
پاکستان میں میو قوم کی شناخت۔کہی ان کہی داستان۔
حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو۔
یامیں شک نہ ہے کہ قیام پاکستان میں جہاں بہت ساری برادرین نے قربانی دی اپنو اپنو حصہ گیرو۔
مجموعی طورپے اگر دیکھو جائے تو میو قوم کو حصہ دوسری قومن سو کہیں گھنو ہے۔۔
نئی پود شاید یا بات کو ادراک نہ کرسکے ہے کہ آج کی آشائش و راحت میں میو قوم کے ان بزرگن کو کتنو حصہ ہے
جو اپنا گھربار چھوڑ کے جہاں ہا ۔کھڑا بیٹھا ۔جا حالت میں بھی ہا۔سب کچھ چھوڑ چھاڑ کے چل کھڑا ہویا ۔۔

وہی وطن چھوڑ دئیو جاکے مارے صدین تک سطلنتن سے لڑتا جھگڑتا آیا ہا۔
میو قوم سادہ پیٹ پاپ سو دُور ہی۔اسلام کا نام پے گھر بار چھوڑو۔ایک ایسی منزل کا مہیں چل نکلا ۔
جاکی بھیانک زندگی نے ان سو سب کچھ چھین لئیو۔
بدلہ میں زخم ۔تعصب۔سلب و نہب کو ایک طولانی سلسلہ۔
جن وعدان پے سب کچھ قربان کرو ہو،جہاں پہنچا ۔ان لوگن نے پتو ای نہ ہو۔
یہ پھٹا پرانا۔لتان میں۔ٹوٹی جوتی کے ساتھ کوسن تک پیدل چل کے آن والان نے کتنی قربانی دی ہاں۔
جب میو قوم سب کچھ چھوڑ چھاڑ کے آگیا تو مقامی طورپے لوگن نے پہچانن سو ای انکار کردیو۔
میو قوم کا دکھ اے سمجھن کے مارے۔آج کی اولاد اے ان واقعات و تاریخی اوراق کو ضرور مطالعہ کرنو پڑے گو۔

جو زمانہ کی دھول میں اٹ چکا ہاں۔
ایک بھوکا ننگا مسافر میو کی ڈبڈباتی آنکھن میں آن والا کل کی امید کو دیوا ۔کدی بلے ہو ،کدی بجھے ہو
کدی مدی تو یاکا آنسو اتنی گہرائی سو نکلے ہا۔وامیں امید و یاس کو دھندلو پن مزید گہرو ہوجاوے ہو۔
آج اللہ نے میو قوم کو شناخت ۔مالی آسودگی۔عہدہ۔تعلیم ۔بہتر زندگی دی ہے۔
لیکن یا زندگی کا سفر میں پتو نہ ہے کتنا بہادر دھول مٹی ہوگیا۔
کتنی ماں باہنن کی امید ان کا وجود کے ساتھ ہی ہجرت کا گرم سفر میں تحلیل ہوگیا۔
میو قوم کی قربانی تو رہی ایک گھاں کو۔مقامی لوگ بیورو کریسی تو ان کا وجود اے مانن کے مارے بھی تیار نہ ہی۔
آج کی نسل جا چوہدر کا خمار میں ڈوبی پڑی ہے۔ای چوہدر انہیں بھوکا ننگا بڑا بوڈھان نے لاٹھی کی کھود سو حاصل کری ہی۔
جنسو آج کی نسل جاہل ان پڑھ ۔کم عقل کہوے ہے۔
مین نے جب تاریخ پاکستان ۔1947 سو لیکر اب کا حالات پے غور و فکر شروع کروہے
میرو انداز فکر بدل گئیو ہے۔جن لوگن نے میو قوم کےمارے کہیں بھی کچھ بھی۔کرو ہے۔
کائی بھی شعبہ میں خدمات سرانجام دی ہاں۔
وے قوم کا محسن ہاں۔یا بات پے دکھ ہوئیو کہ جانے جو کام کرو۔
جو قربانی دی،میو قوم نے ان کی قربانی قبول کرن کے بجائے ۔
ان کو نیچو دکھائیو۔ان کی ڈھارس بندھانا کے بجائے۔ٹانگ کھینچی۔۔
ای سلسلہ تو ساری قومن میں پائیو جاوے ہے۔
میو قوم میں یاسلسلہ کو نقصان یامارے گھنو ہوئیو ہے کہ میو قوم کی شناخت کو بہت بڑو مسلہ ہو۔
جاکو وجود ای تسلیم نہ کرو جارو ہوئے۔وہی ایک دوسرا اے مٹانا پے لگ گیا ہوواں تو نقصان کو اندازہ کون کرسکے ہے؟
میو بھی ایک میو ہوں ۔کدی مدی میں بھی روایتی جذبات کو شکار ہوجائو ہوں۔
لیکن بعد میں سوچوں ہوتو کفارہ ادا کرن کو من کرے ہے۔
میں یا لحاظ سو خوش قسمت ہوکہ کہ اللہ موکو علم و قلم،جذبہ خدمت میں تسلسل۔ دیئو ہے۔
میں جتنو کام بھی کرو ہوں۔کم لگے ہے۔موئے لگے ہے لکھائی پڑھائی۔
تاریخ و ادب،،ثقافت پے جنتو کام ہونو چاہئے ہو۔اٹھتر سالن مین نہ ہوسکو۔
یا غفلت کو کائی حدتک ۔ممکنہ ازالہ کی صورت پیدا ہوجائے۔
ضروری نہ ہے کہ میری سوچ حرف آخر ہوئے۔نئی نسل کے سامنے بہترین سوچ ۔وسائل موجود ہاں۔
بہتر خدمات سرانجام دے سکاہاں۔ کم وقت میں زیادہ خدمات کا مواقع موجود ہاں۔
پچھلا دنن میں اسلام آباد کو سفر ہوئیو۔میو قوم کا بہت سا لوگن سو مختلف امور پے تبادلہ خیالات ہویا۔
ان موضوعات میں۔نئی نسل کا مسائل۔شناخت کو مسئلہ۔آگے بڑھن کے مارے راستان کی تلاش۔
جدید ٹیکنالوجی سو استفادہ کا طریقہ کار۔میو قوم کی بکھری ہوئی اکائین کو جمع کرنو۔
روابط کو سلسلہ کو قابل قبول راستہ ۔وغیرہ۔ساری بات میری یا ملن والان کا بس کی تو نہ ہاں ۔
میو قوم کا مشترکہ مسائل ہاں۔مل بیٹھ کے حل ہونگا۔
رائو غلام محمد میو۔
حاجی اسحق میو
یوسف شاکر میو۔
ان تین لوگن سو جو بات چیت ہوئی۔میو قوم کا بارہ میں بالخصوص شناخت۔اور ثقافت کا سلسلہ میں جو مشاورت ہوئی۔
ایک بہتر سوچ کو عکاس ہی۔میں نوں تو نہ کہہ سکوہوں کہ ای مثبت پیش رفت ہمار اذہن میں ای پید اہوئی ہے۔
بے شمار لوگ اپنی اپنی جگہ پے کام میں لگا ہویا ہاں۔
ہولے ہولے ان کی خدمات میو قوم کے سامنے آتی رہوا ہاں۔
رائو غلام محمد میو نے تین کامن کی تکمیل کو ارادہ ظاہر کرو۔
(1)میو قوم کی شناخت اور قومی سطح پے نادرا میں رجسٹریشن میں تاخیر کیوں ہوئی؟
۔اسباب و عوامل۔وجوہات۔علل و مشکلات میو قوم کی نئی نسل کے سامنے لایا جاواں۔
جن لوگن نے یا سلسلہ میں جو قربانی دی ہاں وہ محسنین قوم سامنے لایا جاواں۔
کمال شفقت کری موکود نایاب قسم کا خطوط۔مراسلہ جات۔تصویری البم۔
تاریخی شواہد کو ایک نایاب قسم کو ریکارڈ سامنے لادھرو۔
میری مارے ای کائی خزانہ سو کم نہ ہو۔
میری خواہش پے کچھ خطوط و مراسلہ جات سرکاری، و نجی ریکارڈ کی نقول بھی مہیا کری۔
زندگی موت کی امانت ہے۔رائو صاحب بھی پکو پھل ہے۔میں بھی 53 سال میں لگو رو ہوں۔
سدا جینا کو پٹہ تھوڑو لکھوا لئیو ہے۔کہابھروسہ۔کد سانس کی ڈوری ٹوٹ جائے۔
بحمد اللہ رمضان المبارک کی مبارک گھڑین میں وقت اتنی تیزی سو گزر رو ہے پتو بھی نہ چلو دس روزہ ہوگیا۔
امید ہے یا کام اے عید تک مکمل کرلئیونگو۔
کہ میو قوم کی نادارا میں رجسٹریشن۔
شماریات میں اندراج۔
ووٹ کو حق بحیثیت میو قوم۔
ای موضوع جتنو آسان لگے ہو۔اتنو ای چھاچھ کی طرح کہ لڑائی اور چھاچھ کو کہا بڑھانو۔پانی گیرتا رہو،بڑھاتا رہو۔
ایسی یا موضوع پے اتنو سارو مواد جمع ہوچکو ہے۔کہ تین سو صفحات بھی ناکافی دکھائی دے راہاں۔
رائو غلام محمد میو کو کہنو ہے جاکو جو حق ہے ملنو چاہے ۔ڈنڈی مت ماریو۔ہماری اونچ نیچ کی خیر ہے۔
لیکن تیرا قلم کی اونچ نیچ تاریخ بن ری ہے۔محتاط رہئیو۔سوچ کے لکھئیو۔
قلم کی مار صدین تک چلے ہے۔بات بھی کان کھڑا کرن والی ہے۔
نادرا میں اندراج اور اتنا سالن تک یامیں تاخیر۔اسباب و عوامل ۔میراخاص موضوعات ہاں۔
کتنی کامیابی ملی۔یا میں اپنا کام میں کتنی سپھل ہوئیو۔میو قوم کا پڑھاکو لوگ بتانگا۔
