
نانی /دادی ماں کی بالن کے مارے بات کہنو۔قسط اول
حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو
ادب اور کہانی
ـٗمیوات کیسے ہیو کیسے باجو نائوں ۔۔۔۔کون ملک میوات کو، کون بسائو گائوں
ہرقوم اور ملک کی کوئی نہ کوئی کہانی اور لوک داستان اور بچان کی لوری اور لاڈ کے مارے کچھ گیت بنایا جاوا ہاں وے معنوی اعتبار سو اتنا گہرا رہوا ہاں جن کو اثر مرتے دم تک قائم رہوے ہے یہ کہانی سینہ بسینہ ایک نسل سو دوسری نسل کو منتقل ہوتی رہوا ہاں۔ شعوری و لاشعوری انداز میں ای سلسلہ چلو آرہو ہے اور اور ابھی تک جاری و ساری ہے اور بغیر کائی وقفہ کے جاری رہیگو۔ای بات کائی ملک اور قوم کے ساتھ مخصوص نہ ہے شاید ای فطرت کو ایک ابھار ہے جو کائی طریقہ سو دابو نہ جاسکے ہے ۔
یہ کہانی اور لوک داستان اور بچان کی کہانی ہر ملک و قوم ہر تہذیب و تمدن کو لازمی عنصر ہا اور ابھی تک ہاں ۔ان کو مرکزی کردار ملتا جلتا رہوا ہاں ای موضوع بہت طویل ہے یابارہ میں پھر کدی لکھو جایئگو ۔بچان کی کہانی لوک داستان در اصل ماحول اور معاشرہ کی عکاس

اور اور وا ماحول کی نمائندہ رہوا ہاں جا میں بنان والو ۔سنان والو اور سنن والو سانس لیوا ہاں ۔متمدن ترین اقوام کی تواریخ، ا نکی
یاداداشت اور انکی باقیات کا مطالعہ سو جو بات کھل کے سامنے آوے ہے اُو یہی ہے کہ صفحہ ہستی پر سانس لین والی ہر قوم نے اپنی اولاد اور نسل کے مارے کئی ایک کہانی وضع کری ہاں ۔

جنن نے وے اپنی قوم اور نسل کو سناکے تسکین حاصل کرے ہا ۔بچپن میں سنے ہا اور بڑھاپا میں اپنی اولاد کو سناوے ہا۔ آج بھی ای سلسلہ وائی طنطنہ سو جاری ہے ۔شاید فطرت یا بات کی متقاضی ہے کہ ُاو بچان کا دلن میں کہانی سنن کو جذبہ اور بڑان کا دلن میں سنان کو جذبہ موجزن کردیو ے ہے اور بچہ کہانی سن کے اور بڑا کہانی سنا کے اطمنان پکڑا ہاں ۔ہر بچہ یا بات کو حق راکھے ہے کہ واکو کہانی سنائی جاواں لوری دی جاواں گیت سنایا جا و ا ں ۔جوانی کو ایک ایسو بھی دور رہوے ہے جا میں انسان بہت سی باتن نے نامعقول اور فضول سمجھے ہے حالانکہ ایسی بات نہ رہوے ہے۔دراصل ای جوانی کو خمار رہو ے ہے جامیں انسا ن اپنی بات کے سوا ہر بات اے فضول اور بیکار جانے ہے اور ای نشہ بہت کم عرصہ طاری رہوے ہے بعد میں بڑا بوڑھان کی بات واکی سمجھ میں آن لگ جاوا ہاں ۔
یا بات میں کوئی شک نہ ہے کہ جدید ادب۔جدیدسہولیات۔پرنٹ میڈیا۔وسائل کی بہتات اور ابطہ کی سہل الحصولی نے ہم سو سُکھ چین اور فرصت کی گھڑی چھین لی ہاں یا کے باوجود موقعہ و محل کی مناسبت سو آج بھی لوگ ان کہانی اور لوک داستانن سو تسکین حاصل کرا ہاں اور ان کو آج بھی ایک خاص مقام ہے ۔
بہت سا جوان کہتا سنا گیا ہاں کہ۔ ان فضولیات اور عقل سو عاری کہانین نے کون سنے گو ؟ایسا لوگن سو صرف اتنی بات کہی جاسکے ہے کہ تہاری جدت جلدی نکل جایئگی ان کہانین کو اثر مرتے دم تک باقی رہیگو۔ کہانی پھر ایک کہانی جو وقت گذاری کے ساتھ تفریح طبع کو بھی قدرتی سبب ہے یا تسکین کے مارے کوئی ڈرامہ دیکھے کوئی فیچر فلم دیکھے ہے کوئی لو اسٹوری کو رسیا ہے ۔فرق صرف نام کو ہے۔
یہی کام پہلا لوگ گھر میں بیٹھ کے ان کہانی اور لوک داستانن سو لیوے ہا۔ احسا س کمتری نے ہماری بنیاد ہلادی ہاں ۔ہم اغیار کا اتنا شیدائی ہوچکا ہاں کہ ان کا تھوک کی بھی ہم قدر کرا ہاں اور اپنو صاف ستہرو اداب بھی ہم نے عیب دار دکھا ئی دیوے ہے حالانکہ یائی کام اے جب دوسرا کرا ہاں توہم اپنا وسائل خرچ کرکے دیکھا بھی ہاں اور سنا بھی ہاں ۔بہت سا مئیو سیہا کے اپنا بچان کو انگریزی اور اردو اے ایسا انداز سو سکھاوا ہاں کہ معصوم ذہن پے نقش ہوتی چلی جاوے ہے ۔ارے بھائی کدی سوچو بھی ہے کہ انگریزی ۔اردو فزکس ۔کیمسٹری ۔ بیا لو جی ۔ہسٹری ۔میٹھ عربی فارسی وغیرہ تو دوسرا لوگ بھی تہارابچہ کو سکھا پڑھا دئینگا لیکن میواتی تو تم نے ای اپنا بچان کو سکھانی پڑیگی ۔ای دولت کائی کے پئے سو بھی نہ ملے گی ۔
باقی کال لکھونگو
آگے دوسری قسط میں پڑھیو
