
میواتی بولی چھوڑنے والے۔اپنی پہچان بھول گئے
حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو
میوات کا علاقہ اپنے اندر بہت سی خصوصیات رکھتا ہے ۔ کتب تواریخ میں کئی ایسے مقواقع آئے کہ اہلیان میوات نے ہجرتیں کیں۔میو قوم ہمیشہ سے دہلی سرکار سے پرسرپیکار رہی ہے۔کچھ لوگ اپنی جفاکشی اور نظریاتی حدود کی حفاظت میں لڑتے مرتے رہے ۔لیکن اپنے اصولوں یا جنم بھومی پر ا
یہ بھی پڑھئے
حکیم عبدالشکور کی کتاب تاریخ میوچھتری
غیار کا قبضہ و تسلط برداشت نہیں کیا۔۔
میوات کا علاقہ اپنی جغرافیائی حدود میں سُکڑتا اور پھیلتا رہا ہے۔مختلف حکمرانوں نے اسے ہر ممکن ہڑپنے کی کوشش کی۔جتنا جسے مطلوب تھا اس سے خطہ اراضی الگ کرلیا۔سلطنت دہلی میوات پر ہمیشہ سے نظر رکھتی رہی ہے۔کسی بادشاہ کو میوات کا علاقہ نظر انداز کرنے کی ہمت نہیں ہوئی۔بلکہ ہرممکن کوشش رہی کہ میوات کو قابو میں کرلیا جائے یا کم از کم اہل میوات کے

ساتھ بہتر تعلقات بنا لئے جائیں۔تاریخ میں یہ دنوں رُخ بیان کئے گئے ہیں۔
1947 کی ہجرت کوئی پہلی ہجرت نہ تھی ۔کئی بار بہت سے لوگوں نے میوات کو چھوڑا ہے۔دوسروں علاقوں اور دوسرے ممالک میں رہائش اختیار کی اور وہیں کے ہوگئے۔اس میں شک نہیں کہ جس میو نے بھی میوات کا علاقہ چھوڑا۔دوسرے علاقوں میں جابسنے کے بعد وہ میواتی شناخت کھو بیٹھے۔انہوں نے بہتر مستقبل کے لئے میوات چھوڑا تھا۔وہ آہستہ آہستہ دوسرون معاشروں اور تہذیبوں میں گم ہوتے چلے گئے۔
کسی بھی علاقے کا رہن سہن وہ تیزاب ہوتا ہے جو دور پرے سے آنے والوں کی عادات و اطوار۔ خصائل زبان ۔آبائی عادات و اطوار پگھلا کر رکھ دیتا ۔ایک دو نسلوں کے بعد جولوگ وارث بنتے ہیں وہ مکمل طورپر مقامی کھٹالی مین پگھل کر ان کے سانچے میں ڈھل چکے ہوتے ہیں ۔
ہمیں یہ تو معلوم ہے کہ مختلف زمانوں میں میو قوم کے افراد نے میوات کا علاقہ چھوڑا۔فلاں فلاں مقامات پر ہجرت کرگئے۔اگر آج ان کی نسلوں سے جاکر معلوم کریں تو وہ میو ہونے سے ہی انکاری ہوجائیں گے، کوئی کچھ بن گیا کسی نے کوئی شناخت اختیار کرلی۔
ایسے لوگوں سے ملاقات ہوئی جن کا کہنا تھا ہم بھی میو ہیں لیکن میواتی نہیں آتی۔ہمارے بڑے میواتی بولا کرتے تھے۔ہمارے داد کو میواتی بولی آتی تھی ،وہ بولا کرتے تھے۔جب وہ مرے تو ہمارے والد ماجد کو میواتی بولنی نہیں آتی البتہ کچھ کچھ سمجھ لیتے ہیں۔ بھئی ہمیں نہ تو میواتی بولنی آتی ہے ۔نہ میواتی کو سمجھ سکتے ہیں۔
جن لوگوں نے علاقہ میوات یا میواتی تہذیب کو چھوڑا یہ کرامت ہے اس علاقے کی کہ اسے چھوڑنے والوں سے پہنچان بھی گم ہوگئی۔ یہ المیہ کسی ایک شہر یا علاقے کا نہیں۔بلکہ دنیا بھر مین پھیلے ہوئے میواتی لوگوں کا ہے ۔ہمارے ایک بھیجے کالنگ اور انٹرنیٹ پر ٹیوشن پڑھانے کا کام کرتے ہیں ۔اب تو انٹر نیٹ کی دنیا بہت بدل گئی ہے۔دس پندرہ سال پہلے اس کی موجودہ شکل نہ تھی۔وہ لوگ کال کرتے تھے اور گاہگ تلاش کیا کرتے تھے۔ان کا کہنا ہے ایک دن ہم نے فجی لینڈ کے کسی نمبر پر کال کی۔سامنے میزبان خاتون سے بات چیت ہوئی ۔وہ میونی تھی،اس سے تعارف ہوا ۔بات چیت آگے بڑھی تو عقد ہ کھلا کہ جنت عظیم دوم کے دوران ان کے دادا جی فجی لینڈ آرہے تھے۔اس کے بعد میوات سے ناطہ ٹوٹ گیا،یہیں کے ہوکر رہ گئے۔
مشہور میواتی سنگر ریاض نور کا کہنا ہے کہ میرا پروگرام کودیکھ کر بلوچستان کی مائی اپنے بیٹے سے کہنے لگی بیٹا اس پروگرام میں جو میواتی بولی جارہی ہے ۔ہماری اصل بولی یہی ہے۔یعنی ہم میو ہیں ۔لیکن صدیوں پہلے ہم یہاں آئے تو یہیں کے ہوکر رہ گئے۔ہم میو ہیں۔اس کے بعد ان سے رابطہ بھی ہوا۔
آپ پاکستان کے کئی علاقوں میں جاکر دیکھ لیں بہت سے میو ایسے بھی موجود ہیں۔جنہیں اب معمول ہوا کہ وہ میو تھے۔یعنی جس نے بھی میوات کا علاقہ چھوڑا۔وہ میواتی ثقافت و پہنچان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔
