
کہا میو قوم میں ہندوانہ رسومات موجود ہاں؟
حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو۔
میو قوم بتدریج ارتقائی مراحل سو گزرری ہے۔بہت سی بات وقت کے ساتھ ساتھ مٹتی جاری ہاں۔
بہت سی نئی بات شعوری و لاشعوری طورپے زندگی کو حصہ بنتی جاری ہاں۔
قانون فطرت کے ضرورت کی چیز باقی رہواہاں ۔غیر ضروری چیز فنا کے گھاٹ اترتی جاواہاں۔
ان میں انسانی خیالات۔انسانی زندگی کو رکھ رکھائو۔معاشرتی اتار چڑھائو۔
خوشی غمی میں رائج رسومات۔وغیرہ زندگی کا بہت سا رُخ ہاں۔
انسان اپنی خوشی تلاش کرے ہے ۔اپنا دُکھن نے بھولن کی کوشش کرے ہے۔
خوشی مواقع بہتر انداز میں گزارن کی خواہش راکھے ہے۔
آج کل ایک لفظ سُنن کو ملے ہے بیاہ شادین میں سو ہندوانہ رسومات ختم کرو۔
بیاہ شادی نے سادہ اور سنت کے مطابق کرو۔
نعرہ خوش کُن اور دلفریب ہے۔آج بھی کئی پوسٹ یا قسم کی میری نظرن سو گزری کہ ۔
بیاہ شادین میں ہندوانہ رسومات کو بائیکاٹ کرو۔
بنیادی طورپے جن رسوماتن نے ہم ہندوانہ کہواہاں ۔یہ کوئی ان کی مذہبی یا ہندو دھرم کاجزو لازم

نہ ہی۔
یہ رسومات مقامی اور رائج الوقت خوشی کا اظہار کے مارے رائج ہی۔
ان میں وقت کے ساتھ ساتھ بدلائو آتو رہو۔
پرانی چیزن کی جگہ نئی رسومات۔نئی جہت سامنے آتی رہی۔
دین کوئی بھی ہوئے۔واکا نظام میں تبدیلی نہ ہووے ہے۔
اگر تبدیلی آجائے تو اُو دین نہ رہوے ہے۔
میو قوم کی خوشی یا بیاہ بدون میں رسومات کائی مذہبی جنون،یا تبلیغی جذبہ کے ماتحت ادا نہ

کری جاواہاں۔
یہ تو صدین پرانی ریت و رواج ہاں۔جو ایک نسل سو دوسری نسل کا مہین منتقل ہوتی آئی ہاں۔
ہم نے دیکھو میو قوم میں بیاہ شادی،خوشی غمی کو اپنو انداز رہوے ہے۔
میوون میں ای نہ ہے ،بلکہ ہر قوم میں یہ ریتی رسومات یائی طرح چلی آواہاں۔
کائی بھی قوم اور معاشرہ کو جتنو نقصان ادھورا علم والا۔
یا جذباتی لوگ پہنچا واہاں اتنو تو دشمن بھی نہ پہنچا سکاہاں۔
مثلا دیکھو ہر کوئی کہہ رو ہے کہ بیاہ شادی مین ہندوانہ رسوماتن نے چھوڑ دئیو ۔
سادگی اور اسلامی طریقہ سو نکاح کرو۔۔
سوچنا کی بات ای ہے ایسا مبلغن نے کہا ہندو مذہب کو مطالعہ کرو ہے؟
یا پھر اسلامی انداز نکاح اور خوشی غمی کا احکامات میں جانکاری پیدا کری ہے؟
ان دونوں باتن میں سو ایک بھی موجود نہ ہے۔
ای ادھورو علم ہے۔جانے میو قوم کی ثقافت۔تاریخ۔ان کا مزاج سو جُڑی چیز کی شناخت تباہ و برباد کردی ہے
یائی قسم کا خیالات کو میں بھی کئی دیہائیں تک مبلغ بنو رہو۔
لیکن جب موئے تاریخ پڑھنی پڑی ۔میو ثقافت پے کام کرنو پڑو۔
بہت افسوس ہوئیو کہ ادھورو علم اور وقت جذبات کتنا نقصا ن د ہ رہوا ہاں؟
نہ تو ہم نے ہندو مذہب سمجھو۔نہ اسلام کی تعلیمات سو واقفیت پیدا کری۔
موکو بتائوجن باتن نے تم ہندوانہ رسومات کہو ۔تہارے پئے کہا ثبوت ہے کہیہ ہندوانہ ۔رسومات ہاں؟
اگر کہو کہ یہ پرانا زمانہ سو چلی آئی رسومات ہاں۔جب میو قوم اسلام کا بارہ میں کم معلومات راکھی ہی۔
اب علم کو دور دورہ ہے۔لہذا پہلو سب کچھ ہندو انہ ہو۔
نوں تو بھائی ہم بھی ان کی اولاد ہاں ۔کچھ نہ کچھ تو ہم بھی ہندوانہ ہوئے گو؟
بنیادی طورپے جہلا اور کم علم ۔یا ادھورا مذہبی لوگ۔ہروا، دیوار مسمار کرن پے تُلا ہویا ہاں۔جن سو میو قوم کی ثقافت
میو قوم کی تاریخٰ جڑی پڑی ہے۔
اگر فرصت مل جائے،تو ان رسومات کی ادائیگی ۔اور بڑی بوڈھین کی خوشی۔اور ان کا اخلاص اے دیکھو۔
اتنو تو مذہبی جنون بھی اخلاص نہ راکھے ہے۔
سچی بات ای ہے جو بات میو قوم میں راج ہونی چاہے ۔اُن سو مجرمانہ آنکھ چرالی ہاں۔
ایک ایسی بحث یا ایسا معاملہ میں تونائی صرف کری جاری ہے۔جاکو اسلام کو فائدہ ہے نہ ،میو قوم کو۔
چھوٹی سی بات ہے۔اگر کوئی بتانو پسند کرے؟
جن وسائل یا طریقہ کار اے اپنا کے تم یا تبلیغ میں لگا ہویا ہو۔یا کو کوئی اسلامی جواز ۔یا طریقہ کو حوالہ دیدیو؟
سچی بات ای ہے۔جنن نے ہندوانہ رسومات بتاواہاں۔وے ہندوانہ رسومات نہ ہاں۔بلکہ ای میو ثقافت ہے
جو نسل در نسل چلی آری ہاں۔اور جاکی تبلیغ ہم کرراہاں ۔نہ ای اسلامی ہے،نہ یا کو کوئی ثبوت ہے۔
بہتر ہے اسلام کو گہرائیو مطالعہ کرو۔
وامیں خواتین اور بچین کو دف بجانا۔خوشی کرنا۔ہلا گلا کرن کی اجازت ہے۔
ولیمہ ہے۔دعوت ہے،نیا لتا کپڑا ہاں۔آرام دہ ماحول کو ثبوت ہے۔
ہم نے کدی اسلام کو مطالعہ کرو ہے ۔نہ مذہبی لوگن نے اسلام نے جو ڈھیل یا خوشی کا مواقع دیا ہاں۔
یہ مواقع اور ان کی شرعی حیثیت بتانا کی کوشش کری ہے؟
مذہبی لوگن نے زندگی کا ایسا معیارات بنا دیا ہاں کہ انسان ان جکڑ بندین سو جان خلاصی چاہے۔
سچی بات تو ای ہے۔جن باتن نے ہندوانہ بتاواہاں ۔نہ یہ ہندوانہ ہاں
نہ جنن نے اسلام کا لبادہ میں پیش کراہاں۔ای اسلام ہے۔
بس خیالات کو بہائو ہے۔ہر کائی کو اپنو اپنو اسلام ہے۔
مذہبی لوگن نے دین کی صحیح شکل دکھانی نہ ہے۔
معتقد لوگن نے ان کی ذاتی خواہشات۔اور الجھا ہویا ذہن میں ابھرن والا خیالاتن نے اسلام سمجھ لیو ہے۔
یا افراط و تفریط نے اسلام کو بھی حلیہ بگاڑ کے دھردئیو ہے۔
