
بدلتی دنیا میں” اے، آئی” کو کردار اور میو قوم کی دلچسپی۔
حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو۔
دنیا جتنی تیزی سو بدل ری ہے۔شاید دس بیس سال پہلے ای بدلائو کا وہم و گمان میں بھی نہ ہو۔
دنیا میں انقلاب آیا ہا۔ان کی رفتار اتنی سست اور کمزور ہی کہ سالن سو بڑھ کے صدی لگ جاوے ہی۔
اساطیری دور۔مذہبی دور۔عقلی / سائنسی دور۔ٹیکنالوجی کو دور۔تاریخ کی کتابن میں بہت سا ادوار کو تذکرہ ملے ہے۔
ای بدلائو بہت گھنو زندگین نے متاثر کرے ہو۔لیکن یاکی رفتارعمومی طورپے سست رہوے ہی۔دس بیس سال کو عرصہ تو کم از کم لگے ہو۔
جب کمپیوٹر اور انٹر نیٹ کو دور آئیو تو دنیا میں رول مچ گی ہی
کمپیوٹر کا انقلاب (Computer Revolution)آغاز
1940ء کی دہائی (ENIAC وغیرہ)اصل تبدیلی
انسانی حساب، ریکارڈ اور تجزیہ مشین کے حوالے ہو گیو۔
اہم مراحل
ویکیوم ٹیوب۔ ٹرانزسٹر۔ مائیکروچِپ۔ذاتی کمپیوٹر (PC)،سافٹ ویئر، ڈیٹا بیس
اثرات۔
دفتری نظام تیزسائنس، طب، تعلیم میں انقلا ب ۔
وقت اور محنت کی بچت،
ای انقلاب “دماغی قوت کی توسیع” ہو
2۔ انٹرنیٹ کا انقلاب (Internet Revolution)آغاز
1969 (ARPANET)عوامی سطح پر۔
1990ء کے بعداصل تبدیلی۔
دنیا ایک ڈیجیٹل گاؤں بن گئی۔
اہم پہلو۔ای میل ،ویب سائٹس،سوشل میڈیا،ای کامرس ،
اثرات۔
علم تک فوری رسائی،عالمی رابطہ،آن لائن کاروبار،
خبر اور رائے کی رفتار۔
ای انقلاب “علم کی عالمی تقسیم”ہو
3۔ مصنوعی ذہانت کا انقلاب (AI Revolution)آغاز
1950ء (تصور)عملی انقلاب
2010ء کے بعداصل تبدیلی۔
مشین سوچن، سیکھن اور فیصلہ کرن لگی۔

اہم صورت۔
چیٹ بو ٹ ،خودکار گاڑیاں،طبی تشخیص،ترجمہ، تحریر، ڈیزائن ۔
ثرات۔ملازمتن کی نوعیت بدل ری ہےتخلیقی کام بھی مشین کے ہاتھ ۔انسان اور مشین کو اشتراک۔
آج کی دنیا میں بدلائو اتنی جلدی ہورو ہے کہ پلک چھپکتے ہی کہا سو کہا ہورو ہے۔
آے آئی کی دنیا میں ایک ہنگامہ برپاء ہے۔
اے ،آئی ، ہماری زندگی اتنی گھُس چکی ہے کہ زندگی کو تصور بد ل کے رہ گئیو ہے۔
رات کو کوئی ٹرنڈ ہے تو دھیرئیں جب آنکھ کھلے ہے تو واکی جگہ نئیو ٹرینڈ دیکھن کو ملے ہے۔
محسوس و غیر محسوس طریقہ سو ۔ای چیز ہمارا بیڈن تک اور ہماری گھریلو زندگی تک پہنچ چکو ہے۔
ہر کائی کا ہاتھ میں موبائل ہے۔سکرولنگ ہوری ہے۔
انگلی سکرین پے اتنی تیزی سو اوپر نیچے ہوری ہے کہ انگلی والاے بھی یاکو احساس نہ ہے۔
گھر سو لیکے انڈسٹری تک اے آئی نے ہم گھیر لیا ہاں ۔
گھریلو ایملانیس اور فون۔اور دیگر ضروریات زندگی اتنی تیزی سو بدل راہاں کہ۔
آج کی بہترین چیز ممکن ہے پل بھر میں نکمی ہوجائے
۔مالک وائے کد کوڑا(الہیا) کی طرح گند کی ٹوکری میں پھینک دئے۔
یہی حال نوکرین کو ہے اب بچے گو وہی جو اے آئی میں مہارت پیدا کرلئے گو۔
سر کاری و غیر سرکاری نوکرین میں۔ اب تعلیم سو گھنو یا بات کو دھیان کرو جائے گو کہ کس کے پئے اے آئی کی مہارت موجود ہے؟
سعد طبیہ کالج برائے فروغ طب نبوی//سعد ورچوئل سکلز پاکستان ۔

یابارہ میں کئی سال پہلے قدم اٹھا چکو ہے۔
میو قوم کی تاریخ و ثقافت پے تیس چالیس کتاب میواتی زبان میں لکھی جاچکی ہاں۔
میو ثقافت ۔میو ڈیجیٹل ڈکشنری۔میو اتی زبان میں چیٹ بوٹ۔
میو ڈیجیٹل ایپ۔ویب سائٹس۔ویگر ڈیجیٹل پروڈیکٹ پے تیزی سو کام جاری ہے۔
طب و حکمت میں اے آئی کی مدد سے جدید نصاب اور آن لائن کلاسز ترتیب دی ہاں۔
میں اپنی بات بتارو ہوں۔
لکھائ پڑھائی میں میری زندگی کا کم و بیش چالیس سال گزراہاں۔
اتنی ہی مدت طب و حکمت کا میدان میں لگاہاں۔
اے آئی کی آمد کے بعد جتنو کام ان دو تین سالن میں کرو گئیو ہے۔
اتنو دو تین دیہائی میں بھی نہ ہوسکو ہو۔
چکھ لوگن کو کہنو ہے کہ ہم نے تو کوئی بات دیکھے نہ ہے تو کہا کراہا؟
ان کی بات بالکل بجا ہے، جب ایسا لوگن نے ای دنیا دیکھی ای نہ ہے تو وے کیسے سمجھ سکاہاں کہ میں کہا کررو ہوں؟
جب تک کائی چیز اے دیکھ نہ لئے واکا بارہ میں رائے قائم کرنو بس کی بات نہ رہوے ہے۔
اے آئی کی مدد سو ترتیب دی گئی طبی و حکمت کی کلاسز بہترین طریقہ سے جاری ہاں۔
جدید ٹیکنالوجی کی مدد سو ایسی ایسی بات سمجھ میں آئی ہاں جن کا سمجھن کو دوسروں کوئی زریعہ نہ ہو
میو قوم کے مارے ہماری خدمات ہمہ وقت حاضر ہاں۔
