوجائے گو۔اُو مہذب ہے ،پڑھو لکھو ،ایک نخوت بھرو دماغ ہے،
جا کے نزدیک اپنا سو بڑو عہدہ دار تو قابل توجہ ہے،چھوٹان کا کوئی حقوق نہ ہاں۔
یعنی ایک سرکاری نوکر۔ایک ایسی ڈومین میں جاداخل ہووے ہے۔
جہاں اپنے سوا کوئی انسان دکھائی نہ دیوے ہے،حلال و حرام سب ہڑپ،اور وائے نظام کو حصہ قرار دے کے جواز مہیا کرے ہے۔
یہی حال مدارس و مساجد کو نظام ہے۔
جو دین ۔۔۔لیظہرہ علی الدین کلہ۔ کو نعرہ لاگاوے ہو۔
اُو ایک مسلک ۔ایک مسجد ایک مکتب فکر کی ادھوری سوچ کا دائرہ میں تڑپتو ،پھڑکتو رہ گئیو۔
۔سوال کرنو گستاخی۔سر سجھانو سعادت مندی۔بڑان کا ہاتھ چومنا۔گردن جھکانو۔عین ادب۔
۔سوال کرنو۔تحقیق کرنو۔کائی دوسرا کی کتاب کو مطالعہ کرنو،کائی دوسرا کی مسجد میں جانو۔کائی کی تفسیر و ترجمہ پڑھنو سب کا سب گمراہی ۔اورمال دار،وسائل پے قابض لوگن کے مارے فضائل۔غریبن کے مارے وعیدن کا انبار۔
سب کچھ یائی نظام کو حصہ ہے۔
دین اور مذہب میں زمین آسمان کو فرق ہے۔
عمومی طورپے مسلک یا مذہب پڑھائیو ،سکھائیو جاوے ہے۔دین تو بتائیو ای نہ جاوے ہے۔
نوں سمجھ لئیو ۔دنیاوے طورپے قانون ایسی موم کی ناک ہے جو مالدار،اور عہدہ دار کے آگے اورمرضی سو ٹیڑھی یا سیدھی ہوسکے ہے،
یہی حال مذٰہبی لوگن کو ہے کہ کوئی بھی مسلہ اور کوئی بھی شرعی حدود بتان والی کی مرضی پے منحصر ہے۔۔۔
۔دینی مزاج سو گھنو،ذاتی رجحان کام کرے ہے۔ کتاب اپنا مسلک کی پڑھنی۔جمعہ اپنی مسلک کی مسجد میں ۔نکاح و طلاق۔چندہ۔مالی معاونت۔سب خاص طبقہ کی مرضی کے مطابق ہونو۔سمجھائیو جاوے ہے کہ یہی منشائے خداوندی ہے۔
دونوں نظام تعلیمات میں۔وقت کی ضرورت کے مطابق بہتری پیدا کرنو۔
ایک کچرہ کے بجائے ایک فعال و کار آمد نسل پیدا کرنو بےکار محض ہے۔
قسم کھائی ہے دونوں طبقات نے کہ کوئی ڈھنگ کو بروقت فیصلہ نہ کرنو۔جب وقت نکل جائے تو سانپ کی لکیر پیٹنو۔
پہچھلا چند دنن میں کئی ایک سکولز کی رزلٹ سرمنی میں شرکت کری۔بلکہ بلائیو گئیو۔
میں نے دیکھو چھوٹا چھوٹا سا بچہ بہترین انداز مختلف کردارن نے ادا کرراہاں ۔
مخصوص جملہ جو ان کا اساتذہ نے سکھایا خوبصورت اتار چڑھائو سو ادا کرراہاں۔ا
ن کو جو کردار ادا کرنی ذمہ داری لگائی گئی ہے بہتر انداز میں پرفارمس دے راہاں۔
میرو سوچن کو اپنو انداز ہے۔میری نگاہ کے سامنے ای خام مال ایسو ہو کہ اگر یاکو مشکل سو مشکل چیز بھی یاکا من پسند طریقہ سو دی جائے تو بہتر انداز میں وائے کرسکے ہے۔
موئے یہ بچہ ایجنٹک ربوٹ دکھا دے رہا ۔اگر ان کو بہتر کمان دی جائے۔ان کو بہتر سوفٹ وئیر دئیو جائے تو ان سو کچھ بھی کرایو جاسکے ہے۔
دس پندرہ سال کے بعد جب یہ بچہ یا نظام تعلیم اے بظاہر مکمل کرلینگا تو ان کا ہاتھ میں ایک کاغذ کو ٹکرو ہوئیگو۔
جائے دکھا دکھا کے نوکری مانگنگا۔کہیں نوکری مل گئی تو تعلیم یافتہ اور سلجھا ہویا کہلانگا،،
نہین تو گلی محلان میں دیہاڑی مزدوری کے مارے مارا مارا پھرنگا۔
کیونکہ یہ دونوں نظام تعلیم۔ایک ایسی پروڈیکشن مشین ہاں ۔
جو ایسی پروڈیکٹ تیار کررا ہاںجن کی معاشرہ میں کھپت ای نہ ہے۔
یاسو آدھی محنت اور چوتھائی وقت میں ایسی تعلیم و سکلز دے سکاہاں۔
جن سو ایک دو سال میں یہ بچہ تعلیمی سفر کے ساتھ ساتھ اپنا غریب والدین کے مارے بہترین انکم جنریٹ کرسکاہاں۔۔
بات ہوری ہی رزلٹ سرمنی کی ایک ایک دن میں کئی کئی پروگرامز کی حاضری ہے۔
بچان کے ساتھ ساتھ موکو بھی مہمان خصوصی(چیف گیسٹ) کی شیلڈ دی جاوے ہے۔
اللہ کی شان کہ ان کو خیال ہے کہ میں نے کتاب لکھی ہاں ۔
نیا خیالا ت لوگن کے مارے پیش کراہاں ۔قوم کی قلمی خدمت بہت کری ہے۔
تم کو ایوارڈ دینو ہمارے مارے اعزاز کی بات ہے ۔۔
یاسو ہم اللہ کی قدرت ہی کہہ سکاہاں۔۔اور اللہ کو شکر ادا کرسکاہاں
کہ چلو کوئی نہ کوئی تو ہماری بات اے مانے ،پڑھے اور سنے ہے۔۔۔واللہ الحمد۔

Leave a Comment

Hakeem Muhammad Younas Shahid

Hakeem Muhammad Younas Shahid

Hakeem Muhammad Younas Shahid, the visionary mind behind Tibb4all, revolutionizes education and daily life enhancement in Pakistan. His passion for knowledge and unwavering community dedication inspire all who seek progress and enlightenment.

More About Me

Newsletter

Top Selling Multipurpose WP Theme