پڑھالکھا میون کے ساتھ کچھ لمحات۔

0 comment 71 views
پڑھالکھا میون کے ساتھ کچھ لمحات۔
پڑھالکھا میون کے ساتھ کچھ لمحات۔

پڑھالکھا میون کے ساتھ کچھ لمحات۔
حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو۔
میو قوم میں اللہ نے بہت ابھار اور بہتر صفات راکھی ہاں۔ای کدی مدی کُس مُساوے ہے ،اپنا وجود اے ظاہر کرے ہے۔
ہم نے محسوس کرو ہے کہ میو قوم میں اپنایت کو جذبہ پائیو جاوے ہے۔
لیکن ابھی تک ایک جھجک باقی ہے کہ ایک دوسرا کی صفات اور وامیں پائی جان والی خوبین کا اعتراف کرن میں ابھی تک جھجکے ہے۔
اگر ایک دوسرا کی صفاتن نے تسلیم کرنے لگ پڑے ۔
اور جو جاکو مقام اور حیثیت ہے وائے تسلیم کرن لگ پڑے تو انقلابی صورت پیدا ہوسکے ہے۔
گذشتہ کل موکو عاصد رمضان میو کو فون آئیو کہ جیسے تیسے بھی جمعہ کے فورا بعد قصور

Advertisements

پہنچنو ہے۔
میو قوم کا کچھ اہل علم اساتذہ کرام جمع ہوراہاں۔اور تیرو تذکرہ ہورو ہے۔بس توئےپہنچنو ہے۔
جمعہ کی نماز سو پہلے جناب ممتاز شفیق میو سو ہیئر گائوں میں ملاقات ہوئی۔
وانے چند دعوت نامہ دیا۔اجتماعی شادین میں شرکت کی دعوت دی۔گھنیائیں سارا دعوت نامہ تھمادیا۔کہ پہنچانا ہاں۔
ایک دو گھنٹہ یابارہ میں بات چیت ہوئی کہ پاکستان میو اتحاد کی ویب سائٹ بنائی جائے۔
جب سو میو اتحاد جماعت بنی ہے ،آج تک کو جتنو ریکارڈ ہے۔اپ لوڈ کردئیو جائے۔
یاکے علاوہ جو دستیاب ریکارڈ ہے عوام کے سامنے لادَھرو جائے۔
سب سو اہم بات ای ہوئی کہ ممتاز شفیق نے ہئیر گائوں میں بسن والا میون کو ڈیٹا جمع کرو۔
ایک کام قابل تعریف ہے۔ایک گھرانہ میں کتنا لوگ ہاں۔مرد خواتین ۔بچہ۔ملازم۔کاروباری،غریب اور مستحق زکوٰہ۔
گوت۔پچھلا گائوں۔۔سب کچھ یامیں لکھو گئیو ہے۔
قابل تعریف کام ہے۔آئی ٹی کو کام ان کی خواہش ہے کہ میرے ذمہ لگادئیو جائے۔
تقریبا تین بجےقصور پہنچو۔عاصد رمضان پہلے سو موجود ہو۔
کچھ لوگ۔پہلے سو اسپیرئیر کالج کمیپس میں موجود ہا۔اُ نن نے بڑا چائو سو استقبال کرو۔
ایک ملاقات بھی تقریبا دو گھنٹہ جاری رہی۔شرکائے یہ لوگ ہا۔

عاصد رمضان میو بابا میواتی،
حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو
، پروفیسر اصغر میو،
مولانا معین عباس میو،
پروفیسر ڈاکٹر ایم ایس
۔ حبیب میو،
پروفیسر رشید الحسن میو،
ظہیر احمد میو ایڈووکیٹ۔
پروفیسر عدنان میو
، عبدالوہاب میو،
پروفیسر وقار میواتی، جی ٹی جی۔ قصور
ایک علمی اور سلجھی ہوئی بات چیت ہوئی۔تعلیمی و تدریسی حوالہ ریز بحث رہو۔
یہ لوگ اپنا اپنا میدان کا شہ سوار ہا۔اور اپنا ہنر کا ماہر لوگ ہا۔
میو قوم کی نفسیات۔معاملات۔موجودہ صورت حال پے لمبی چوڑی بات چیت ہوئی۔
حاضرین میں ایک پروفیسر صاحب میوقوم کی ہجرت پاکستان اور ۔ان کی بسارت اور پاکستان میں آباد ہونا میں مشکلات پے تھیسس لکھ راہا۔
یہی موضوع عمیر ایوب صاحب خانذادہ صاحب نے بھی منتخب کرو ہو۔
جرمنی سو ایک دو مہینہ کے مارے پاکستان آیا ہویا ہاں۔ان سو بھی ملاقات ہوئی۔
کچھ دوستن نے میرو پتو دئیو ہو کہ میو تاریخ کا حوالہ سو کچھ نہ کچھ مواد مل جائے گو۔یامارے

موسو آکے ملو ہو۔
ہم نے ایک بات تو میو قوم مشترکہ پائی کہ ان میں ابھی تک اپنایت اور میو پن کو عنصر موجود ہے۔
گوکہ یاکو اظہار کدی ہوجاوے ہے کدی حالات کے پیش نظر نہ ہوسکے ہے۔
میرو ان سب ملاقاتن میں ایک نکتہ نظر رہوے ہے کہ میو قوم کا سپوت اتنا بڑا بڑا عہدان پے براجمان ہاں۔
اپنا ہنر اور میدان عمل میں بہترین ریکارڈ راکھاہاں۔
لیکن ابھی تک کوئی ایسو مشترکہ لائحہ عمل دینا میں کامیاب نہ ہوسکا جاکو عمومی طورپے میو قوم کو فائدہ پہنچ سکے۔
یابارہ میں میں ضرور بات کرو ہوں۔
میری ترجیحات میں سو ایک ای بھی ہے ان لوگن کا تجربات سو شاہد کوئی پہلو ایسو سامنے آجائے
جاکی بنیاد پے کوئی اجتماعیت کو فارمولہ مل جائے۔
کچھ لوگن کو خیال ہے کہ میو قوم ویسے ای بھیلی(جمع) ہوجائے۔
اجتماع کی صورت میں۔ایسا وقتی طورپے حالات نہ ہاں۔
میو قوم کے مارے بہت ساری خدمات کرنی باقی ہاں،

ہر کائی اے اپنا اپنا حصہ کو کام کرنو پڑے گو۔
ایک تو ایک بیج ہے جائے ہم بیجنگا تو ہماری آن والی نسل یا فصل سو فائدہ اٹھا سکے گی۔
قومن کی تاریخ میں دس بیس سال معمولہ وقت رہوے ہے۔
ان کا بنن میں اور ان کا بگڑن میں صدی لگایاں۔
لیکن انسانی زندگی تھوڑی رہوے ہے۔یامارے نتائج دیکھن کی جلدی مچاوے ہے۔
یاملاقات میں ایک سوال اٹھائیو گئیو کہ اتنا بڑا عہدان پے کام کرن کے دوران کتنا اور کونسا تلخ تجربات ہویا۔
ان کی بنیاد پے کوئی ایسو لائحہ عمل طے کرو جاسکے ہے۔
جو تلخی پہلا لوگن نے برداشت کری ہے ۔اُو آن والی نسل اے برداشت نہ کرنی پڑے؟
سیدھا الفاظ میں نوں کہہ سکو کہ تعلیمی۔تدریسی۔تبلیغی۔تجربات۔
ملازمت میں پیش آن والا معاملاتن میں رہنمائی کے مارے کچھ نہ کچھ ایسو ہوئے کہ آن والی نسل استفادہ کرسکاں۔
بہرحال مجموعی طورپے ای ملاقات علمی و تدریسی تجربات سو بھرپور ہی۔خوشگوار ماحول میں ہوئی۔
میں عاصد رمضان میو کو شکر گزار ہوں کہ وانے میں یا قابل سمجھو کہ کالجز اور یونیورسٹیز کا اساتذہ۔
اور مالکان سو ملاقات کروائی۔
یقینا کچھ بات ایسی بھی ملاہاں جن سو میری معلومات میں اضافہ ہووے ہے۔اور کچھ نہ کچھ دیکھن کو ملے ہے۔
عاصد رمضان میو کی ایک بات بہت ملوک لگی کہ اپنا بڑا بیٹا (عبد الوہاب)اے ساتھ راکھے ہے۔
ای بچہ بڑان کی محفل میں چپ چاپ بیٹھو رہوے ہے لیکن موئے ایسو لگے ہے کہ یائے آن والا وقت کے مارے تیار کررو ہے
کہ میری جگہ توئے کیسے پڑ کرنی ہے۔
شاید یا بات کی تیاری میں ہے۔ای بہتر روش ہے کہ چھوٹان کی تربیت کے مارے بڑان کی محفل میںآمد و رفت ہونی چاہے۔
زندگی اتنی مختصر ہے کہ بڑان نے منظر سو غائب ہوتے اور چھوٹان نے بڑو بنتے دیر نہ لگے ہے۔
آخر میں اتنی بات ضرور کہونگو۔جو میں نے سبن سو کہی ہے۔
آج کو دور اے آئی کو دور ہے ۔خدمت کرنو اتنو آسان ہوچکو ہے شاید انسان نے کدی سوچو بھی نہ ہوئے گو۔
اگر کچھ اہل علم مل بیٹھاں تو ایسو کام کرو جاسکے ہے جا میں خرچہ تو کچھ نہ ہے لیکن فوائد و نتائج شاندار ہاں۔
میو قوم میں برا بڑا وژنری لوگ موجود ہاں۔خدمت کو جذبہ ہے،لیکن کوئی مشترکہ فریم ورک نہ ہے۔
امید ہے یا جہت سو بھی میو قوم کا بڑا سوچنگا۔
اگر بڑان نے ای کام نہ کرو۔
تو پھر جب ای وقت آئے گو کہ فلاں۔حاجی صاحب۔میجر کرنل صاحب۔فلاں سوسائسٹی کو مالک،واکو بھائی۔
فلاں کو چچا فوت ہوگئیو ہے ۔جنازہ کو اعلان بعد میں کرو جائے گو
پھر جب چھوٹا برا بننگا تو بہتری آجائے گی۔
آج جائے ہم چوہدر ،یا ناک کو مسلہ بناواہاں ۔اللہ جانے ہے ای ٹرنڈ اب دنیا سو ختم ہوتو جارو ہے۔

Leave a Comment

Hakeem Muhammad Younas Shahid

Hakeem Muhammad Younas Shahid

Hakeem Muhammad Younas Shahid, the visionary mind behind Tibb4all, revolutionizes education and daily life enhancement in Pakistan. His passion for knowledge and unwavering community dedication inspire all who seek progress and enlightenment.

More About Me

Newsletter

Top Selling Multipurpose WP Theme