میو قوم کا جوان۔میواتی ادب کی فراہمی۔حکیم زاہد وصی سو ملاقات۔

0 comment 17 views

میو قوم کا جوان۔میواتی ادب کی فراہمی۔حکیم زاہد وصی سو ملاقات۔
حکیم المیوا قاری محمد یونس شاہد میو
میواتی ادب،ایسی کمیاب چیز ہے جائے تخلیق کرن کی ضرورت ہے۔میواتی زبان میں میو قوم کا تناسب سو جتنو کچھ لکھو گئیو ہے واکی مقدار اتنی کم ہے۔اگر تعداد کا لحاظ سے کتاب اور لٹریچر تقسیم کرو جائے تو ایک ایک کُرچہ بھی نہ آئے۔
سُنن میں آوے ہے کہ پاکستان میں میو قوم کی تعداد دو سو تین کروڑ ہے۔
گھنی محتاط بات ای ہے کہ ہم تو پچاس لاکھ سو بھی کام چلا سکاہاں۔میواتی زبان میں اگر ساری کتاب جمع کرلی جاواں۔
جن کو نام پتو ہے یا جو دستیاب ہاں ۔یا کائی نے بھی لکھی ہاں ۔وے شاعری میں ہوواں ۔نثر میں ہوواں،
یا اُولٹریچر کالم۔مضامین کی شکل میں ہوئے۔سب اے ملاکے پچاس لاکھ پے تقسیم کرو تو سمجھ

Advertisements

جائوگا
میو لکھاری یا میو قوم کا نام پے کام کرن والی تنظیم،یا میو قوم کا نام پے چوہدر کرن والی جماعت و افراد نے کتنو کام کرو ہے؟
کل میں نےحکیم سید زاہد وصی صاحب میو کو فون کرو۔
پتو چلو کہ حکیم صاحب کی طبیعت عمر کا لحاظ سو ناساز ہے۔تو ٹھوکر نیاز بیگ حکیم صاحب کے پئے جاپہنچو۔


حکیم صاحب سو مل کے بہت خوشی ہوئی،نوں دیکھ کے حکیم صاحب کی جسمانی حالت بھی میری طرح مناسب ہی
موٹو بھدو۔پیٹ نکلو ہوئیو۔چہرہ چربی سو لٹکو ہوئیو۔کچھ بھی تو نہ ہو۔سادگی ہی۔اپنایت ہی۔علمیت ہی۔
قوم کے مارے تڑپ ہی۔احساس ہو۔میو قومی روایات کی حفاظت کی فکر ہی۔علمی شخصیت دیکھن کو ملی۔
عیادت کی نیت سو شروع ہون والی ملاقات تین چار گھنٹان تک پھیلتی چلی گئی۔
حکیم صاحب نے بھرپور توجہ سو بات سُنی ۔بات کری۔ایسے لگے ہو کہ دونوں گھاں سو علمی تشنگی

کی سیرابی کو موقع ملے ہو۔
دوران گفتگو۔طب و حکمت۔تصوف۔تاریخ میواتی ادب۔لکھوگئیو میوات زبان میں لٹریچر۔میو قوم کی نفسیات۔مجموعی تاثر۔جذبات کو ایک بند ہوجو چاہتے نہ چاہتے ہوئے بھی ٹوٹ گئیو۔ایک رِستو ہوئیو قطرہ سیلابی شکل اختیار کرگئیو۔
حکیم صاحب پاکستان میں ایک طبی تنظیم کو جنرل سیکرٹری ہے،
جب یاپے بات چیت ہوئی تو پتو چلو کہ حکیم صاحب واقعی پاکستان کی دو بڑی اطباء(حکماء) تنظیمن میں سو ایک کو جنرل سیکرٹری ہے۔
کم از کم دوبات ایسی نکلی جن پے اتفاق ہوگئیو
(1)میواتی زبان میں لکھو گئیو ادب۔شائع کرو جائے۔یاکو کوئی قابل قبول لائیحہ عمل ترتیب دئیو جائے۔کچھ لوازمات پے شرح صدر کے ساتھ سیر حاصل بات چیت ہوئی۔
(2)میو قوم کا طلباء۔وے کائی بھی شعبہ سو ہوواں۔طب، انجینئیرنگ۔میڈیکل۔آئی ٹی۔ای کامرس۔ وغیرہ
ان کی سہولت کے مارے ٹھوس اقدامات اتھایا جاواں۔ حکیم صاحب طبی تنظیم کا ذمہ دار ہاں۔اُنن نے یقین دھیانی کروائی کہ طب کونسل پاکستان کا مہین سو جتنا بھی مسائل ہونگا۔میو طلباء کی ان کی مدد کری جائے گی۔
داخلہ ہوئے۔امتحان ہوئے۔سند کو حصول ہوئے۔ہربل لبوٹری۔ہر بل پروڈیکٹ۔کی قانونی امداد مہیا کری جائے۔
بحمد اللہ۔آئی کا شعبہ۔ای کامرس۔آرٹفیشل انٹلیجنس ۔ویب ڈزائننگ۔آن لائن طب کلاسز کی سروسز ۔
(ـسعد طبیہ کالج،سعد ورچوئل سکلز پاکستان کا پلیٹ فارم سو)پہلو سو مہیا کری جاری ہاں۔
بات چلتے چلتے،بابا ذادہ ڈاکٹر محمد اسحق صاحب پے بھی از راہ تذکرہ بات ہوئی۔
کہ میڈیکل کا شعبہ میں ہمارے پئے ایک مستند ادارہ موجود ہے۔
ڈاکٹر صاحب سو یا بارہ میں بات کری جاسکے ہے۔امید ہے کامیابی ہوئے گی۔
ایجو کیشن کا شعبہ میں ہمارے پئے۔عاصد رمضان میو۔
میو قوم کا اللہ واسطے کو خادم موجود ہے۔جاسو جب کہیں گا۔جہاں کہیں گا۔موجود پائیو جائےگو۔
جب غور و فکر کرو گئیو کہ میو قوم کی فلاح اور تعلیمی و فنی شعبہ جات میں کام کرن والا ناکام کیوں ہوواں ہاں ۔
ڈھونڈتے ڈھانڈتے ایک بات سامنے آئی کہ جو بھی کام کرے اُو چندہ مانگے یا چندہ کی امید راکھے ہے۔
پیسہ والا لوگن کے پئے کوئی وژن تو رہوے نہ ہے۔
ان سو جب بات کری جائے تو وہ مقصد کے بجائے کام کرن والان نے مانگنیاں۔کھانیا سمجھا ہاں۔
ادارہ چلانا،یا کام کرن کے مارے پیسہ کی اہمیت سو کون انکار کرسکے ہے؟۔
یائی بارہ میں بات چیت ہوئی کہ میو قوم کی فلاح فلاح و بہبود کو کام بغیر چندہ مانگے بھی کرو جاسکے ہے۔
ہمارے پئے یا کو پلان موجود ہے۔جو بچہ بھی ہماری خدمات حاصل کریگو۔اُو کمائے گو بھی۔گھر والان نے بھی پالے گو۔
اپنی فیس بھی دئیگو۔مانگن کھان کے بجائے۔ایک ذ مہ د ار ،خودار شہری ثابت ہوئے گو۔
حکیم صاحب اور میرا خیالات میں بہت گھنی ہم آہنگی ہی۔
بہت گھنی بات ہوئی۔جلد ہی کائی سمجھوتہ پے سائن انگوٹھا ہوجانگا۔
اور میو قوم کا جوانن کے مارے بہتر مستقبل کو عملی نمونہ پیش کرو جائے گو۔
جب میں نے اپنی چار کتاب۔
مہیری۔
میو قوم کا ہیرو۔
تعلیم الاسلام۔
جادو کی تاریخ۔
پیش کری توحکیم صاحب بہت راضی ہوئیو،ڈھیروں دعا دی۔
مغرب کے بعد دھند شروع ہوگئیو۔مجبورا گھر واپس آنو پڑو۔
اگر موسم کی نزاکت نہ ہوتی ممکن ہے ای ملاقات اور بھی گھنی دیر چلتی۔

Leave a Comment

Hakeem Muhammad Younas Shahid

Hakeem Muhammad Younas Shahid

Hakeem Muhammad Younas Shahid, the visionary mind behind Tibb4all, revolutionizes education and daily life enhancement in Pakistan. His passion for knowledge and unwavering community dedication inspire all who seek progress and enlightenment.

More About Me

Newsletter

Top Selling Multipurpose WP Theme