
میو برادری کا اکٹھ کی کوشش۔اللہ برکت دئے
حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو
جتنی بار ہم نے لوگن کا منہ سے ای بات سنی ہے کہ میوون نے اکھٹو ہونو چاہے۔ہم نے بھی یابارہ میں کئی بار لکھو ہے۔لیکن سوائے جذبات بھڑک کے ٹھنڈا ہونا کے کچھ خاص نتیجہ سامنے نہ آئیو۔یکجا ہونو اور مل بیٹھنو قدرت کو عظیم تحفہ ہے۔لیکن بہت کوشش کرن کے باوجود کم لوگ ہی یا تحفہ کا مستحق دکھائی دیا ہاں
کئی دنن سو سوشل میڈیا پے کچھ درد مند افراد کا مہیں سو مضامین اور پوسٹ شائع کری جاری

ہاںکہ جہاں تک ہوسکے میو اکٹھ کرلیواں۔
وٹس ایپ گروپس جو میو قوم کا نام پے بناہاں ،یا پھر میو قوم کی نمائیندگی کا دعوے دار ہاں۔
پاکستان میو اتحاد پنجاب کو کنوینیر ممتاز شفیق میو۔ شاہد نیاکی۔صوفی عرفان انجم،یا بارہ میں کافی سرگرم دکھائی دے را ہاں۔

گذشتہ کل میرے پئے صوفی عرفان انجم۔حافظ معاویہ۔شاہد میو نیاکی تشریف لایا۔جب موئے پتو چلو کہ صدائے میو کا چیف ایڈیٹر جناب حافظ سلمان طارق صاحب سو مل کے آراہاں تو گھنی خوشی ہوئی۔چلو کوئی تو ایسو ہوئے جو سبن کے پئے جائے،جہاں جائے سبن کی سُنے۔
ان لوگن کو کہا فارمیٹ ہے کونسا انداز میں میوون نے بھیلا کرن کی سوچ راہاں ؟کچھ سامنے نہ آسکو۔لیکن ان لوگن کی محنت سو لگے ہے کہ کچھ نہ کچھ کرنو چاہاں۔اللہ اِنن نے نظر بد سو بچائے ۔۔سچی بات تو ای ہے کہ میو حضرات اکٹھا ہونا ضروری نہ سمجھاہاں۔لیکن نیک نیتی سو جو بھی کوشش کری جائے۔واکو ضرور اجر ملے ہے۔
ہر کائی کی اپنی سوچ ہے۔ میں نے کئی سال یا میدان میں کام کرن کا تجربہ کی بنیاد پے کہہ سکوں ہوں کہ۔

جب تک پیپر ورک اور لکھائی پڑھائی کرکے کام نہ دکھائیو جائے۔
کائی بات میں کامیابی کو اصول بھی ای ہے کہ پہلے مکمل خاکہ تیار کرلئیو جاوے۔۔کیونکہ انسانی سوچ میں بدلائو آتو رہوے ہے۔نت نئی سوچ پرانی سوچ کی جگہ لیتی رہواہاں ۔لکھو ہوئے تو وامیں کمی یا اضافہ کرنو آسان رہوے ہے۔
بہر حال سوچ اچھی ہے اللہ برکت دئے۔لیکن اجتماعی سوچ کے مارے اجتماعی ضروریات اور اجتماعی مسائل کو ادراک ضروری ہے۔
جیسے جیسے یہ لوگ آگے بڑھتا جانگا۔ان کا تجربات وسیع ہوتا جانگا۔ ہر آن والو کل آج سو بہتر ثابت

ہوئے گو۔
میں بے ان کی بات سنی تو میرا دل مین بھی ان کے ساتھ چلن کی خواہش پیدا ہوئی۔
لیکن ان دنوں میں کتابن کی اشاعت میں لگو پڑو ہوں۔
یامارے دیگر امور کے مارے وقت کم نکل سکے ہے۔
ہماری دعا ان کے ساتھ ہاں ۔یاکے علاوہ جو بن سکو ۔کرن کے مارے حاضر ہاں۔
