
میو قوم کا نسلی ارتقاء، بارہ پال باون گوت کا نظام اور نات گوت کی معاشرتی اہمیت:
حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو
برصغیر پاک و ہند کی انسانی تاریخ میں میو قوم ایک ایسی اکائی کے طور پر ابھری ہے جس کی جڑیں قدیم ہندوستان کے سماجی ڈھانچے اور اسلامی تہذیب کے ملاپ سے استوار ہوئی ہیں۔ میو، جنہیں میواتی بھی کہا جاتا ہے، بنیادی طور پر شمالی مغربی ہندوستان کے خطہ “میوات” سے تعلق رکھتے ہیں، جو موجودہ ہریانہ کے ضلع نوح (گڑگاؤں)، راجستھان کے اضلاع الور اور بھرت پور، اور اتر پردیش کے کچھ حصوں پر مشتمل ہے 1۔ میو قوم کی شناخت کا سب سے اہم پہلو ان کا “نات گوت” کا نظام ہے، جو ان کی نسلی پاکیزگی، سماجی تنظیم اور شادی بیاہ کے ضوابط کو کنٹرول کرتا ہے۔ یہ نظام بارہ “پالوں” اور باون “گوتوں” پر مبنی ہے، جو تیرہویں صدی میں رانا کاکو بالوت میو کے دور میں باقاعدہ طور پر مرتب کیا گیا تھا 1۔ میو قوم کی یہ سماجی ساخت انہیں دیگر مسلم گروہوں سے ممتاز کرتی ہے کیونکہ انہوں نے اسلام قبول کرنے کے صدیوں بعد بھی اپنے قدیم ہندو راجپوت اور چھتری رسم و رواج، خاص طور پر نسب ناموں اور خاندانی تنظیم کو برقرار رکھا ہے 3۔

میو قوم کا تاریخی پس منظر اور نسلی جڑیں
میو قوم کی اصلیت کے حوالے سے مورخین اور ماہرینِ بشریات کے درمیان مختلف نظریات پائے جاتے ہیں۔ ایک مقبول نظریہ یہ ہے کہ میو اصل میں “میڈ” یا “مڈ” نامی قدیم قبیلے کی اولاد ہیں، جن کا ذکر قدیم یونانی اور فارسی تاریخوں میں ملتا ہے 5۔ ورجل جیسے قدیم لکھاریوں نے جہلم کے علاقے میں ان کا تذکرہ کیا ہے، اور ابتدائی عرب مورخین نے انہیں سندھ اور دیبل کے ساحلوں پر آباد ایک طاقتور گروہ کے طور پر بیان کیا ہے جو اکثر جاٹ قبائل کے ساتھ برسرِ پیکار رہتے تھے 5۔ لفظ “میو” کی اشتقاقی تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ “ماہیو” (Maheo) سے نکلا ہے، جو مویشی ہانکنے والوں کے لیے استعمال ہوتا تھا، یا پھر ایچ اے روز کے مطابق اس کا مطلب “پہاڑی آدمی” ہے، جو الور اور ہریانہ کے اراولی پہاڑی سلسلوں میں ان کی سکونت کی طرف اشارہ کرتا ہے 5۔
نسلی طور پر میو خود کو راجپوت تسلیم کرتے ہیں اور ان کا دعویٰ ہے کہ وہ ان ہندو راجپوتوں کی اولاد ہیں جنہوں نے گیارہویں سے سترہویں صدی کے درمیان مختلف صوفی بزرگوں، جیسے غازی سید سالار مسعود، خواجہ معین الدین چشتی اور حضرت نظام الدین اولیاء کے زیرِ اثر اسلام قبول کیا 1۔ میو قوم کا یہ راجپوت پس منظر ان کے نسب ناموں (Vansh) سے بھی ظاہر ہوتا ہے، جنہیں وہ اگنی ونشی، چندر ونشی اور سورج ونشی گروہوں میں تقسیم کرتے ہیں 1۔ سائنسی نقطہ نظر سے میو قوم کے جینیاتی مطالعے (DNA) سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ ان میں Haplogroup R1a1 اور مارکر M17 کثرت سے پایا جاتا ہے، جو انہیں قدیم ہند-یورپی (Indo-European) نسلوں سے جوڑتا ہے جنہوں نے تقریباً 10,000 سال قبل وسطی ایشیا سے ہندوستان کی طرف ہجرت کی تھی 8۔
| نسلی گروہ (ونش) | مذہبی/تاریخی تعلق | اہم پالیں اور گوتیں |
| سورج ونشی | بھگوان رام کی اولاد (کچھواہا/راجپوت) | دھینگل، سنگل، رتاوت |
| چندر ونشی | ارجن اور کرشنا کی اولاد (ٹومر/جادو) | دولوت، چھیرکلوت، ڈیمروت، پونگلوت، نیائی |
| اگنی ونشی | آگ سے پیدا ہونے والے (چوہان/پنوار) | چوہان، پنوار، کھوکھر |
میو قوم کی یہ دوہری شناخت—یعنی عقیدے کے لحاظ سے مسلمان اور معاشرتی ڈھانچے کے لحاظ سے راجپوت—ان کے “نات گوت” کے نظام کو جنم دیتی ہے، جو ان کی تمام سماجی سرگرمیوں کا محور ہے 3۔
نات گوت کا تصور اور اس کی معاشرتی اہمیت
میو معاشرے میں “نات” (Nate) سے مراد رشتہ داری اور تعلق ہے، جبکہ “گوت” (Got) سے مراد مورثِ اعلیٰ سے چلنے والی شاخ یا خاندان ہے 10۔ میو قوم میں نات گوت کا نظام صرف ایک شجرہ نسب نہیں بلکہ ایک مکمل ضابطہ اخلاق ہے جو شادی بیاہ، زمین کی ملکیت اور قبائلی وفاداریوں کا تعین کرتا ہے۔ اس نظام کی سب سے بڑی اہمیت “اخراجی شادی” (Exogamy) کے اصولوں میں پوشیدہ ہے 3۔ اسلام میں کزن میرج (چچا زاد، پھوپھی زاد وغیرہ سے شادی) جائز ہے، لیکن میو قوم میں اسے سختی سے ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ ایک میو مرد یا عورت اپنی گوت، اپنی ماں کی گوت، اپنی دادی کی گوت، اور یہاں تک کہ اپنے پورے گاؤں میں شادی نہیں کر سکتے 3۔
اس نظام کی معاشرتی اہمیت درج ذیل نکات سے واضح ہوتی ہے:
- سماجی اتحاد اور امن: نات گوت کے تحت شادی کے لیے دور دراز کے خاندانوں کا انتخاب کیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے مختلف پالوں اور گوتوں کے درمیان وسیع تر سماجی اتحاد پیدا ہوتا ہے۔ ایک پال کے تمام افراد ایک دوسرے کو بھائی بہن سمجھتے ہیں، جس سے اندرونی تنازعات کم ہوتے ہیں 3۔
- نسلی پاکیزگی کا تحفظ: میو اپنی راجپوت جڑوں پر فخر کرتے ہیں اور نات گوت کے سخت قوانین کے ذریعے وہ دیگر گروہوں کے ساتھ خلط ملط ہونے سے بچتے ہیں۔ یہاں تک کہ تبلیغی جماعت کی دہائیوں پر محیط کوششوں کے باوجود میو قوم نے کزن میرج کو اپنانے سے انکار کر دیا ہے، جو ان کی اپنی روایات سے گہری وابستگی کا ثبوت ہے 3۔
- قبائلی تنظیم: نات گوت کے ذریعے میو قوم مختلف تہوں میں منقسم ہے، جیسے کہ گوت (سب سے چھوٹی اکائی)، تھمبا (کچھ دیہاتوں کا مجموعہ)، اور پال (ایک بڑے جغرافیائی علاقے کی نمائندگی کرنے والا قبیلہ) 3۔ یہ ڈھانچہ انہیں جنگوں اور بحرانوں کے وقت ایک طاقتور عسکری قوت میں تبدیل کرنے میں مدد دیتا رہا ہے۔
بارہ پال اور پلاکڑہ کا تفصیلی جائزہ
میو قوم کی سماجی تنظیم میں “پال” کا مقام سب سے بلند ہے۔ پال ایک بڑے جغرافیائی رقبے اور ایک ہی مورثِ اعلیٰ سے تعلق رکھنے والے ہزاروں خاندانوں کے اتحاد کا نام ہے 1۔ روایتی طور پر میو قوم بارہ پالوں میں تقسیم ہے، لیکن ایک تیرہویں پال بھی ہے جسے “پلاکڑہ” کہا جاتا ہے، اور اسے نسبتاً کم تر یا ثانوی درجہ دیا جاتا ہے 1۔
جادو ونشی (چندر ونشی) پالیں
یہ پالیں خود کو بھگوان کرشنا کی اولاد اور یادو (جادو) راجپوتوں سے منسوب کرتی ہیں۔ ان کی تعداد پانچ ہے:
- دولوت (Dulot): یہ میو قوم کی ایک بڑی اور معزز پال ہے 6。
- چھیرکلوت (Chhirkalot): ان کا اثر و رسوخ میوات کے وسطی علاقوں میں زیادہ رہا ہے 1。
- ڈیمروت (Demrot): یہ بھی جادو ونشی شاخ سے تعلق رکھتے ہیں 8。
- پونگلوت (Punglot): انہیں شیکھاوت کے نام سے بھی جانا جاتا ہے 1。
- نیائی (Nai): اس پال کو “بھمدوات” بھی کہا جاتا ہے اور یہ جادو ونشی گروپ کا حصہ ہے 1。
سورج ونشی پالیں
یہ پالیں بھگوان رام کی اولاد (کچھواہا راجپوت) ہونے کا دعویٰ کرتی ہیں:
- دھینگل (Dhengal): یہ کچھواہا ونش کی نمائندگی کرتی ہے 5。
- سنگل (Singal): یہ بڈگوجر راجپوتوں سے نکلی ہوئی پال ہے 1。
ٹومر (تومر) اور دیگر پالیں
- رتاوت (Ratawat): ان کا تعلق ٹومر راجپوتوں سے ہے 1。
- بالوت (Balot): یہ بھی ٹومر شاخ سے ہیں اور میوات کی تاریخ میں اہم رہے ہیں 1。
- دیڑوال (Dedwal): یہ بھی ٹومر ونش کا حصہ ہیں 1。
- لڈاوت (Ludawat): انہیں “باگوڑیا” بھی کہا جاتا ہے 6。
- کلیسا (Kalisa): یہ بارہویں پال کے طور پر جانی جاتی ہے 1。
پلاکڑہ (تیرہویں پال)
- پاہت (Pahat): اسے “پلاکڑہ” کہا جاتا ہے، جس کا مطلب ہے ایک چھوٹی یا ادنیٰ پال۔ اسے اکثر بارہ اصلی پالوں سے الگ یا ثانوی حیثیت میں رکھا جاتا ہے 1۔
میو قوم کی ان پالوں کے درمیان جغرافیائی تقسیم انتہائی واضح ہے، اور ہر پال کا اپنا ایک “چوہدری” یا سردار ہوتا ہے جو پنچایت کے ذریعے سماجی فیصلے کرتا ہے 3۔
باون گوتوں کا نظام اور ان کی تقسیم
پالوں کے برعکس “گوت” کا دائرہ کار زیادہ وسیع اور پیچیدہ ہے۔ میو قوم میں باون (52) گوتیں پائی جاتی ہیں، جو ان کے تمام نسلی گروہوں کا احاطہ کرتی ہیں 5۔ ان گوتوں کی تقسیم صرف راجپوتوں تک محدود نہیں ہے، بلکہ ان میں برہمن، گوجر اور مینا قبائل کی جڑیں بھی ملتی ہیں، جو اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ میو قوم دراصل مختلف ہندو قبائل کے اسلام میں ضم ہونے سے تشکیل پائی ہے 1۔
ماہرینِ بشریات نے ان باون گوتوں کو درج ذیل زمروں میں تقسیم کیا ہے 5:
- 8 گوتیں: خالص راجپوت قبائلی ناموں پر مبنی ہیں۔
- 8 گوتیں: برہمن اور گوجر ناموں سے منسوب ہیں۔
- 3 گوتیں: ان دیہاتوں کے نام پر ہیں جہاں سے اس خاندان کا آغاز ہوا۔
- 4 گوتیں: خاندانی پیشوں یا عہدوں سے منسوب ہیں۔
- 16 گوتیں: ایسی ہیں جن کا ماخذ ابھی تک نامعلوم ہے یا تاریخ میں گم ہو چکا ہے۔
اہم گوتیں اور ان کا ونش (Lineage)
میو قوم کی گوتوں کا ایک بڑا حصہ اگنی ونشی، چندر ونشی اور سورج ونشی تقسیم کے تحت آتا ہے 1:
| ونش (Lineage) | کل گوتیں | اہم گوتوں کے نام |
| سورج ونشی (ٹومر) | 18 | کنگر، بلایانہ، کٹاریہ، لڈاوٹ، جھلاوت، دھتاوت، باگوڑیا 1 |
| چندر ونشی (چوہان) | 10 | چورسیا، جمالیہ، کلسیا، سپولیا، ساگون، منڈار 1 |
| جادو (یادونشی) | 16 | چھوکر، بھاٹی، ویر، بھابلا، جھنگالا، سلانیا، ناگلوت 1 |
| اگنی ونشی (پنوار) | 5 | کھوکھر، ملک، میول، دھینگل، سنگل 1 |
یہ گوتیں نہ صرف شادی کے قوانین کو منظم کرتی ہیں بلکہ میوات کی دیہی معیشت میں زمینوں کی تقسیم بھی انہی گوتوں کی بنیاد پر ہوتی ہے 3۔ ایک ہی گوت کے لوگ عموماً ایک ہی علاقے یا دیہاتوں کے جھرمٹ میں آباد ہوتے ہیں، جسے ان کی “جاگیر” یا علاقہ سمجھا جاتا ہے۔
میو قوم کی تاریخ: مزاحمت اور مذہبی تبدیلی
میو قوم کی تاریخ دہلی کے حکمرانوں کے خلاف مسلسل مزاحمت اور اپنی خود مختاری کے دفاع سے عبارت ہے۔ گیارہویں صدی سے لے کر برطانوی دور تک میواتی جنگجوؤں نے کبھی بھی غیر ملکی یا مرکزی اقتدار کو آسانی سے تسلیم نہیں کیا 2۔
سلاطینِ دہلی اور میواتی
دہلی سلطنت کے دور میں میواتی اپنی شورش زدہ طبیعت اور دہلی پر چھاپہ مار کارروائیوں کے لیے مشہور تھے۔ سلطان غیاث الدین بلبن کے دور میں میواتیوں کی طاقت اس قدر بڑھ گئی تھی کہ انہوں نے دہلی کے دروازوں تک لوٹ مار شروع کر دی تھی 2۔ بلبن نے 1260 عیسوی میں میوات کے خلاف ایک خونی مہم چلائی، جنگلات کٹوا دیے اور ہزاروں میواتیوں کو قتل کیا تاکہ دہلی کو محفوظ بنایا جا سکے 2۔ اس وقت کے مورخین میواتیوں کو ہندو کے طور پر بیان کرتے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس دور تک ان کی بڑی تعداد ابھی مسلمان نہیں ہوئی تھی 2۔
خانزادہ خاندان اور حسن خان میواتی
تغلق دور میں میو قوم کی سیاسی قسمت بدلی جب ان کے ایک سردار بہادر ناہر (سابقہ نام سمیر پال) نے اسلام قبول کیا اور فیروز شاہ تغلق کے دربار میں اہم مقام حاصل کیا 2۔ یہاں سے “خانزادہ” خاندان کا آغاز ہوا، جنہوں نے تقریباً دو سو سال تک میوات پر خود مختار حکمرانی کی 13۔
میوات کی تاریخ کا سب سے تابناک باب راجہ حسن خان میواتی کا ہے، جو پندرھویں صدی کے آخر اور سولہویں صدی کے آغاز میں میوات کا حکمران تھا 13۔ جب ظہیر الدین بابر نے ہندوستان پر حملہ کیا، تو حسن خان میواتی نے اپنی مذہبی شناخت کے بجائے اپنی زمین اور راجپوت وفاداری کو ترجیح دی 13۔ اس نے رانا سانگا کے ساتھ مل کر بابر کے خلاف محاذ بنایا اور 1527 میں کنواہ کی جنگ (Battle of Khanwa) میں اپنے 12,000 میواتی سواروں کے ساتھ بہادری سے لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا 13۔ حسن خان میواتی آج بھی میو قوم کے لیے حب الوطنی اور مزاحمت کی علامت ہیں 14۔
1857 کی جنگِ آزادی اور برطانوی دور
برطانوی راج کے خلاف بھی میو قوم نے بھرپور مزاحمت کی۔ 1857 کی جنگِ آزادی میں میواتیوں نے انگریزوں اور ان کی وفادار ریاستوں (الور اور بھرت پور) کے خلاف ہتھیار اٹھائے 12۔ انگریزوں نے میواتیوں کی اس باغیانہ فطرت کی وجہ سے انہیں “مجرم قبیلہ” (Criminal Tribe) قرار دے کر ان پر سخت پابندیاں عائد کیں 15۔
ثقافتی امتزاج اور سماجی زندگی
میو قوم کی سماجی زندگی ہندو اور مسلم روایات کا ایک انوکھا حسین امتزاج رہی ہے۔ صدیوں تک میو مسلمانوں نے اپنے ناموں، لباس اور تہواروں میں ہندو رنگ برقرار رکھا 4۔
- نام اور پہچان: بیسویں صدی کے آغاز تک میوؤں کے نام رام خان، شنکر خان یا ہری سنگھ جیسے ہوتے تھے 4۔ وہ مردانہ ختنہ اور مردوں کی تدفین جیسی اسلامی بنیادوں پر عمل تو کرتے تھے، لیکن ان کی شادی کی رسومات میں “نکاح” کے ساتھ ساتھ “سپت پدی” (پھیرے) اور دیگر ہندو رسمیں بھی شامل تھیں 1۔
- تہوار: میو عیدین کے ساتھ ساتھ ہولی، دیوالی اور جنم اشٹمی بھی اسی جوش و خروش سے مناتے تھے 4۔ ان کے لوک گیتوں (Lok Gathas) میں بھگوان کرشنا اور پانڈوؤں کے قصے بڑے فخر سے بیان کیے جاتے ہیں 7۔
- تبلیغی جماعت کا اثر: 1920 کی دہائی میں مولانا محمد الیاس نے میوات سے تبلیغی جماعت کی تحریک کا آغاز کیا 3۔ اس تحریک کا مقصد میوؤں کو ان کے “غیر اسلامی” رسوم و رواج سے نکال کر خالص اسلام کی طرف لانا تھا 10۔ اس تحریک کے اثر سے میوؤں کی ظاہری زندگی میں بڑی تبدیلی آئی، مساجد آباد ہوئیں اور ہندو ناموں کا رواج ختم ہوا، لیکن “نات گوت” کا سماجی ڈھانچہ آج بھی جوں کا توں برقرار ہے 3۔
ہجرتِ پاکستان اور موجودہ صورتحال
1947 کی تقسیمِ ہند میو قوم کے لیے ایک عظیم المیہ ثابت ہوئی۔ الور اور بھرت پور کی ریاستوں میں ہونے والے فسادات کے نتیجے میں لاکھوں میو بے گھر ہوئے 1۔ اگرچہ مہاتما گاندھی نے میوات کا دورہ کیا اور میوؤں کو ہندوستان کا “ریڑھ کی ہڈی” قرار دیتے ہوئے رکنے کی اپیل کی، لیکن ایک بڑی تعداد پاکستان ہجرت کر گئی 1۔
پاکستان میں میو قوم بنیادی طور پر پنجاب اور سندھ کے اضلاع میں آباد ہے 2:
- پنجاب: لاہور، قصور، سیالکوٹ، شیخوپورہ، گوجرانوالہ اور نارووال 1。
- سندھ: کراچی اور حیدرآباد 1。
پاکستان میں آباد میوؤں نے وقت کے ساتھ ساتھ اپنی الگ گروہی شناخت کافی حد تک کھو دی ہے اور وہ مقامی آبادی میں ضم ہو گئے ہیں، لیکن اپنی گوتوں اور راجپوت پس منظر کا احساس ان میں آج بھی موجود ہے 15۔ ہندوستان میں میو قوم آج بھی میوات کے علاقے میں ایک سیاسی اور سماجی قوت ہے، اگرچہ وہ تعلیمی اور اقتصادی لحاظ سے پسماندگی کا شکار ہیں، لیکن اپنی منفرد ثقافت اور “نات گوت” کے نظام کو انہوں نے سینے سے لگا کر رکھا ہے 4۔
میو قوم کی یہ داستان اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ عقیدہ بدلنے سے انسانی جڑیں اور سماجی ڈھانچے اتنی آسانی سے نہیں بدلتے۔ ان کا بارہ پال اور باون گوت کا نظام آج بھی ان کی اس قدیم پہچان کا محافظ ہے جو انہیں ہندوستان کے وسیع تر راجپوت اور چھتری معاشرے سے جوڑتی ہے۔
Works cited
- Meo (ethnic group) – Wikipedia, accessed on February 26, 2026, https://en.wikipedia.org/wiki/Meo_(ethnic_group)
- Shahabuddin Khan Meo – HISTORY OF MEWAT – AN OUTLINE – University of the Punjab, accessed on February 26, 2026, https://pu.edu.pk/images/journal/history/PDF-FILES/salauddin.pdf
- (PDF) Tablighi Jama’at Movement among Meos of Mewat …, accessed on February 26, 2026, https://www.researchgate.net/publication/375058223_Tablighi_Jama’at_Movement_among_Meos_of_Mewat_’Resistance’_and_’Reconciliation’_within_Community
- Meo and Mewati – ANCIENT DHANGAR HISTORY, accessed on February 26, 2026, http://vinaykumarmadane.blogspot.com/2015/06/meo-and-mewati.html
- Historical Roots of the Meos of Mewat – aarf.asia, accessed on February 26, 2026, https://www.aarf.asia/current/2022/Aug/vbxF2VjgICA08Xf.pdf
- صارف:Hakeem qari M younas shahid – آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا, accessed on February 26, 2026, https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B5%D8%A7%D8%B1%D9%81:Hakeem_qari_M_younas_shahid
- Composite Identity among the Meos of Mewat Pragyan Choudhary Baraut, (Baghpat) U.P., India – Social Research Foundation, accessed on February 26, 2026, http://www.socialresearchfoundation.com/new/publish-journal.php?editID=1460
- Meo – Background – FamilyTreeDNA, accessed on February 26, 2026, https://www.familytreedna.com/groups/meo/about/background
- Meo Muslim, Mev, Mewati Muslim – UBC Library Open Collections, accessed on February 26, 2026, https://open.library.ubc.ca/media/stream/pdf/52387/1.0394975/2
- 00333077 – Remaking of MEOs Identity: An Analysis, accessed on February 26, 2026, http://psychologyandeducation.net/pae/index.php/pae/article/download/4569/4018/8529
- International Journal of Reviews and Research in Social Sciences, accessed on February 26, 2026, https://www.ijrrssonline.in/HTMLPaper.aspx?Journal=International%20Journal%20of%20Reviews%20and%20Research%20in%20Social%20Sciences;PID=2019-7-2-10
- History of Mewat | PDF – Scribd, accessed on February 26, 2026, https://www.scribd.com/document/694253851/History-of-Mewat
- Hasan Khan Mewati – Wikipedia, accessed on February 26, 2026, https://en.wikipedia.org/wiki/Hasan_Khan_Mewati
- The sacrifice of Hasan Khan Mewati, who gave his life to defend the nation against the Mughals, remains unforgettable – Punjab Newsline, accessed on February 26, 2026, https://www.punjabnewsline.com/news/the-sacrifice-of-hasan-khan-mewati-who-gave-his-life-to-defend-the-nation-against-the-mughals-remains-unforgettable-74727
- Meo History Meo or Mewati (: Literature & Culture | PDF | Social Groups Of India – Scribd, accessed on February 26, 2026, https://www.scribd.com/document/642112730/Untitled
- Mewat (Folklore Memory History) – Occult-N-Things, accessed on February 26, 2026, https://occultnthings.com/products/mewat-folklore-memory-history-nag065
- THE ORIGIN AND DEVELOPMENT OF THE MEO COMMUNITY: A SOCIO-POLITICAL PERSPECTIVE – IJIM, accessed on February 26, 2026, https://www.ijim.in/files/2023/October/Vol%208%20Issue%20V%2026-30%20%20Paper%205%20The%20Origin%20and%20Development%20of%20the%20Meo%20Community%20ASocio-pol%20Perspective.pdf?_t=1700054911
- زمرہ:میو راجپوت – آزاد دائرۃ المعارف – ویکیپیڈیا, accessed on February 26, 2026, https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B2%D9%85%D8%B1%DB%81:%D9%85%DB%8C%D9%88_%D8%B1%D8%A7%D8%AC%D9%BE%D9%88%D8%AA
- Meo (Hindu traditions) in Pakistan people group profile | Joshua Project, accessed on February 26, 2026, https://joshuaproject.net/people_groups/17531/PK
