
تاریخ کا جھروکان سو۔
کمال الدین سالار پوری کی تین کتب۔کی اشاعت
حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو۔
کائی بھی قوم کی ترقی و پسماندگی ناپن کو ایک عمومی پیمانو ہے کہ کتاب اور مطالعہ سو وائے کتنی دلچسپی ہے؟
ایک مالی و معاشرتی پسماندگی رہوے ہے ۔واسو گھنی خطرناک پسماندگی ذہنی و علمی رہوے

ہے۔
جب بھی کائی قوم نے آگے بڑھن کے مارے قدم اٹھائیو ہے۔وانے اپنا ہاتھ میں کتاب ضرور راکھی ہے۔
میو قوم کتاب اور مطالعہ سو سخت بےزار ہے۔مطالعہ سو کوئی دلچسپی ہے نہ کتاب سو کوئی لگائو؟
جو لوگ کتاب پڑھاہاں ،شاید ان کے نزدیک فرد واحد کو کتاب پڑھنو قوم کی نجات کے مارے کافی

ہے؟
اگر ایک فرد کو مطالعہ پوری قوم کے مارے کافی ہے تو میو قوم یامیں خود کفیل ہے۔
اور اگر ترقی کے مارے پوری قوم کو کتاب مہیں جھکائو ترقی کو ضامن ہے تو میو قوم پسماندہ۔غریب۔اور تہی دست ہے۔
میو قوم کا افراد کو اللہ نے مالی آسودگی دی ہے۔ہر محکمہ میں میو موجود ہے۔
ان کا ہاتھ میں مال و دولت کے ساتھ ساتھ اختیاری طاقت بھی ہے۔
لیکن شاید ان کے پئے ترقی اور آگے بڑھنا کو کوئی نئیو فارمولہ ہاتھ لگ گئیو ہے۔
کہ کتاب و مطالعہ سو ہٹ کے ترقی کرسکاہاں ۔
اگر ایسی بات نہ ہوتی تو۔میو قوم کا ماضی۔ان کی تاریخ،ان کا پُرکھن کی داستانن نے کتابی شکل میں ڈھالنا سو کوئی نہ روک سکے ہو۔
پوری میو قوم کے پئے ایک بھی ادارہ ایسو نہ ہے جو اپنی تاریخ مرتب کرنا کی ذمہ داری قبول کرتو ہوئے؟
جن لوگن نے چند آنگڑا لکھا ہاں۔اُنن نے کتاب کا سر ورق لکھ دئیو ہے،،جملہ حقوق بحق مصنف محفوظ ہاں”
یعنی کنواں کھود کے قوم کی سیرابی اور علمی تشنگی دور کرن کے بجائے،لاٹھی لیکے بیٹھ گیا ہاں،
کہ کوئی علمی پسائیو پئے پھٹک نہ جائے؟
راقم الحروف(حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو) میو قوم کی تاریخ۔ادب ثقافت پے بساط بھر کام میں لگو ہوئیو ہے۔
سعد طبیہ کالج ۔۔سعد ورچوئل سکلز پاکستان میو قوم کی ادبی خدمات کے مارے نوں سمجھو وقف ہوچکو ہے۔
کمال الدین سالار پوری مرحوم کی تین کتاب۔
جنگ نامہ میوات۔
ایک کہانی ایک نظم۔
۔سچی سچی کہے کمال۔
نئی کمپوزنگ کے ساتھ شائع ہوچکی ہاں۔
سعد ورچوئل سکلز پاکستان کا مہیں سو چھاپی گئی ہاں۔
میواتی زبان میں ہاں ۔کوئی دوسرو نہ پڑھ سکے ہے۔اور میو کتاب پڑھا نہ ہاں۔
لیکن اگر کوئی پڑھن کو شوق راکھے۔واکے پئے پیسہ نہ ہوواں۔کہ کتاب خرید سکے۔
تو رمضان میں صدقہ خیرات زکوٰہ۔ کی بہت فضیلت ہے۔
مستحق لوگ،رابطہ کرکے مفت میں منگواسکاہاں ۔
اگر کوئی نادار انسان پڑھنو چاہے تو،محروم کیوں رہے؟
یامارے غریب غرباء ادارہ کی کائی بھی کتاب اے مفت میں حاصل کرسکاہاں۔
دوسری اہم بات ای کہ اگر کائی میو لکھاری نے کوئی کتاب لکھی ہوئے۔
اور مالی وسائل نہ ہونا کی وجہ سو چھپوا نہ سکتو ہوئے۔
سعد ورچوئل سکلز پاکستان کاہنہ نو لاہور سو رابطہ کرے کتاب چھپوادی جائے گی۔
