میواتی ادب و تاریخ ترتیب۔اور مضامین کی آمد

0 comment 8 views
میواتی ادب و تاریخ ترتیب۔اور مضامین کی آمد
میواتی ادب و تاریخ ترتیب۔اور مضامین کی آمد

میواتی ادب و تاریخ ترتیب۔اور مضامین کی آمد
حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو
https://dunyakailm.com/mewati-literature%d9%85%db%8c%d9%88%d8%a7%d8%aa%db%8c-%d8%a7%d8%af%d8%a8/%d9%85%db%8c%d9%88%d8%a7%d8%aa%db%8c-%d8%a7%d8%af%d8%a8-%d9%88-%d8%aa%d8%a7%d8%b1%db%8c%d8%ae-%d8%aa%d8%b1%d8%aa%db%8c%d8%a8%db%94%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%85%d8%b6%d8%a7%d9%85%db%8c%d9%86-%da%a9%db%8c/
آتے ہیں غیب سے یہ مضامیں خیال میں
غالبؔ صریرِ خامہ نوائے سروش ہے

Advertisements

میواتی ادب لکھنو میرے مارے خدا نے آسان کردئیو ہے۔ہمہ دانی کو دعویٰ نہ ہے۔لیکن اتنی بات ضرور ہے جب لکھن بیٹھوہوں تو مضامین اور عبارات کی لائن لگ جاوے ہے۔قدرتی طورپےایسا مضامین ذہن میں القاء ہووا ہاں کہ یاسو پہلے کدی وہم و گمان بھی ان کو گذر نہ ہو۔نہ یابارہ میں لکھن پے طبیعت آمادہ ہی۔لیکن مضامین کو القاء بسااوقات اتنو گھنو ہوجاوے ہے کہ اصل مضمون ثانوی حیثیت اختیار کرجاوے ہے۔
کدی مدی کائی مضمون کے مارے کتابن کو مطالعہ کرنے پڑے ہے مطلب کی بات کدی تو فورا ہی مل جاوے ہے کدی کئی کئی سو صفحات کا مطالعہ سو بھی اطمنان نہ ہووے ہے۔لیکن یہی مطالعہ جب مضامین کو القاء ہووے ہے تو ایسے لگے ہے کہ فلاں وقت جو کتابن کی ورق گردانی کری ہی۔شاڑتو ڑے وہد آج کا مضمون کے مارے ہی۔
اللہ کو خاص کرم ہے جب لکھن بیٹھو ہوں تو متعلقہ حوالہ جات ذہن میں ایسے اُمنڈا ہاں جیسے کوئی فوارہ تیزی سو ابل رو ہوئے۔

فیض احمد فیض کہوے ہے
دل میں اب یوں تیرے بھولے ہوئے غم آتے ہیں
جیسے بچھڑے ہوئے کعبے میں صنم آتے ہیں

یا چیز سو کدی کدی پریشانی بھی ہوجاوے ہے کہ جا مضمون اے لکھ بیٹھو ہوں،اُو پیچھے رہ جاوے ہے۔جا مضمون کا بارہ القائی کیفیت طاری ہووے ہے۔اُو آگے بڑھ جاوے ہے۔
یادوران دماغ و قلم معمول سو کہیں تیز چلن لگ پڑا ہاں۔مختصر وقت میں اتنو گھنو لکھ دو ہوں عام حالات میں اتنا سوچنا سو بھی طبیعت پے گرانی محسوس ہون لگ جاوے ہے۔
یہی وجہ ہے کہ جب میں اپنا پرانا فولڈر ن نے دیکھوں ہوں تو ایسا مضامین۔بلکہ کتابن کو مکمل لے آئوٹ ملے ہے اگر شعوری انداز میں ایسو پیٹر تیار کرنو پڑے تو سوچ و بچار میں کئی گھنٹہ بلکہ کئی دن لگ سکاہاں ۔لیکن جب ای کیفیت طاری ہووے ہے تو مختصر وقت میں اتنا کام سِمٹے ہے کہ میں یاکی کوئی توجیح بیان کرن سو قاصر ہوں۔
اگر یا دوران کائی وجہ سو اٹھنو پڑجائے یعنی تسلسل ٹوٹ جائے۔بعد میں لاکھ کوشش کروں ایسو ربط پیدا ہووے ای نہ ہے۔ کئی کتاب جن کو لے آئوٹ اور فارمیٹ اور موضوع ایسو چنیدہ اور نرالو رہوے ہے کہ موئے خود حیرانی ہووے ہے کہ ای کیسے ممکن ہوسکو۔؟

مرزا غالب کہوے ہے
کبھی اے حقیقتِ منتظر نظر آ لباسِ مجاز میںکہ
ہزاروں سجدے تڑپ رہے ہیں مری جبینِ نیاز میں

یہ ساری بات کائی بزرگی یا کائی تفوق کی وجہ سو نہ لکھ رو ہوں۔بلکہ میں بتانو چاہ رو ہوں کہ میرے ساتھ ایسو ہووے ہے۔کدی مدی ایسو بھی ہووے ہے کہ یادداشت کے مارے کچھ باتن نے الگ سو لکھ دئیو ہوں۔وا وقت مضامین کی مکمل ترتیب ذہن میں رہوے ہے۔لیکن جب ای کیفیت زائل ہووے ہے تو لاکھ کوشش کروں یہ مضامین متفرقہ یکجا ہووا ای نہ ہاں۔
بحمد اللہ بچپن سو کتاب و قلم سو لگائو رہو ہے۔سفر وحضر میں کاغذ۔قلم۔اور کتاب ساتھ رہوے ہی۔ سرہائے ان چیزن کو موجود ہونو گویا کہ معمولات شب و روز میں داخل ہو۔ایسو بھی وقت آجاوے ہے کہ سوتا کی اچانک آنکھ کھلی۔بدن پورا طریقہ سو چاک و چوبند ۔کوئی سستی کاہلی نہ ۔قلم اٹھائیو لکھنو شروع کردئیو۔جب تک مضمون سمیٹ نہ لئیو یا حالت سو باہر نہ آسکو ۔دھیرئیں جب سرہانے اتنو کچھ لکھو ملتو تو حیرت ہووے ہی۔لیکن ذہن میںہلکی سے یاد ٹمٹماوے ہی کہ ای تینے ای رات میں لکھو۔پھر میری لکھائی میں میرا سرہانہ کے نیچے۔یہ مضامین ملے ہا تو عادت سی ہوگئی ہی۔کہ ایسو بھی ہوسکے ہے۔طب و عملیات اور تاریخ و ادب کا موضوع پے میرا بہترین کالم و مضامین ان ہی کیفیات میں لکھا گیا ہا۔
ایسو بھی کئی بار ہووے ہو اب بھی کدی مدی ہوجاوے ہے کہ اچھو بھلو چل پھر رو ہوں یا دوست احباب،گھر والان سے بات چیت کررو ہوں۔طبیعت ایسی بوجھل ہووے ہے۔کہ نیند بہت زیادہ غلبہ پاری ہے۔مجبورا موئے لیٹنو پڑے ہے۔
ای نیند چند منٹ کی رہوے ہے۔پھر آنکھ کھل جاوے ہے۔میں لیٹو رہنو بھی چاہوں تو کڑی اے بستر پے نہ ٹہرا سکوہوں۔لازمی اٹھنو پڑے ہے،
یا چند منٹ کی نیند میں کچھ ایسا مضامین۔یا زندگی سو منسوب کچھ واقعات جن کو میری ذات یا میرا متعلقین میں سو تعلق ہوئے۔سیندک دکھائی دیواہاں۔گویا کہ بعد میں رونما ہون والو واقعہ موکو پہلے دکھائی دئیو جاوے ہے۔ضروری نہ ہے کہ ہر واقعہ کا بارہ میں ایسو ہوتو ہوئے۔لیکن کچھ واقعات میں ایسو ہووے ہے۔حیرت انگیز طور پے۔جو دکھائی دئیو ہوبہو ایسے ای ہووے ہے۔
لیکن میری زندگی کا رکھ رکھائو میں ان کیفیات کو بہت عمل دخل ہےمثلا ایک تعلق دار ہے واسو بہترین مراسم اور معاملات ہاں۔کائی قسم کو کوئی وہم شبہ و شبہ ۔تعلق میں دراڑ کو وہم بھی نہ رہوے ہے۔موئے ان تعلقاتن سو بہت سی توقعات وابسطہ رہوا ہاں۔لیکن میں روک دئیو جائو ہوں۔ای سب کچھ میری سمجھ سو بالاتر رہوے ہے۔البتہ کچھ وقت کے بعد جو کچھ دیکھو رہوے ہے۔ہو بہو ہوجاوے ہے۔
شاید یہی وجہ ہے کہ دنیاوی طورپے بہترین تعلقات یامارے روک دیا گیا کہ طبیعت کو میلاپ ختم ہوکے رہ گئیو۔زندگی میں بہترین دوست ۔اور تعلق دار ایسا بھی ہاں۔بلاسبب رُک گیا۔لیکن بعد کا حالات نے ثابت کرو کہ تعلقات کو ای تعلق میرے مارے رحمت ثابت ہوئیو۔
دنیاوے لحاظ سو ایسا لوگ اچانک زندگی میں آیا جن کا بارہ میں عام آدمی سوچ بھی نہ سکے ہے۔ یہ تعلقات مخصوص مدت تک چلا۔پھر اچانک راستہ جدا ہوئیو۔وے لوگ جن کا بارہ تاثر ایسو ہو کہ ان کے بغیر زندگی ادھوری ہے ۔وے جب زندگی سو بے دخل ہویاتو پتو چلو کہ قدرت یاسو آگے کچھ کرنو چاہ ری ہے۔
کچھ لوگ ایسا آیا ان کا توسط سو وے کام ہویا جن کی توقع بھی نہ کری جاسکے ہی۔جن ان کی ضرورت نہ رہی تو بغیر کائی لڑائی جھگڑا۔اور کشیدگی کے راستہ الگ ہوگیا۔
موئے اب ایسو لگن لگ پڑو ہے کہ قدرت جب موسو کوئی کام لینو چاوے ہے تو واکا اسباب۔واسو متعلقہ افراد۔وسائل اور ضرورت کی ساری چیز لین باندھ کے باری باری چلی آواہاں۔جب کام ہورو ہوجائے تو مستعار چیز سب واپس لے لی جاواہاں۔ان میں نفع و نقصان کی بحث ثانوی حیثیت راکھے ہے۔موئے تو اپنی طبیعت کے خلاف رونما ہون والی ہر چیز میں اللہ کی حکمت محسوس ہووے ہے۔جو کچھ بھی خلاف طبع ہووے ہے زبان سو بے اختیار نکلے ہے بہتر ہوئیو۔اللہ کا مہیں سو یامیں خیر ہوئے گی،حقیقت میں خیر ہی کی شکل نمایاں ہوجاوے ہے۔
اب طبیعت میں ایسو ٹہرائو ہے۔کہ پوری کائینات کا بارہ میں ایسے لگے ہے جیسے سب کچھ میرا فائدہ اور ضرورت کے مارے بنائی گئی ہے۔جو کچھ رونما ہووے ہے،وا وقت میری عقل کام کرے نہ کرے۔سمجھ میں آوے یا نہ آوے لیکن جو بھی ہووے ہے اُو بہتری کے مارے ہووے ہے۔رہی بات ذاتی نفع اور رغبت کی تو ان کی حیثیت و حقیقت یاسو زیادہ کہا ہوسکے ہے ۔ایک معمولی عقل سے لامتناہی سلسلہ اے ناپن کی کوشش رہوے ہے۔کاملات میں ناقصات کی حقیقت کہا ہوسکے ہے۔
ضروری نہ ہے کہ ہر وقت طبیعت میں انبساط و روانگی رہتی ہوئے۔کدی کدی انقباض بھی اتنی شدت اختیار کرجاوے ہے۔مضامین لکھنو اور مختلف معاملات پے خامہ فرسائی تو رہی ایک گھاں کو۔اپنو نام تک لکھنو مشکل ہوجاوے ہے۔ایسو بند لگے ہے کہ واکا اثرات میرا چہرہ مہرہ سو لیکے چال ڈھال تک میں نمایاں دکھائی دیوے ہے۔دوست چاحبات گھر والا۔متعلقین سبن سو بے زاری ۔لیکن ای گھٹن ایسی رہوے ہے جیسے برسات سو پہلے فضاء میں گھٹن پیدا ہووے ہے۔واسو پیچھے موسلا دھار بارش برسے ہے۔
جب انقباض انبساط سو بدلے ہے تو۔نت نیا مضامین خیالات میں ندرت۔طبیعت میں فرحت و تازگی۔اور چال ڈھال میں چستی پھرتی انگ انگ میں توانائی کی ایک لہر محسوس ہووے ہے۔کام کی رفتار بے تھکان اتنی زیادہ ہوجاوے ہے۔عام حالات میں ایسو کچھ دکھائی نہ دیوے ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میواتی ادب و تاریخ ترتیب۔اور مضامین کی آمد
حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو

جب ہوا عرفانِ غم، آفتیں ٹلتی گئیں
زندگی میں مشکلیں آئیں کہ آساں ہو گئیں

انسانی زندگی میں کچھ لمحات ایسار ہواہاں جب سوچ اور عقل و اعتبار کو پیمانہ تبدیل ہوجاوے ہے۔لگا بندھا کام کدی اتنا مشکل اور پیچیدہ ہوجاواہاں کہ کرنا دشوار دکھائی دیواہاں ۔کدی مشکلات اتنی سہل لگا ہاں کہ انسان اُو کچھ کرجاوے ہےجو سوچ میں بھی رہوے ہے۔
انسان ہر وقت سوچے اور نیو سیکھے ہے۔جب ایسو نہ کرسکے تو زندگی کی بربادی شروع ہوجاوے ہے۔سیکھنو ان معنان میں نہ ر ہوےہے جیسے بچہ پڑھایو جاوےہے۔ گوکام وہی رہوے ہے نوعیت تبدیل ہوجاوے ہے ۔
بچپن میں استاد یا مضامین کی سختی بچہ اے پریشان کردیوے ہے۔کچھ نامانوس الفاظ۔کچھ مضامین کی گہرائی۔کچھ امتحان کو ڈر۔لیکن یہ ساری کیفیات بچہ کو ہر دم کچھ نئیو سکھاواہاں۔
یاے ہی انسان کا مشکل حالات رہواہاں۔مشکلات کا بارہ میں مذہبی نکتہ نظر اور دنیاوی لحاظ سے انداز فکر الگ الگ رہوا ہاں۔لیکن ایک بات مشترک ہے کہ مشکلات انسانی صلاحیتں کو ابھار اور دنیا اے پرکھن کو بہترین ذریعہ رہوا ہاں۔
زندگی کا سفر میں ضروری تو نہ ہے کہ سایہ دارختن کو ماحول رہے۔سفر ہے کہیں چھاں تو کہیں دھوپ۔کہیں ضروریات زندگی ملا ہاں تو کہیں کفایت شعاری۔اور تہی دستی۔کہیں وسائل و آرام کھونو پرے ہے تو کہیں کچھ نیو سیکھن کو اور دیکھن کو ملے ہے۔خوبصورت و بدصورت لوگ ملاہاں ۔لیکن آرام و تکلیف کے پیش نظر سفر روکو نہ جاسکے ہے۔
کدی غور کرو ہے کہ جہاں سواری کو حصول مشکل ہوجائے۔کھانا کی دستیابی۔صفائی ستھرائی۔ مشکل ہوجائے۔گوکہ انسان ان باتن سو مرے نہ ہے۔لیکن ایسا راستہ ضرور تلاش کرلیوے ہے جہاں ان کی بہم رسانی یقینی بنائی جاسکے۔
عملی زندگی میں لوگن کو برتائو۔معاملات میں اعتماد یا بددنیانتی ۔مسائل کو حل یا رکاوٹ ۔انسان کو بہت کچھ سکھاواہاں ۔کائی سو توقع راکھنو اور امید قائم راکھنی دنیا کی مشکل ترین باتن میں سو ہاں ۔انسانی زندگی میں دوسران پے بھروسہ بھی کرے ۔دھوکہ بھی کھاوے ہے ۔لیکن بے توقع اور امید شیشہ کا وے محل ہاں جو بہت جلدی چکنا چور ہوجاواہاں،میری زندگی میں جتنی تاخیر اور معاملات میں الجھائو توقعات اور بے امیدن نے پیدا کرو ہے۔شاید ہی کائی چیز نے کرو ہوئے۔
وہ میرا دوست ہے سارے جہاں کو ہے معلو م
دغا کرے گا تو میرا ہی اعتبار جائے گا—
قتیل شفائی
طویل تجربات اور صحرائے زندگی میں سفر کو حاصل ای ہے کہ جو چیز تم خود نہ کرسکو ہو۔امکانی حد تک سمجھ لئیو کہ وائے کوئی دوسرو کیوں کرےگو؟۔تہارا کام کی جو اہمیت تہارا ذہن میں ہے اُو دوسرا کا ذہن میں کدی بھی پیدا نہ ہوسکے ہے۔کام وہی پورے اور نتیجہ خیز رہوے ہے جوبَروقت اور لگن کے ساتھ پورو کرو جائے۔ہر انسان کی ترجیحات جداگانہ رہواہاں۔جن باتن نے تم فضول و لایعنی سمجھو ہو ۔دوسران کے مارے وے اتنی ہی اہم اور ضروری رہوا ہاں۔
یائی طرح جو تہاری ترجیحات رہوا ہاں ۔لوگ ان سو وقت کو ضیاع اور وسائل کی بربادی کہواہاں۔یاکو تجربہ بارا ہا ہوئیو۔شروع شروع کی بات ہے۔میں زندگی اور لوگن نے ایسو ہی سمجھے ہو جیسے محسوس کرے ہو۔لیکن وقت اور حالات نے میری غلط فہمی دور کردی۔تصور دوستی و یاری۔اخلاص کا پیمانہ۔ضروریات کی تکمیل۔رشتہ ناطہ ۔یاری دوستی۔لین دین کا معاملات۔قول و قرار کی پختگی اور وعدان کو ایفا۔ہر عمر اور ہر موقع پے ان کا نیا روپ دیکھا۔
نو کہہ سکو یہ فصل یا درخت ہاں۔جو بیج پھوٹے ۔کونپل نکلے۔آہستہ ا ٓہستہ پروان چڑھے ہے۔ضرورت کے مطابق کدی تو وائے بچپن میں ہی اکھاڑ کے واکی جڑ اے دوا دارو یا ضرورت دیگر کے پیش نظر استعمال کرلی جاوے ہے۔کدی کچھ بڑو ہوجائے تو واکو تنا یا شاخ کام میں لائی جاوے ہے ۔کدی جب درخت مضبوط و تناور ہوجاوے ہے واکو استعمال بدل جاوے ہے۔ لیکن ان سارا حالات میں درخت اے قربانی دینی پڑے ہے۔
یائی طرح تعلقات ہاں ۔اگر ان سو کام لئیوگا ۔پھٹیک گیروگا۔یا مشکلات میں بھلائی و بہتری کی توقع کروگا تو۔تعلقات اور ہمدردی کی نوعیت و تصورات تبدیل ہوتا دکھائی دینگا۔ان کو کھرو پن عمومی طورپے مشکل گھڑی میں سامنے آوے ہے۔
کائی بھی توقع اور امید اے اتنی مشکل میں یا التوا میں مت گیرو کہ مایوسی پیدا ہوجائے،اگر مایوسی پیدا ہوگئی تو آزادی مل جائے گی ،مثلاََ ایک آدمی ہے اُو کائی بھی درجہ یا میدان میں ہوسکے ہے ۔تم واسو کائی معاملہ میں توقع کرو ہو کہ ای میرا کام اے کردئیو گو۔ تم واکام اے کرسکو ہو یا نہ کرسکو ۔لیکن توقع کرن والا کا ذہن میں ہے تم واکام اے کرسکو ۔جب تک وائے توقع رہے گی رابطہ میں رہے گو۔لجاجت ۔خدمت ۔تابعداری۔جی حضوری کرے گو۔لیکن جادن وائے محسوس ہوگئیو کہ تم واکا م اے نہ کرسکو ہو ۔یا واکا کام میں جان بوجھ کے تاریخی حربہ استعمال کرراہو۔تو واکی امید ختم ہوجائے گی ۔توقع ٹوٹ جائے گی۔اور ۔تہاری قید یعنی جی حضوری سو آزادی مل جائے گی۔
کس سے شکوہ کریں اور کس سے توقع رکھیں
لوگ تو اپنے کہے سے بھی مکر جاتے ہیں
میری زندگی میں ایسا بہت سا موڑ آیا۔ان میں لوگن نے سمجھن میں پرکھن میں خطاء بھی ہوئی۔نقصان بھی برداشت کرنو پڑو۔لیکن یہی غلطی اور نقصان بہت کچھ سکھا کے گئیو۔نقصان اور توقعات کو ٹوٹنو ایسو استاد ہے جو کدی جھوٹ نہ بولے ہے۔۔
نگاہ اٹھائو تو کچھ دور جاکے آسمان زمین پے جھکو ہویو دکھائی دیوے ہے۔راستہ سُکڑتا محسوس ہوواہاں ۔دور کی بڑی چیز بھی چھوٹی دکھائی دیوے ہے۔لیکن آسمان زمین سو لگے ہے ،نہ راستہ سکڑا ہاں۔ لیکن لگاایسے ہی ہاں ۔یہ تو زندگی ہے کہ انسان کائی دوسرا انسان سو ایسے توقعات وابسطہ کرلیوے ہے۔جو یائی منظر اے پیش کراہاں۔کہ سامنے والو بہت بڑو ہے ۔اگر تعلقات خراب کرا ۔اور کدی ضرورت پڑی تو کہاں جانگا۔صرف ایک وہم اور بھینتر چھپا ہویا خوف کی وجہ سو ساری زندگی جی حضوری میں گزار دیواہاں۔اور جب کام پڑے ہے تو یہ لوگ پھر بھی کام نہ دے دیواہاں،انسان اپنی حیثیت کے مطابق خود ہی بھاگ دوڑ کرے ہے۔اور اپنا معاملاتن نے سمیٹے ہے۔
میری زندگی ایسا واقعاتن سو بھری پڑی ہے۔ایسی ایسی جگان سو دھوکہ کھایا کہ اب فضول توقع کرنو ہی عبث لگے ہے۔
لیکن ای بات ضرور ہے اگر تم نے درخت لگادئیو۔یا فصل بیج دی جب تک فصل کی دیکھ بھال کی ضرورت ہی واپے توجہ دی۔جب درخت پھل دین لگ پڑے یا فصل تیار ہوجائے تو کائی کو بتانا کی ضرورت نہ رہوے کہ ای درخت ہے ۔درخت کو قد کاٹھ ۔اور واکو پھل واکا وجود کی دلیل رہوے ہے،بس جوکام کرو وائے فصل کی طرح دیکھو۔وقت ضرور لئیگو لیکن ایک دن اپنا وجود اے منوالئیگو۔تم کہا سمجھو ہو دنیا میں جتنا بھی بڑا نام یا براکام ہاں یہ ایک دن میں ہوگیا ۔
ایسی بات نہ ہے۔ ایک منظر پیدا کرن کے مارے برسوں محنت کرنی پڑے ہے۔ایک پہلوان اکھاڑا میں جیتن کے مارے،برسوں تک محنت و مشقت کرے ہے ۔جب کہیں جاکے ایک دو منٹ کی جیت کی خوشی دیکھے ہے۔یہی تو زندگی ہے ۔
تم نے کوئی کارنامہ کرو کوئی بہترین ایجاد کری ۔کوئی اعلیٰ پائے کی کتاب لکھی ۔واکا اعزاز میں دی گئی پارٹی چند منٹ یا چند گھنٹان کی رہوے ہے۔تو واہ واہ کراہاں ۔ تالی بجاواہاں ۔سلام کے مارے ہاتھ بڑھاواہاں۔کہا ای سب کچھ ایک لمحہ میں ہوگئیو ہے؟
ایسی بات نہ ہے کتاب لکھن کے مارے جانے کتنی راتن تک جاگا ہو۔کتنی محنت و وسائل صرف کراہاں۔کتنو کچھ کرنو پڑو ہے۔پھر جاکے انعام میں دو تالی بجائی گئی ہاں۔
یازندگی میں کوئی چیز ناممکن نہ ہے۔جو سوچو جاسکے ہے کرو بھی جاسکے ہے۔بات ای ہے کہ جا چیز اے تم خریدنو چاہو۔واکی قیمت دے سکو ہو تو۔اُو چیز تہاری ہے۔مہنگی سستی۔عام دستیاب یا نایاب یہ بات ثانوی حیثیت اختیار کرجاواہاں۔اگر تم قیمت ادا نہ کرسکو تو عام دستیاب چیز بھی ملنی ناممکن نہ تو مشکل ضرور رہوے ہے۔
جب کدی کائی بات کی خواہش پیدا ہوئے تو واکی امکانی قیمت کا بارہ ضرور سوچ لئیو کہ ادا کرسکو تو ۔مل جائے گی۔قیمت نہ دے سکو ہوتو خیالی پلائو کوئی بی پکاسکے ہے۔

Leave a Comment

Hakeem Muhammad Younas Shahid

Hakeem Muhammad Younas Shahid

Hakeem Muhammad Younas Shahid, the visionary mind behind Tibb4all, revolutionizes education and daily life enhancement in Pakistan. His passion for knowledge and unwavering community dedication inspire all who seek progress and enlightenment.

More About Me

Newsletter

Top Selling Multipurpose WP Theme