
میو قوم تعلیمی لحاظ سے آگے کیوں نہ سکی؟
حکیم المیوات قات قاری محمد یونس شاہد میو
(سب سے پہلے تو میں ان لوگوں ا شکر گزار ہوں جنہوں میری کل کی تحریر کو پڑھا،میری ایک بھول پر تنبیہ کی،میری تحریر میں مولانا حسن جان تھا۔جب کہ ٹھیک نام احمد جان تھا۔میں نےاپنی تحریر میں تصحیح کرلی ہے۔مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ میری قوم کےلوگ میری تحریروں کا مطالعہ کرتے ہیں۔ لکھنے کا مقصد بھی مافی الضمیر کو تحریر کے توسط سے لوگوں کے سامنے پیش کرنا ہے)
تقسیم ہند کے وقت میو قوم میں کم پڑھے لکھے لوگ موجود تھے۔بلاشبہ جنہوں نے اس دور میں اپنے قلمی جوہر میو قوم کے لئے وقف کئے اور اپنی جیب سے زرکثیر صف کرکے میو قوم کے سامنے اپنا مثبت کردار پیش کیا ۔بلا شبہ ان لوگون کا حق بنتا ہے کہ میو قوم کی آنے والی نسلیںبھی ان کا شکریہ ادا کریں۔ان کی لکھی ہوئی تحریروں کو اپنی لائبریر کا حصہ بنائیں۔ان کی اشاعت کریں۔
اگر دیکھا جائے تو میو قوم کے کسی فرد نے ان لوگوں پر کم ہی لکھا ہے کہ قیام پاکستان سے لیکر اب تک کتنے لکھاری ادیب۔شاعر اورنثر نگار ،مورخ۔اور قلم کار ہوئے ہیں ؟۔
ان لوگوں میں کچھ نمایاں نام ہیںجیسے کمال الدین سالار پوری۔شیر چوہدری۔یاسین باگھوڑوی۔ جو اس وقت ہم میں موجود نہیںکچھ لوگ اب بھی ہیں جیسے سکندر سہراب۔قیس چوہدری۔غلام نبی۔احمد فہیم۔نواب ناظم۔سردار عظیم اللہ مفتی حامد محمود راجہ جیسے بے شمار لوگ۔انہوں نے بہت کام کیا۔قوم کو ان کی محنت کی داد دینی پڑے گی۔ان میں بہت سے لوگ وہ بھی ہیں جنہیں میں نہیں جانتا۔جن کا کام چھپ نہ سکا۔ان کی محنت قوم سے اوجھل رہی۔
پڑھنے والوں میں بہت سے لوگ بہت سے ایسے لوگوں کو جانتے ہونگے جنہوں نے قلمی خدمات سر انجام دیں وہ قوم کے سامنے نہ آسکیں،یا اس وقت ہمارے ذہن سے اترچکی ہیں۔ایسے لوگوں کا علم ہو تو ضرور مطلع کریں تاکہ ان کی تحریروں کو اور ان کی قلمی خدمات کو محفوظ کیا جاسکے۔
میو قوم کے نام پر بنے کئی ادارے میواتی ادب و تاریخ پر کام کررہے ہیں۔ان کی کاوشیں بھی قابل داد ہیں۔ان اداروں میں۔میواتی دنیا۔فینکشن ہائوس۔سعد ورچوئل سکلز پاکستان۔میواتی ہرٹیج ایند کلچرل اسلام آباد،پاکستان میو اتحاد۔ادارہ البیان۔میو انٹر نیشنل سکول قصور۔سسٹم پنلیکیشر۔یہ چند ادرے کسی نہ کسی درجے میں کام کررہے ہیں۔
ان کے علاوہ پرنٹ میڈیا۔الیکٹرک میڈیا۔سوشل میڈیا پر بہت سے لوگ للہ فی اللہ اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ہر ایک قابل تکریم ہے ان کی خدمات میو قوم کے لئے کسی تحفہ سے کم نہیں۔
جب ہم نے میو قوم کی تاریخ و ثقافت پر کام شروع کیا تو حیرت کی بات ہے دستیاب وسائل اور و معلومات اتنی کم تھیں کہ اتنی بڑی قوم کے لئے نہ ہونے کے برابر تھیں۔اس وقت مارکیٹ میں اگر سیاسی و سماجی خدمات کو سرہا جاتا ہے تو ادبی و علمی خدمات کو بھی اتنی ہی اہمیت دی جاتی ہے۔بلکہ ڈیٹا کی قدرو قیمت سیاست سے بھی بڑھ گئی ہے۔
اس وقت میو قوم کو ایک نئی صف بندی کی ضرورت ہے ۔ایسے مشترکہ کام کی جس میں ہر ایک کی کاوش کو سراہا جائے۔ہر کسی کو جائز مقام دیا جائے۔کیونکہ قوموں کی تاریخ سیاسی یا جنگی میدان میں ہی نہیں لکھی جاتیں۔بلکہ افکار و اقلام کی رفتار کو بھی مانپا جاتا ہے۔
