طبی خدمات کو اعتراف ،گولڈ میڈل،شیلڈ۔سرٹیفکیٹ۔2

0 comment 68 views

طبی خدمات کو اعتراف ،گولڈ میڈل،شیلڈ۔سرٹیفکیٹ۔2
حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو
طبی یونفکیشن پاکستان کا مہیں سو عزت افزائی یا انداز میں کری گئی کہ پرانا،پرانا حکیم اور عہدہ دار بھی پریشان ہوگیا۔
گولڈن شادی حال کا دروازہ پے انتظامیہ نے استقبال کرو۔ اندرجاتے ہی صدر جناب سید رضوان شاہ صاحب نے اٹھ کے گلے لگایا۔ فوری طورپے کارڈ جاری کرا گیا کہ مہمان خصوصی تشریف لاچکاہاں۔سٹیج پے اعلان ہوئیو۔میوزک کی تیز دھنابھری۔پورو حال طرح طرح کی روشنین سو

Advertisements

جھک مک جھمک کرن لگو۔
پورا حال میں موجود حکماء نے۔کھڑا ہوکے استقبالی تالی بجائے۔سٹیج والان نے اٹھ کے مصافحہ کرو۔
میل ملاقات سو پیچھے کرسی صدارت پیش کری گئی۔صوفی عرفان صاحب خاص مہمان کی صف میں سبن سو آگے بٹھایا گیا۔۔
حکماء لوگ اپنا اپنا تجربات۔کشتہ جات اور مشاہدات پیش کرراہا۔ہر کائی کو واکی حیثیت اور طے شدہ وقت کے مطابق موقع دئیو جارو ہو۔عمومی طورپے ایک دو نسخہ جات۔ان کا اجزاء۔ترکیب ساخت۔فوائد۔اور بیان کرن والا کو ای نسخہ کہا سو ملو؟یا واکو خود ساختہ ہے۔باری باری اعلان ہووے ہو۔لوگ آوے ہا۔دوچار منٹ کے بعد بدل جاوے ہا۔
سٹیج سکرٹری موقع مناسبت سو کوئی شعر کوئی کہاوت کوئی تعریف۔کوئی مہاورہ اپنی باتن میں شامل کرتو جاوے ہو۔
حکماء نے اپنا اپنا موبائل ۔کھول راکھاہا۔کوئی تصویر بناراہا۔کوئی ویڈیو بنارو ہو۔کوئی ایک دوسرا کا کان میں کانا پھوسی کررو ہو۔

میں نے کہا دیکھو؟
میری نگاہ جلد ہی ظاہری شان بان سو ہٹ گئی اور میں نے حال میں موجود لوگن کو بغور جائزہ لینو شروع کرو۔
جو چیز میری سمجھ میں آئی۔کچھ ایسے ہے۔ترتیب سو لکھ رو ہوں۔
ضروری نا ہے کہ میرو تجزیہ بالکل ٹھیک ہوئے۔سوچ اور زاویہ کا فرق کی وجہ سو گنجائش موجود ہے۔
(1)جانے بھی کوئی نسخہ بیان کرو۔واکو انداز ایسو ہوکہ موسو پہلے ای راز کائی پے نہ کھلو ہو۔جو چیز میں کہہ رو ہوں اُو حرف آخر ہے۔
(2)نسخہ جات کا اجزاء ان کی بناوٹ کچھ ایسی پیچیدہ اور الجھی ہوئی ہی ۔سُنن میں بہت اچھی محسوس ہووے ہی۔لیکن حکماء کے مارے ان کو حصول ناممکن نہ ہو تو مشکل ضرور ہو۔
(3)ایسا دعوی کراجارا ہا کہ دو چار خوراک بیمارین نے جڑ سو ختم کردینگی۔ایک دو حکمین نے تو بطور شواہد کچھ لوگ بھی پیش کرا کہ ان کی شوگر ہفتہ دو ہفتہ میں جڑ سو اکھڑ گئی۔۔دل کا وال کھل گیا۔۔ہرنیاں غائب ہوگئی۔
(4)نسخہ جات اور ادویاتی کورسز کی قیمت اتنی گھنی ہی کہ میں ان کا بوڈن نے دیکھ کے۔اور قیمت سُن کے حدک رہ گئیو۔
(5)ہر دوسرو آدمی سونا چاندی بنانا کا چکر میں ہو۔سنیاسی لوگ۔اپنی اپنی ڈبین نے اٹھائی ڈولے ہا کہ۔ہم نے چاندی بنائی ہے۔ہم سونا بنانا کے پئے پہنچا چکاہاں۔
(6)معمولی معمولی بیماری کا نسخہ جات ایسے بیان کراجارا ہا،جیسے ان کو علاج ابھی دریافت ہوئیو ہے؟۔ان کا نسخہ جات اور طریقہ علاج ایسا طریقہ سو پیش کرو جارو ہو کہ سوائے بیان کرن والا کے کوئی معالج علاج کرن کی ہمت ہی نہ کرسکے ہے؟۔
(7)ہر کوئی زبان سو کہہ رو ہو،میں نے ای راز ظاہر کرو ہے ۔ہمارا خاندان میں تین پُشتن سو راز چلو آرو ہو۔
(8)ایک آدمی نے ہرنیاں کو علاج پیش کرو۔۔ایک دو چیز ہی۔وانے جا انداز میں بتائیو ۔واکا تاثرات سو پتو چلے ہو کہ وانے طبی دنیا پے بہت بڑو احسان کرو ہے۔۔وانے سٹیج پے اعتراف کرو کہ میں نے زندگی میں ای راز پہلی بار بیان کرو ہے؟
(9)زیادہ تر دوا کشتہ جات۔امساکی دوا۔اورسنیاسی راز۔اور مبالغہ آرائی سوبھرپور ہی۔
(10)ہر کوئی یا چکر میں ہو کہ دوسراسو راز اُگلوا لوں۔اپنو راز دُبکو رہے تو بہتر ہے۔
یعنی میں نے جو دیکھو واکو متعدل تجزیہ یاسو بہتر شاہد میں نہ کرسکوں ہو،
میں نے دیکھو ہر حکیم آج بھی سو سال پہلے والا الفاظ بول رو ہو۔صدیوں پرانی طرز زندگی جی رو ہو۔۔
جدید دور اور طبی تحقیقات۔ سو بے خبر ہو۔جیسے ہمارا مولوی صاحبان ابھی تک طوفان نوح سو باہر نہ نکلاہاں ۔
واسو نکالاہاں تو ابراہیمی آگ میں جا کوداہاں۔
ایسے ہی میں حکیم دیکھا۔ان کی سوچ اور انداز فکر دیکھو۔۔
۔ممکن ہے میرو سوچن کو یہی انداز ہوئے۔لیکن تیس چالیس کا مطالعہ اور طبی میدان مین تجربات نے کو کچھ بتائیو۔
وائے میں لکھ رو ہوں۔
میں نے جو اندازہ لگائیو۔اور بغور جائزہ لئیو تو سمجھ میں آئیو کہ دیسی طب کیوں تناہ ہوئی۔
ہم تو خوامخواہ دوسران کو الزام دیواہاں۔
اصل میں ہر حکیم طب کی قبر کھودن کے مارے بیلچہ اٹھائی ڈولے ہے،خلوص نیت اور عملی کردار سو کوشش میںہے کہ طب قبر میں اُتر جائے۔
حکماء لوگ ۔انٹر نیٹ کی طاقت اے آئی کی صلاحیت اور یا کا مستقبل سو بالکل بے خبر دنیا میں رہ راہاں۔
اگر حکماء کرام ۔جدید سہولیات سو فائدہ اٹھاواں تو طب کی بہترین خدمت کرسکاہاں۔
سٹیج پے کھڑو ہوکے جو تقریر کری ،میں نے حکمائ سو گزارش کری کہ،
اپنی انڈسٹری اے ۔اپنا دواخانہ سو اٹھاکے ای مارکیٹ میں لادھرو۔روپیہ کی جگہ ڈالر کمائو۔
موئے یا بات کی خوشی میں نے جب سٹیج پے آکے مہمان خصوصی والی تقریر کری تو حال میں موجود حکیمن نے توجہ شروع کردی۔
ایک منٹ سو پہلے چڑیان میں ٹولہ پڑ چکو ہو۔خاموشی ہی ۔سب کان لگاکے متوجہ ہا۔
غور سو باتن نے سُن راہا۔موئے ایسو لگو کہ حکماء جدید دور کی سہولیات کے حصول میں سنجیدہ ہاں ۔
لیکن کوئی نظام ایسو نہ ہے۔جو ان کی جدید ساخت کی بنیاد پے تربیت کرسکے۔
ای میدان کھلو پڑوہے جولوگ یا میدان میں خدمات سرانجام دینگا۔ان کے مارے بہت بڑو سکوپ پے۔
میں نے اعلان کرو ہو کہ میں حکماء کو امراض کی تشخیص کا بارہ میں ایپ تحفہ میں دونگو۔
واپسی پے بے شمار حکیمن کا فون آیا کہ اپنا وعدہ اے پورو کرو۔ایپ دئیو۔ایپ کا بارہ میں حکیمن کا بہترین تاثرات دیکھن کو ملا۔
سطور بالا کوئی بے جا تنقید نہ ہاں ۔
میرا ذاتی تاثرات ہاں،ان سو اتفاق و اختلاف کو ہر کائی کو حق ہے۔
البتہ موئے ایسو لگے ہے یا میدان میں پہل کرن کو بہترین وقت ہے۔۔۔۔۔
باقی کل لکھونگو۔

Leave a Comment

Hakeem Muhammad Younas Shahid

Hakeem Muhammad Younas Shahid

Hakeem Muhammad Younas Shahid, the visionary mind behind Tibb4all, revolutionizes education and daily life enhancement in Pakistan. His passion for knowledge and unwavering community dedication inspire all who seek progress and enlightenment.

More About Me

Newsletter

Top Selling Multipurpose WP Theme