مولانا عبد الغفور الوری میو۔متدین عالم۔مصنف ٹھیٹ قوم پرست میو

0 comment 196 views
مولانا عبد الغفور الوری میو۔ متدین عالم۔مصنف ٹھیٹ قوم پرست میو
مولانا عبد الغفور الوری میو۔ متدین عالم۔مصنف ٹھیٹ قوم پرست میو

مولانا عبد الغفور الوری میو۔
متدین عالم۔مصنف ٹھیٹ قوم پرست میو
حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو۔
میو قوم میں کیسا کیسا ٹھیٹ میو اور قوم پرست لوگ موجود ہاں۔یاکو اندازہ “میو قوم کا ہیرو جلد دوم”کی تحریر و تدوین کا سلسلہ میں ہون والی میو قوم کی معززو معتبر سو ملاقات ہاں۔میو قوم جو صرف میو ہوناکی حیثیت سو جانی جاوے ہی آج کچھ ایسی صورت حال دیکھن کو ملی۔
چوہدری طاہر خاں نمبردار نے فون کرکے بلائیو کہ پہلی فرصت میں ہوسکے تو موسو آکے مل ،یا پھر میں آجاروہوں۔ٹھنڈ میں نکلنو بھی ایک مجاہدہ کی قسم ہے۔میں ان کے پئے ان کی رہائش گاہ ماڈل ٹائون ای بلاک پہنچو۔ بلکہ نوں کہنو زیادہ مناسب ہے کہ “میواتی بیٹھک”پہنچو۔اُنن نے اپنی گاڑی نکالی۔اور رائیونڈ کا مہیں چل پڑا ۔لاہور کی سڑک جگہ جگہ سو کُھدی پڑی ہاں یا مارے بچ بچا کے راستان سو نکلا۔رائیونڈ پہنچ کے چوہدری یعقوب صاحب سو۔جو ایک پُرانا دوست اور ریٹائرڈ ملازم جن کا بارہ میں چوہدری صاحب کو کہنو ہے کہ یانے ٹیکہ سو سروس کری۔اب ریٹائرڈ زندگی گزار رو ہے۔اولاد ساری مالی و معاشی اعتبار سو مستحکم ہے۔اللہ کی خیر ہے ۔ای بندہ پنشن کی مد میں ہر ماہ پونے دو لاکھ روپیہ پنشن لے رو ہے۔ایک بیٹاامریکہ میں سیٹل ہے ۔ دوسران نے ہسپتال کھول راکھو ہے۔کئی مربع زمین کو مالک ہے۔نماز ظہر واکے پئے جاکے پڑھی۔بات چیت ہوئی۔ایک گھنٹہ واکے پئے رُکا۔یا ملاقات سو ایک نتیجہ پے پہنچو۔پیسہ ہی سب کچھ نہ ہے ۔زندگی جینا کے مارے کوئی وژن،کوئی لائحہ عمل۔کوئی امنگ۔کوئی امید ۔کوئی ہدف ہونو بھی ضروری ہے۔بابا جی کے پئے ڈھلتی ہوئی عمر ہی۔لیکن زندگی بے رونق ہی۔دولت ہی، بیماری ہی۔اور مایوسی ہی۔یاسو آگے کہا کہو جاسکے ہے۔

Advertisements


پھر ہم ٹریفک کی گہما گہمی سو نکلتا ہویا۔رائیونڈ منڈی پہنچا۔گاڑی کھڑی کری۔اور پوچھتا پاچھتا بازارن میں گھومتاہویا۔حضرت مولانا علامہ عبد الغفور الوری صاحب کا ادارہ دارلعلوم جامعہ مجددیہ فیاض العلوم رائیونڈ ۔عصر کی نماز کی اقامت کو وقت ہوچکو ہو۔خدام سو پوچھو تو بتائیو کہ حضرت صاحب ابھی واپس تشریف لایا ہاں ۔ دھیرئیں سو گیا ہا، ابھی آیا ہاں۔ تعارف کرائیو گئیو۔میری زندگی میں اِن سو پہلی ملاقات ہی۔البتہ چوہدری طاہر خاں نمبر دار اے حضرت صاحب سوُ پرانی نسبت ہی۔بدر پور گائوں میں مفتی محمود نور اللہ مرقدہ کا مریدین کی بہت بڑی تعداد موجود ہی۔طاہر صاحب نے اپنا باپ دادا کو نام بتائیو کہ فورا ملاقات کے مارے دارلحدیث بلا لیا گیا۔۔
کمال اخلاص و اپنا یت سو ملا۔میں نے دیکھو کہ کتابن کی ایک دنیا ہی،نایاب و معتبر کتب کو بحر زخار ہو ۔ عادت سو مجبور میری نگاہ سلیقہ سو ُدَھری کتابن پے جا ٹِکی۔ایک سو ایک قیمتی کتاب دیکھن کو ملی۔تعارف ہوئیو ۔ حضرت صاحب نے میرا مہیں توجہ کری، تعارف ہوئیو۔تعلیم و تعلم پے بات چیت چل نکلی۔یاوقت ایک فتاوی کی تدوین میں مصروف ہا۔کم ہی کائی کو وقت دیواہاں۔لیکن جب گفتگو ہوئی۔دیکھو کہ حضرت صاحب باوجود پیرانہ سالی کے چاک و چوبند تکیہ لگائے بیٹھا ہا۔جب میو قوم ۔میواتی بولی،یاپے ہون والی پیش رفت۔تصنیف و تدوین میواتی ادب پے بات کری گئی تو ۔ٹیک چھوڑ کے آگے ہوکے بیٹھ گیا،ان کی آنکھن میں ایک چمک آگئی۔چہرہ پے جوانی کی سی لہر دکھائی دی۔ایک جوش و جذبہ دیکھن کو ملو۔بے ساختہ بولا موئے خوشی ہوئی کہ کوئی میو قوم پرست لکھاری موجود ہے۔جب کہ یہ جراثیم میو قوم سو مر تاجاراہاں۔میں تو سمجھے ہو کہ میں ہی میو قوم پرست ہوں۔اب تسلی ہوگئی کہ اللہ نے اور بھی کئی میو قوم پرست لوگ پیدا کردیا ہاں،طاہر صاحب تو احترام و ادب میں ایک گھاں کو بیٹھو ہو۔تخاطب کو محور میں ہو۔دو منٹ کی ملاقات دو گھنٹہ پے پھیل گئی۔چائے کے ساتھ خشک میوہ جات۔انجیر۔کھجور۔بادام۔کشمش۔مغزیات انواع شامل ہی لا دھرا گیا ۔موسم کی ہلکی ٹھنڈک میں مزہ دوبالا ہوگئیو۔میں آج ہی یہ دو میو دیکھا جو عمر رسیدہ ہا۔دونون نے دیکھ کے جا نتیجہ پے پہنچو ۔ای ہو کہ زندگی جینا کے مارے دولت کے ساتھ کچھ امنگ،ہدف،کچھ کرن کی آرزو۔ہمشیہ انسان اے توانا راکھے ہے۔نہیں تو مایوسی افسردگی مقدر بن جاوے ہے۔
میو قوم کا ہیرو کی جلد دوم ۔
کا بارہ میں بات چیت ہوئی۔ دعا دی ،خوشی کو اظہار کرو۔بات علمی دنیا میں داخل ہوگئی۔تحریر و تصنیف سو چلی بات جدید آئی ٹی اور ڈیجیٹل دنیا تک جاپہنچنی۔ایک ایک بات توجہ سوُ سنی،سوالات و جوابات کی دلچسپی دو منٹ سو دو گھنٹہ پے پھیلی۔تو حضرت صاحب نے اپنی تصانیف جوکہ۔صرف و نحو۔فتاوی جات ۔میراث ۔ منطق جیسا فنون پے بات ہوئی،۔ایک کتاب” شرح الفقہ الاکبر۔المنتھی احمد بن محمدالمغنيساوي الحنفي ۔کی تلاش ہی۔میری ذمہ داری لگائی کہ ای کتاب تلاش کرنی ہے۔تو مان جائوں! میں نے حامی بھرلی۔رات کو واپس آکے کتاب ڈھونڈی تو مل گئی آج بھیج دونگو۔
ان کی علمی و تصنیفی۔تدریسی خدمات کو اپنو ایک مقام ہے۔ہماری ملاقات میو قوم ۔میو بولی۔میو کتب ،میواتی ادب کی بنیاد پے ہی۔
باقی کال لکھونگو۔

Leave a Comment

Hakeem Muhammad Younas Shahid

Hakeem Muhammad Younas Shahid

Hakeem Muhammad Younas Shahid, the visionary mind behind Tibb4all, revolutionizes education and daily life enhancement in Pakistan. His passion for knowledge and unwavering community dedication inspire all who seek progress and enlightenment.

More About Me

Newsletter

Top Selling Multipurpose WP Theme