میو قوم کے پاکستان میں اٹھتر سال۔

0 comment 19 views
میو قوم کے پاکستان میں اٹھتر سال۔
میو قوم کے پاکستان میں اٹھتر سال۔

میو قوم کا پاکستان میں اٹھتر سال۔
حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو۔
انسانی زندگی میں جب انسان مالی آسودگی اور بہتر وسائل کے ساتھ جینا کو اپنو ایک لطف رہوے ہے۔
لیکن یہ آسائش اور نعمت کائی ایک انسان یا کائی کام کا نتیجہ میں نہ ملاہاں ۔ای ایک تسلسل کو حصہ رہوا ہاں۔
۔جیسے درخت پھل دینا سو پہلے کئی مراحل سو گزرے ہے ایسے ہی۔
ملک قوم۔افراد بھی کائی عہدہ یا حالت تک پہنچن کے مارے بہت سا مراحل سو گزراہاں۔
میو قوم نے صدین تک اپنی تہذیب اور معاشرتی رکھ رکھائو کی حفاظت کری ہی۔۔
بالآخر اُو گھڑی بھی آگئی جامیں میو قوم اے جبری یا قہقہری طورپے ایسا مرحلہ سو گزرن پڑو۔
نہ صدین پرانی تہذیب برقرار رہ سکی۔نہ میو کو قوم کو میوات بچ سکو۔
نوں میو قوم واحادثہ میں سب سو گھنی متاثر ہوئی جانے پورو ہندستان ہلاکے دھردئیو ہو۔
میو اپنی میوات سو ایسے نکلا جیسے جنگل میں آگ لگنا کی وجہ سے جنگل کا رہائشی دوڑ پڑا ہاں۔
اُنن نے پتو نہ رہوے ہے کہ جتلو منہ اٹھاکے دوڑ لگائی ہے،ممکن ہے کوئی شکاری گھات لگائے بیٹھو ہوئے۔

میو قوم کا نسلی ارتقاء، بارہ پال باون گوت کا نظام
میو قوم کا نسلی ارتقاء، بارہ پال باون گوت کا نظام
Advertisements


اور یا آگ سو زیادہ تکلیف اٹھانی پڑجائے۔
میو قوم نے میوات کچھ ایسی ہی خونین حالات میں چھوڑی ہی۔
ایک قیامت ہی۔ جامیں لگی آگ نے ہر اوُ چیز بھسم کردی جو سامنے آئی۔
جامیوات کی صدین تک میو قوم نے خون دیکے حفاظت کری ہی۔وہی میوات خوشی سو یا دَھکا سو چھوڑ دینو پڑو۔
1947 کی دنیا کی عظیم ترین ہجرت میں میو قوم کا قافلہ سبن سو گھنا ہا۔
میو قوم کا چند ایک رہنما بھی واوقت موجود ہا۔حالات اتنا گھمبیر ہا کہ وے بھی کوئی بہتر لائحہ عمل دینا سو قاصر رہا۔
ایسی بات نہ ہے کہ ان میں صلاحیت نہ ہی۔
بلکہ حالات ایسا بن گیا ہا کہ بہتر سوچ ہونا کے باوجود بھی میو قوم کو کماحقہ فائدہ نہ پہنچا سکا۔
موکو میو قوم کی تاریخ لکھن کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
یا سلسلہ میں موئے کچھ ایسی کتابین تک رسائی ملی جو عمومی طورپے یا تو نایاب ہاں ۔
یاپھر ان پے سرکاری سطح پے پابندی ہے۔ اگر کچھ کتاب آسانی سو دستیاب بھی ہاں۔
تو بھی ہم ماری پہنچ سو بہت دور ہاں۔
میو قوم کی ہجرت اور پاکستان میں بسارت کی دردناک داستان یا قابل نہ ہے کہ بھلادی جائے۔
البتہ یا بات کو افسوس ضرور ہے کہ ہماری میو قوم نے آج تک کوئی ایسو بندوبست نہ کرو یا کائی نظام قائم کرن سو قاصر رہا جا کے تحت کم از کم ہم تاریخ میں دُبکا ان خون کا چھینٹان کی حفاظت کرلیتا ۔جو ابھی تک تازہ اور گرم حالت میں چگچگا رہا ہاں۔


جن میں سو ابھی تک تازہ خون کی سوندھی سی خوشبو آری ہے۔
۔اگر وا خون اے انگلی کی مدد سے محسوس کروگا تو اب بھی وامیں زمین اور مقصد کی لگن واضح محسوس ہوئے گی۔
یا سلسلہ میں کل میں نے دو مصنفین کی کتاب دیکھی۔
ڈاکٹر آئی ایچ قریشی: “دی اسٹرگل فار پاکستان” (The Struggle for Pakistan)
اور
عائشہ جلال: “دی اسٹیٹ آف مارشل رول” (The State of Martial Rule)
یا کےعلاوہ کئی ایسی کتاب جن میں مہاجرین کا حالات کی کچھ جھلک موجود ہی۔
کچھ کتاب ایسی بھی ہاں ان کو ذکر کرنو مناسب نہ ہے۔
جو مصائب و آلام مہاجرین پے گزرا وے بھولن کے قابل نہ ہاں۔
جوحقائق و دقائق تاریخی کتابن کا حوالہ سو ملاہاں۔
اتنا تلخ ہاں کہ ان کو بیان کرنو یا چھاپنو ،بذات خود ایک مہم جوئی سو کم نہ ہے۔
اٹھتر اناسی سالن مین میو قوم نے کونسا مراحل طے کرا۔
ان کی ٹھیک تاریخ کائی کتاب میں موجود نہ ہے۔
ایسی بات نہ ہے کہ یا موضوع پے کام نہ کرو گئیو ہے۔
کام تو ہوئیو لیکن یا کام کی نوعیت اتنی سی ہے جیسے کوئی بیٹھا اونٹ پے چادر اڑھاکے واکی پونچھ کا بالن نے دکھائے کہ ای ہے اونٹ؟۔
بقول عائشہ جلال کے ان اٹھتر سالن میں جتنو ظلم ہمارا ملک میں تاریخ کا حوالہ سو کرو گئیو ہے۔شاید ہی صدین میں اتنو ظلم ہوئیو ہوئے۔
۔”(میو قوم کے پاکستان میں اٹھتر سال۔) نامی کتاب
دراصل رائو غلام محمد میو ۔صدر میواتی ہرٹیج اینڈ کلچرل اسلام آباد۔کی خواہش ہے جمع کرو گئیو میو قوم کو اُو ریکارڈ ہے
جاکو کتابی شکل دی جارہے۔۔یعنی میو قوم اپنی شناخت منوانا میں۔
نادرا جیسا۔شماریات میں میو قوم کی شناخت کروانا میں اتنی دیر کائیں کو ہوئی؟،
یا سلسلہ میںکس کس نے کتنی کہاں جدو جہد کری۔ کتابی شکل میں جمع کرن کی ذمہ داری ہے۔
جب یا راستہ کی کھوج کری تو پتو چلو کہ جو آنکھن آگے ہے ۔اور ہے جو حقائق ہاں ان کی شکل کچھ اور ہے۔
دنیا بھر کا بیروکریٹ۔سیاست دان ۔ماہرین،جب جسمانی یا عملی طورپے ناکارہ ہوجاواہاں
تو اپنی زندگی کا ان گوشان سو پردہ سرکاواہاں ۔
نوں بھی کہہ سکو اپنا اُن کرتوتن نے بتاواہاں۔جو اُنن نے دوران سروس کرا ہوواہاں۔
جیسے پوری سروس جھوٹ مکاری۔دوغلی پالیسی ۔جی حضوری میں گزاری ہووے ہے۔
وے اپنی ان کتابن میں بھی یائی چال اے دُہراوا ہاں ۔
ایسا منصف بنا ہاں کہ کرداری زندگی میں سب کام اپنا ہاتھن سو کراہان ۔
لیکن واکو اعتراف ،ایک مجبور انسان کی طرح کراہاں۔
کہ ہم ڈیوٹی یا حکاما بالا کی حکم سو کرے ہا۔ہم دل سو یائے بُرو سمجھےہا۔آج بھی یہی روش جاری ہے۔
لیکن یا سارا کوڑا کا ڈھیر میں سو کچھ کام کی چیز بھی مل جاواہاں۔
کام کی بات ڈھونڈنو ای اصل کام رہوے ہے۔
بہر حال
میو قوم کے پاکستان میں اٹھتر سال۔
ایک ایسی کاوش ہے ممکن ہے میو قوم کی مظلومیت اور ان کا حقوق پے ڈاکہ گیرن والان کا چہرہ بے نقاب ہوجانگا۔
میو قوم کتاب گھٹ ای پڑھے ہے ۔لیکن کوئی کتاب لکھ دی جائے،اب نہ تو کدی کائی اے ضرورت پڑی تو واکو میسر تو آسکے
جے ہم لکھنگا ای نہ تو کہاں سو مواد ملے گو؟
اب حالات بدل چکاہاں ۔اب واکی قیمت لگے ہے جاکے پئے ڈیٹا ہوئے گو۔

Leave a Comment

Hakeem Muhammad Younas Shahid

Hakeem Muhammad Younas Shahid

Hakeem Muhammad Younas Shahid, the visionary mind behind Tibb4all, revolutionizes education and daily life enhancement in Pakistan. His passion for knowledge and unwavering community dedication inspire all who seek progress and enlightenment.

More About Me

Newsletter

Top Selling Multipurpose WP Theme