میو شناخت میں سیاسی لوگوں کی عدم دلچسپی

0 comment 5 views

میو شناخت میں سیاسی لوگوں کی عدم دلچسپی
حکیم المیوات قات قاری محمد یونس شاہد میو
تقسیم ہند کے وقت میو قوم کے کچھ لوگ سیاست میں عمل دخل رکھتے تھے لیکن حالات کی ستم ظریفی کہئے یا ان کی نجی مجبوریاں جس انداز میںمیو قوم کو رہنمائی کی ضرورت تھی اس انداز میں راہبری کرنے میں کامیابی دکھائی نہیں دیتی۔ایک لیڈر یا رہنما کو اس بات کا ادراک ہونا چاہئے کہ وقت اور حالات کا تقاضا کیا ہے؟حالات کس انداز میں رہنمائی چاہتے ہیں،قوم کی رہنمائی کی اہمیت اور ضرورت ہمہ وقت بدلتی رہتی ہے،سیاسی رہنماکو اپنے منصب کے لحاظ سے ہر وقت چاک و چوبند رہنا چاہئے تاکہ بروقت فیصلہ کرسکے کہ حالات کا رُخ کس بات کا تقاضا کررہے ہیں۔
میو قوم کے کئی سیاست ہندستانی سیاست میں اہم کردار کے حامل تھے۔میوات کا علاقہ دوسروں علاقوں سے اس لئے بھی منفرد تھا کہ یہاں کانگرس اور مسلم لیگ دونوں کوکی توجہ کا مرکزتھا۔سیاسی نمائیندوں کے طوپر دونوں جماعتوں نے میو رہنمائوں کو اپنا اپنا ٹکٹ دیا تھا۔ اتفاق سے ان دونوں میں سے مسلم لیگ کو کامیابی ملی اور کانگرسی رہنماشکست کھاگئے۔چوہدری یاسین خاں مرحوم اور مولانا حسن جان کے درمیان مقابلہ ہوا ۔مولانا جیت گئے جب کہ چوہدری یاسین خاں کامیاب نہ ہوسکے۔یعنی ایک نظام کا بدلائو تھا جسے میوات کی سیاست مین دکھاجاسکتا تھا۔
مولانا نے ہندستانی سیاست میں اہم کردار ادا کیا اور اس میمورنڈم پر دستخط فرمائے جو پاکستان کی بنیاد بنا۔اس میں شک نہیں کہ مولانا کو ایک مذہبی پیشوا کا درجہ حاصل تھا۔اور میو قوم مذہبی واقع ہوئی ہے۔سوندھ شریف کا میوات میںایک مذہبی تشخص تھا۔ مسلم لیگ نے شاید اس وقت بہتر فیصلہ دیا تھا کہ مولانا کو اپنا نمائیندہ مقرر کیا۔

Advertisements


اگر تاریخی طورپر دیکھا جائے تو میوات میں کانگریس کی جڑیں مسلم لیگ سے زیادہ گہری تھیں۔لیکن تحریک پاکستان میں مذہبی عنصر در آیا تھا۔دو قومی نظریہ کا طوطی سر چڑھ کے بول رہا تھا اس لئے قیام پاکستان سے ایک سال قبل ہونے والے الیکشن میں اس نعرہ نے میو قوم کے ذۃنوں میں بھی غیر معمولی تغیر پیدا کیا تھا،یوں کہہ سکتے ہیں قیام پاکستان کے وقت میوات میں سیاست سے زیادہ مذہب نے زور پکڑلیا تھا۔
کچھ خاندانوں نے اس وقت میوات کی سر زمین میں سیاسی میدان میں اہم کردار ادا کیا تھا۔لیکن میو قوم کو سیاسی شعور دینے میں کامیاب نہ ہوسکے۔ہندستان کی سرزمین میں کئی اتار چڑھائو آئے،میوات کی سرزمین حالات کا مقابلہ کرنے میں مشہور چلی آئی ہے۔اگر بغیر کسی لاگ لپیٹ کے کہا جائے تو میوات کی سرزمین کے رہنمائوں نے سیاسی بیداری پر جو کام کرنا چاہئے تھا وہ نہ کیا۔۔
تقسیم ہند کے وقت میو قوم کو سیاسی لحاظ سے اتنی سوجھ بوجھ نہ تھی کہ اپنے معاملات کے مطابق سیاسی فیصلہ کرسکتے،یہی وجہ ہے کہ میو قوم کے لوگ کسی نہ کسی انداز میں سیاسی میدان عمل میں رہے۔سیاسی لوگ ہی سیاست میں تھے میو قوم من الحیث القوم اس عمل سے بہت دور تھی۔سیاسی فیصلوں میں میو قوم کو الیکشن کی حد تک نعرہ نازی میں شامل کیا جاتا تھا۔لیکن فوائد اور سیاسی عمل سے میو قوم بہت دور تھی۔
میو قوم کے سیاسی رہنما ایسا نظام تشکیل نہ دے سکے کہ اپنی قوم کے لئے کوئی سیاسی مقام بنا سکیں۔البتہ میو قوم کی آبادی اور ووٹ بنک سے ان لوگوں کو سیاسی فائدہ ضرور ہوا ۔لیکن سیاسی لوگوں سے قوم کوخاطر خواہ فائدہ نہ پہنچ سکا۔ میو قوم جتنی تعداد میں ہجرت کرکے پاکستان آئی تھی اناسی سال ہونے کو آئے ابھی تک کسی ادارے یا شخصیات نے سیاسی شعور پیدا کرنے کے لئے کوئی منظم جدوجہد کرنے کی کوئی مثا ل قائم نہ کرسکے۔
حالانکہ میو قوم کے لوگ ایم این اے ،ایم اپی ایز بھی رہے ،اب بھی موجود ہیں۔انہوں نے طفیلی رہنے میں عافیت سمجھے کہ کسی نہ کسی جماعت کی چھتر چھاں میں رہتے ہوئے سیاسی فوائد حاصل کرسکیں۔میو قوم کا جوان یا میو قوم کو بحیثیت قوم سیاسی شعور ان کے منشور و دستور میں نہیں ہے۔شاید یہی وجہ ہے کئی دیہائیوں تک میو قوم کو مسائل میں الجھی رہی۔معاشی۔معاشرتی مسائل قانوں پیچیدگیاں، حقوق کا حصول تپتے ہوئے صحرا میں ٹھندے پانی کی بوند تھے۔اور سیاسی رہنمائوں کے مشکیزے پانی سے لبالب تھے۔اتنے لمبے عرصہ میں بھی رہنمالوگ قوم کے حلق سے ایک دو قطرے بھی نہ ٹپکاسکے ۔
قوم سوچ ہوتی قائدنہ کردار اپنا یا ہوتا تو میو قوم کی شناخت قومی سطح پر اتنی تارخیر سے نہ ہوتی۔ اس میں شک نہیں کہ ہر زمانے میں کچھ نہ کچھ لوگ ایسے بھی رہے ہیں جنہوں نے نفع و نقصان کی بحث میں پڑے بغیر وہ کام سرنجام دئے جو اداروں کے ہوا کرتے ہیں۔ہم یہ نہیں کہتے کہ سیاسی لوگوں نے اس طرف توجہ کیوں نہ دی؟تلاش بسیار کے باوجود ہمیں کوئی قوم سطح پر کارنامہ دکھائی نہ دیا کہ انہیں میو قوم کے رہنمائوں کا میو قوم کے لئے کی گئی کاوشوں کا نتیجہ قررار دیا جاسکے۔
سیاسی لوگ اور ہنما میں بنیادی فرق۔
عوام الناس شاہد اس باریک نکتہ کو نہ سمجھ سکیں۔کہ ایک لیڈر اور سیاسی انسان میں کیا فرق ہوتا ہے۔؟۔
ایک سیاسی کردار وقتی دھارے میں بہتاہے۔جہاں جیسے حالات ہوں ان کے مطابق اسے ڈھلنا پڑتا ہے۔سود و زیاں کا فیصلہ وقتی ہوتا ہے،اس لئے ہر سیاسی آدمی رہنما نہیں ہوتا۔
جب کہ لیڈر اور ہنما کا کردار وقت جھکائو سے زیادہ قومی مفاد اور اس کے کردار و افعال کے نتیجہ میں مرتب ہونے والے اثرات و نتائج کی طرف ہوتا ہے۔وقتی طورپر کچھ فیصلے بے جوڑ دکھائی دیتے ہیں۔لیکن آنے والے وقت میں ان کے اثرات قومی سطح پر شاندار ہوتے ہیں۔آنے والی نسلوں کے لئے یہ فیصلے ثمرہ مند ہوتے ہیں۔
جب غور کیا تو حالات کے چہرے سے پردہ سرکنا شروع ہوا،بالخصوص پندرہ بیس سال ایسے گزرے ہیں جن میں پاکستانی سیاست کو دیکھنے کا موقع ملا ان میں میو قوم کے سیاسی لوگ بھی موجود تھے جنہوں نے سیاسی لحاظ سے سیاست میں کردار بھی ادا کیا۔لیکن سچائی تو یہ ہے کہ سیاسی لوگ میو قوم کی انفرادیت اور شناخت اور الگ سے تشخص کو اپنی سیاسی زندگی کے ئے خطرہ محسوس کرتے ہیں۔ان کا خیال ہے اگر ہم نے میو قوم کا تشخص ابھارنے کی کوشش کی تو سیاسی طورپر نقصان ہوسکتا ہے،اس لئے سیاسی لوگوں نے میو قوم کا قوم تشخص ابھار نے کے لئے اسے دبانے میں عافیت محسوس کی۔آج بھی فعال کردار ایسے ہیں جو سیاسی طورپر میو قوم کو فائدہ پہنچا سکتے ہیں اجتماعیت کو فروغ دے سکتے ہیں لیکن ان کے ایجنڈے میں یہ بات شامل ہی نہیں ہے۔جب کہ دیکھا جائے تو میو قوم کو فائدہ پہنچانے کے بے شمار راستے اور طریقے ہیں اگر کام کرنا کی نیت ہو۔
جو آنا چاہو ہزار رستے، نہ آنا چاہو تو عذر لاکھوں ..
طویل رستہ، مزاج برہم، برستی بارش، خراب موسم۔
میو قومی شناخت کا سہرا سیاسی لوگوں سے زیادہ عام لوگوں کے سر جاتا ہے۔

Leave a Comment

Hakeem Muhammad Younas Shahid

Hakeem Muhammad Younas Shahid

Hakeem Muhammad Younas Shahid, the visionary mind behind Tibb4all, revolutionizes education and daily life enhancement in Pakistan. His passion for knowledge and unwavering community dedication inspire all who seek progress and enlightenment.

More About Me

Newsletter

Top Selling Multipurpose WP Theme