
آئو! میو قوم کو۔میں۔ کالج بناکے دونگو؟
حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو۔
۔”ہر کام ناممکن رہوے ہے،جب تک پورو نہ ہوجائے”۔
۔آج جتنی بھی بات ممکن ہاں۔جب تک عملی شکل سامنے نہ ہی ،سب ناممکن ہاں”۔
میو قوم کی ترقی اور یائے آگے بڑھانا کی بات کدی مدی ہوتی رہواہاں۔
ای ہلکی پھلکی موسیقی کو پروگرام چلتو رہوے ہے۔
جب ہم نے کوئی بات نہ ملے ہے تو ٹیکنیکل ایجوکیشن اور ہنر مندی کاادارہ نہ ہونا کوراگ چھیڑ دئیو جاوے ہے۔
رات کا پچھلا پہر جب بیمارن نے بھی نیند آن لگ پڑے ہے تو ہلکی سی مدھر آواز میں موسیقی کی آواز کان کا پردہ سو ٹکراوے ہے ۔
کہ میو قوم پیچھے رہ گئی۔
ساتھ ہی پرانی فلمن کی طرح نمبر آنا شروع ہوجاواہاں۔اور پردہ سکرین پے۔
چند پوسٹ نمایاں ہوواہاں ۔
کہ فلاں کالج اگر بن جاتو ۔میو قوم عرش معلی پے پہنچ چکی ہوتی۔۔
مرغا بولے چند میو اٹھا ہاں ،اور اپنی رائے کو اظہار الزام تراشی۔ولیم دینو۔انگلی اٹھانا اے اپنو فرض سمجھاہاں۔

کمنٹس میں جلی بھنی بات لکھ دیواہاں۔پھر پوسٹ لگان والو۔
کمنٹس کرن والا اپنی رائے کا اظہار کرن والا ایک دوسرا کے ساتھ کھاٹ بچھاکے پھر سوجاواہاں ۔
یا ساری کارروائی کے بعد سمجھاہاں کہ ہم نے میو قوم کو فرض ادا کردئیو۔
پھر چند دن کے بعد یہی موسیقی چلنو شروع ہوجاوے ہے۔
نوں ہم دن رات میو قوم کو ترقی دوانا میں مصروف ہاں؟
میو قوم کے مارے کالج بنانو۔یا کوئی تعلیمی ادارہ قائم کرنو کوئی مشکل کام نہ ہے۔
جب کالج یا ادارہ کو نام آوے ہے تو ہم نے کام کرن والا لوگ ایسو محسوس ہوواہاں
کہ اِنن نے مانگن والا کا چوگہ پہن راکھاہاں۔اور گلی محلان میں صدا لگاتا دکھائی دیواہاں۔
۔جو دئے واکو بھی بھلو جو نہ دئے واکو بھی بھلو۔
گذشتہ کل میرا کالم کا رد عمل میں ڈاکٹر الیاس صاحب نے کچھ اظہار خیال کرو۔
واکو خلاصہ میو قوم کے سامنے بیان کرنو چاہوں۔
ٹیکنیکل کالج میو قوم کے مارے اتنی بڑی بات نہ ہے کہ یائے بطور ایشو قوم کے سامنے دھراں۔
ہمارے سامنے سینکڑوں مثال ایسا لوگن کی موجود ہاں ۔
جن میو قوم سپوتن نے کئی کئی کالج ذاتی دلچسپی کی بنیاد پے کھڑا کردیا۔
آج ان میں بلاشبہ ہزاروں بچہ زیر تعلیم ہاں۔گروپ آف کالجز کا قیام میں ان کو اہم کردار ہے۔
جن دِنن میں ڈاکٹر الیاس صاحب جیسا لوگ میو قوم میں متعارف ہویا
ان کی بڑی جدو جہد اور قرابنی ہاں،جیسا کہ وے اپنی زبانی بیان کراہاں۔
۔ایسو لگے ہے کہ میو قوم میں کوئی تحریک،کوئی۔سیاسی جماعت۔کوئی حرکت ایسی نہ ہے
جامیں ڈاکٹر صاحب اساسی ممبر یاکرتا دھرتان میں نہ ہوواں۔
واسو پیچھے جو بچہ پیدا ہویا انن نے اپنو مقام بنائیو۔کالجز کھولا ۔کاروبار کرو۔اور بھرپور زندگی گزاری۔
آج ان کو نام یا کام ڈاکٹر صاحب سو پہلے لئیو جاوے ہے۔
اتنو لمبو عرصہ میدان عمل میں رہنا کے باوجود کوئی ایسی بہی کھاتہ موجود نہ ہے جامیں کوئی کارنامہ کھلا الفاظ میں لکھو ہوئے۔
بات میو قوم میں کمی کی نہ ہے۔سوچنو ای پڑے گو کہ اتنا لمبا عرصۃ میں قائد انہ صلاحیت کو اظہار کیوں نہ ہوسکو؟۔
کونسی ایسی کمی ہے کہ نصف صدی سو گھنی گزر گئی لیکن ایک کام بھی ایسو نہ ہے جاکو زمینی طورپے کوئی وجود ہوئے۔
منہ کی بات ہاں ۔جتنی مرضی کرلئیو؟۔۔بات کرن میں خرچ تھوڑو آوے ہے؟
کوئی پلان ۔یا منصوبہ ایسو ہے جائے سینہ میں دبائے بیٹھا ہو
تو واراز اے اب قوم کے سامنے لادھرو ۔زندگی کو کہا بھروسہ۔سانس ہے آئے ،آئے۔نہ آئے۔
ڈاکٹر صاحب تو شاید دل کی بات نہ بتاسکاں ۔میں بتارو ہوں۔
ڈاکٹر صاحب موکو صرف سو آدمین کی لسٹ بناکے دیدیواں،کہ زندگی میں ان پے اعتماد ہے۔
موئے سو آدمی چاہاں۔چاہے وے بھوکا ننگا ای کیوں نہ ہوواں ،صرف ساتھ چل دیواں۔
میو قوم کو کالج کہا قطب مینار بناکے دینا کے مارے تیار ہوں۔
ٹھیک ہے میں اتنو ہی بڑو کالج بنانا کے مارے تیار ہوں،جتنو میو قوم کی سو چ میں ہے۔
تین کروڑ کی قوم میں سو صرف سو آدمی موکو دیدئیو۔میں تم کو کالج بنا دئینگو۔
طبیہ کالج۔کامرس کالج۔ٹیکنیکل کالج۔میڈیکل کالج۔جاشعبہ میں بھی چاہو ۔کالج بنادئینگو۔
آڑھائی تین کروڑ میو قوم میں سو صرف سو آدمی؟
بات کالج ،سیاسی جماعت۔ہنر مندی،رائج الوقت سکلز کی نہ ہے،بات وژن اور منصوبہ بندی کی ہے۔
ای جو وقت جارو ہے،یا میں ان لوازمات کی ضرورت ای نہ ہے
جن کا بارہ میں سوچ سوچ کے ہلکان ہوراہاں۔
سال 2026 کے لیے دنیا کی بہترین جامعات (Universities) کی فہرست QS World University Rankings اور Times Higher Education کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق درج ذیل ہے۔
عام طور پر QS رینکنگ کو عالمی سطح پر سب سے زیادہ معتبر مانا جاتا ہے، جس کے مطابق ٹاپ 10 جامعات یہ ہیں:
دنیا کی 10 بہترین جامعات (QS رینکنگ 2026)
1.میساچوسٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (MIT)امریکہ۔مسلسل 14 سال سے دنیا کی نمبر ون یونیورسٹی۔
2.امپیریل کالج لندن۔برطانیہ۔سائنس اور انجینئرنگ میں عالمی سطح پر ممتاز۔
3.اسٹینفورڈ یونیورسٹی۔امریکہ۔انوویشن اور انٹرپرینیورشپ کا گڑھ۔
4.یونیورسٹی آف آکسفورڈ۔برطانیہ۔دنیا کی قدیم ترین اور بہترین ریسرچ یونیورسٹی۔
5.ہارورڈ یونیورسٹی امریکہ۔دنیا کی امیر ترین اور باوقار یونیورسٹی۔
6.یونیورسٹی آف کیمبرج برطانیہ،عظیم سائنسدانوں (جیسے نیوٹن) کی مادر علمی۔
7.ای ٹی ایچ زیورخ (ETH Zurich)سوئٹزرلینڈ۔یورپ کی بہترین ٹیکنالوجی یونیورسٹی۔
8.نیشنل یونیورسٹی آف سنگاپور (NUS)سنگاپور۔ایشیا کی سب سے بہترین یونیورسٹی۔
9.یونیورسٹی کالج لندن (UCL)برطانیہ۔کثیر الشعبہ ریسرچ کے لیے مشہور۔
10.کیلیفورنیا انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (Caltech)امریکہ۔خلائی سائنس اور فزکس میں عالمی لیڈر۔
یہ سارا تعلیمی ادارہ آن لائن کورسز کروا راہاں۔
میو قوم ایسو کیوں نہ کراکے ہے کہ ان اداران سے کورسز کرواکے،اپنی قوم کے مارے بہترین اساتذہ مہیا کراجاواں
جن میں اے آئی سکلز بنیادی حیثیت راکھاہاں۔
یہ چیز میو قوم کی دسترس میں بھی ہاں۔۔لیکن اصل بات ای ہے کہ ہم لوگ پلاننگ سو عاری ہاں ۔
رول مچانا میں مہارت راکھاہاں۔
