ایک بنیادی ضرورت جاکا مہیں دھیان ضروری ہے۔

0 comment 32 views
ایک بنیادی ضرورت جاکا مہیں دھیان ضروری ہے۔
ایک بنیادی ضرورت جاکا مہیں دھیان ضروری ہے۔

ایک بنیادی ضرورت جاکا مہیں دھیان ضروری ہے۔
حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو
جنوری2026 میں میو قوم کا نمائندان کا مہیں سو کئی ایک مہنگا پروگرام کراجاہاں۔جن میں لاکھوں روپیہ خرچ کرا جانگا۔
سوشل میڈیا کا توسط سو ایسی بات سُنن میں آتی رہوا ہاں۔
کہ فلاں مرگئیو ہے ۔فلاں بن فلاں ہسپتال میں دعا ن کی درخواست ہے۔
ان پوسٹرن پے دعا۔تعزیت،اظہار یکجہتی۔خوش آمدید۔کائی عہدہ پے مبارک باد۔
کوئی پیغام نہ ہے۔کوئی وژن نہ ہے۔کوئی قوم کے مارے پیغام نہ ہے۔آج والا کل کی کوئی پلاننگ نہ

Advertisements

ہے۔
سوشل میڈیا پے میو قوم کا نمائینداگان کا مہیں سو ُجو اپلوڈ کرو جارو ہے کہا،ای میو قوم کا مسائل کی نشان دہی ہے ؟
ان باتن سو میو قوم کو کہابھلو ہوسکے ہے۔
قومی سطح پے کوئی ایسو پروگرام نہ ہے جاپے بات چیت کری جاسکے ۔
کوئی تعلیمی منصوبہ ایسو نہ ہے جاسو مستقبل میں کچھ بہتر کی امید کری جاسکے۔
کوئی کاروباری بات چیت نہ ہے۔نہ کوئی منصوبہ بندی ہے۔

یائے بھی پڑھو

میو قوم پے احسان کرو ،ایک کتاب دان کرو ۔

میو قوم کی نئی پود میں تعلیم کو رجحان بڑھتو چلو جارو ہے۔
گھرن میں چھری چھوری اعلی تعلیم یافتہ بن ری ہاں۔
چھورا بہترین تعلیم سو آراستہ ہورا ہا۔میو قوم کی نئی پود بہترین تعلیمی ریکارڈ کی حامل ہے۔
لیکن میو قوم کا ٹھونڈا اور رہنما۔مستقبل سو اتنا بے خبر یا پھر لاتعلق ہاں ۔
کہ انن نے سوائے اپنی فوٹو اُتروانا کے کوئی دوسرو کام ای نہ ہے۔
میو قوم کی نئی نسل کو تحفظ کہا ،نائی، میراثی،موچی۔جولاہا۔میو قوم کا مستقبل کو تعین کرنگاؔ؟
دنیا۔ اے آئی(Artificial intelligence) کا بارہ میں منصوبہ بندی کرری ہے۔
نئی ٹیکنالوجی کا بارہ میں مشاورت جاری ہے۔
میو قوم ہے کہ سوڑ میں دُبکی پڑی ہے۔
ایسے سُٹ پڑی ہے جیسے بلی دیکھ کے کبوتر آنکھ بند کرلیوے ہے۔
دنیا بہت تیزی سوُ بدل ری ہے۔اگر منصوبہ بندی نہ کری تو میو قوم پہلے ہی پیچھے ہے اور پچھڑ جائے گی۔
حکومتی سطح پے۔اور تعلیمی سطح پے نئی نسل نفسیاتی مریض بنائی جاری ہے۔
موجودہ تعلیمی نظام ایک وقت ہوکہ ای نوکری ۔ملازمت کی سند سمجھو جاوے ہو۔
اب یہی نظام اتنو ناکام ہوچکو ہے کہ۔روٹی روزی کے مارے تعلیمی مہارت کے بجائے دوسرو ہنر سیکھنو پڑے ہے
یعنی یا وقت کوئی بھی ملازمت پڑھا لکھا ہونا کی وجہ سو نہ دیوے ہے۔
بلکہ اپنی سہولت اپنی ضرورت کی بنیاد پے نوکری دیوے ہے
یعنی اگر تعلیم کے ساتھ تہارے پئے کوئی ہنر یا فن نہ ہے تو کوئی ملازمت نہ ہے۔
علماء جن سوُ وارث انبیاء کہو جاوے ہے معمولی معاوضہ میں اپنا نظریہ ۔اپنی تعلیم۔اپنو امیج۔سب دائو پے لگادئیو۔
پھر جو ملازم ہوئے گو۔اُو مالک کے سامنے بے عقل بدھو۔دم ہلان والو ہوئے گو۔یہی حال مولوی حضرات کو ہے۔
اپنی مرضی سو نماز کو وقت بھی نہ بدل سکاہاں۔
کمیٹی صدر جوکہ عمومی طورپے جاہل لیکن دولت مند رہوے ہے کی مرضی کے بغیرایک ٹوٹی بھی نہ بدل وا سکے ہے۔
ایسی تعلیم یافتہ نسل کو ہم قصۃ سُناواہاں ۔بیر بل۔حسن خان میواتی۔میو خان گھڑچری۔وغیران کی۔
جن کی تعلیم و تجربہ ایک جاہل کی جوتی ہے نیچے تڑپن لگ جاوے، اُن سو ہم انقلاب کی امید لگائی بیٹھا ہاں۔
تعلیم سو فارغ ہون والا۔ملازمت کا چکر میں۔بے عقل ٹھونڈان کی جوتین میں جا بیٹھا ہاں۔
بوڑھاطوطا کدی سدایا نہ جاسکاہاں۔
لیکن میو قوم کا نوجواُنن سوُ ضرور امید کری جاسکے ہے۔
وے آگے بڑھاں۔اپنے مارے قوم کے مارے۔آن والی نسل کے مارے کچھ کر جاواں۔
کیونکہ بوڑھان کی عقل جدید تقاضان نے سمجھن سو قاصر ہے۔
ان کی نیت پے شک نہ ہے۔لیکن حقیقت یہی ہے
ہمارو مشاہدہ ای ہے کہ مذہبی سیاسی لوگ۔اپنا مقتداء و رہنمان نے معصوم سمجھ کے اپنی سامنے جھکا پڑا ہاں ۔
اگر کوئی ان کی پالیسی سو اختلاف کرے تو ۔مخالف اے دائرہ اسلام سو اُٹھا کے باہر پھینک دیواہاں۔
میو سیاسی طورپے جا جماعت سو وابسطہ ہاں۔ان کے علاوہ سارا یا تو کم عقل ہاں ۔یا واکا دشمن ہاں۔
جو یا تنظیم سو بھی متعلق ہے ۔دوسری تنظیم والا کے نزدیک اُو قابل نفرت ہے۔
یا وقت میو قوم دوسران کی غلامی ثواب سمجھ کے کرری ہے۔
ہمارو مشاہدہ ہے جانے دوچار میو اکھٹا کرلیواں ۔وے سمجھاہاں کہ ہم نے میو قوم کی کھاٹ کو کندھا دیدیو۔
ہر کوئی اپنا ذہن میں خمار بھر کے بیٹھو ہے کہ اگر اُو۔ یا واکی تنظیم ۔جماعت۔گروہ۔
نہ ہوئے تو میو قوم نہ جانے کدی کھڈا میں جاگرے؟
سبن کی بات سر ماتھا پے۔لیکن کوئی بتائے گو کہ تہاری یا اٹھک بیٹھک سو۔میو قوم کو کہا فائدہ ملو؟
عجیب بات ہے پڑھا لکھا اور اَن پڑھ ۔سارا یائی بات اے کامیابی سمجھ راہاں کہ ۔
چندہ مانگو ۔تھوڑو بہت کام کرو۔میو قوم پے احسان چڑھا دئیو۔
بڑا بوڑھان نے شکوہ ہے کہ نئی پوُد ان کی قدر نہ کرے ہے؟
نئی پود اے شکوہ ہے کہ جدید ضروریات کو ہمارا بڑان نے اِدراک ای نہ ہے۔
دونوں نسلن کا بیچ میں مشاورت کی ضرورت ہے۔
کائی ٹھوس بنیاد۔کائی ٹھوس منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔
ایک خلاء جو بڑا ،چھوٹان میں آچکو ہے ای پاٹنو پڑے گو۔

Leave a Comment

Hakeem Muhammad Younas Shahid

Hakeem Muhammad Younas Shahid

Hakeem Muhammad Younas Shahid, the visionary mind behind Tibb4all, revolutionizes education and daily life enhancement in Pakistan. His passion for knowledge and unwavering community dedication inspire all who seek progress and enlightenment.

More About Me

Newsletter

Top Selling Multipurpose WP Theme