انسانی زندگی میں دوسران کا مشورہ کی اہمیت و افادیت۔

0 comment 8 views

انسانی زندگی ایسا تعلقات سو بندھی ہوئی جہاں کائی نہ کائی کی ضرورت محسوس رہوے ہے۔عمر اور علم کا لحاظ سے بڑا لوگن سو مشورہ کرنو دستور دنیا ہے۔پہلے بھی بڑان سو مشورہ کرو جاوے ہو۔آج بھی مشورہ کی اہمیت کم نہ ہوئی ہے۔
لیکن مشورہ کس سو کرنو ہے اور کون یاقابل ہے کہ واسو مشورہ کرو جاسکے؟
ای سوال اتنو اہم ہے کہ پوری کتاب لکھی جاسکے ہے۔،
برصغیر پاک و ہند بالخصوص مسلمان یا میو کہہ لئیو مشورہ کا بارہ مین بہت غیر معتدل رائے راکھاہاں۔
یہ جب کائی سو عقیدت کراہاں تو عقیدت کی عینک لگاکے کائی دوسری گھاں کو دیکھن کی زحمت ای گوارا نہ کراہاں۔
میو قوم میں پہلی بات ای ہے کہ مشورہ کو رجحان کم ای پائیو جاوے ہے۔
اگر مشورہ کی ضرورت پڑ بھی جائے تو جب کرو جاوے ہے جب کائی معاملہ میں پھنس جاواہاں۔۔
جبکہ مشورہ کو وقت اُو رہوے ہے جب کائی کام کا بارہ شروع کرن سو پہلے سوچ و بچار کرو جاوے ہے۔
ہم لوگ عمومی طورپے مشورہ جب کراہاں جب گھاٹو پڑچکو ہووے ہے۔
دوسری بُری عادت ای ہے کہ ہم غیر متعلقہ لوگن سو مشورہ کراہاں۔
جب کہ مشورہ متعلقہ لوگن سو کرنو بنے ہے۔مثلاََ کوئی آدمی کارو بار کرے ہے تو دعا کے مارے کائی عالم ۔مقامی امام۔مولوی کے پئے جاکے مشورہ کرے ہے۔
آگے سو مولوی صاحب بھی ماشاء اللہ عقل کل کے طورپے مشورہ دین بیٹھ جاوے ہے ۔
جب کہ دیانت داری کو تقاضا ای ہونو چاہے کہ وا عقیدت مند سو کہے جناب ای میری فیلڈ نہ ہے۔تو ایسا آدمی کے پئے جا ۔
جو یابارہ میں تجربہ راکھتو ہوئے۔ عقیدت و ہمدردی اپنی جگہ لیکن انصاف کو تقاضہ ای ہے کہ واسو ناٹ جائے ۔
کہ جابارہ میں موسو مشورہ کو ارادہ ہے میں یابارہ میں کچھ نہ جانو ہوں۔
موئے زندگی کی ایسا تلخ تجربات ہوچکا ہاں۔
میں نے جتنا بھی علمی کام کراہاں۔بالخصوص میواتی کا حوالہ سو۔میواتی زبان میں۔
ظاہر بات ہے میواتی میں لکھو گئیو مواد میو اِی پڑھ سکے ہے کائی دوسرا کا بس کی بات نہ ہے۔
جب بھی میں نے میو قوم کا لوگن سو علمی حوالہ سو بات چیت کری تو ان کا اخلاص کی بات نہ کررو ہوں لیکن ان کا رویہ میں روکھو پن محسوس کرو۔
بار بار جب ایسو تجربہ ہوئیو،تو سوچن پے مجبور ہوئیو کہ یہ لوگن مخلص بھی ہاں میو قوم کو درد بھی راکھاہاں۔
لیکن ایک علمی کام کا بارہ میں ان کو رویہ مناسب نہ ہو؟۔کچھ لوگن کی بات اور ان کو انداز تخاطب تو اکیلا میں رہ رہ کے یاد آوے ہو۔
پھر میں نے سوچنو شروع کرو۔کافی گہرائی میں جاکے سوچو۔اپنا مہیں دیکھو، اپنا کام مہیں دیکھو۔
بلکہ کچھ دنن تک کام بند کردئیو اور سوچتو رہو کہ ایسو کیوں ہےَ؟۔
کیونکہ ان لوگن سو مشاورت میں جا اپنانیت اور بہتری کی امید ہی ،دیکھن کو نہ ملی ۔ کئی مہینان تک یا ادھیڑ بُن میں لگو رہو۔
ایک دن اللہ نے شرح صدر کردیو۔
ہر انسان کی اپنی اپنی ترجیحات رہوا ہاں۔اپنو اپنو میدان عمل رہوے ہے۔جامیں دلچسپی ہوئے وائی بارہ میں کائی دوسرا کو کچھ بتاسکے ہے۔
جب لوگن سو ملتو رہو ۔ان کا اخلاص اور دیانت داری میں کوئی شک نہ ہو۔
البتہ جابارہ میں ان سو مشورہ کرو جارو ہو وابارہ میں ان کی دلچسپی اور معلومات نہ ہونا کے برابر ہی۔
تو علمی کام کرروہا ۔تو کائی علمی آدمی سو مشورہ کر۔ایک دم ذہن میں بجلی کی لہر کوندگئی ۔اور طبیعت کو انقباض دور ہوئیو۔
جب میں نے علمی لوگن سو مشورہ کرنو شروع کرو تو۔جانداز قسم کو رد عمل سامنے آئیو۔
بہترین علمی گفتگو کے ساتھ ساتھ ۔علمی نکات۔حوالہ جات ،نت نئی معلومات۔کتابن کا نام۔علمی شخصیات سو تعارف۔
اپنا جیسا لوگن کی محنت کا بارہ میں قیمتی مواد ملے۔،
انسان ٹھیڈا کھاکے سنبھلے ہے۔جہاں علمی کامن میں بہت سی مشکلات اور دشواری دیکھی وائی جگہ ای تجربہ بھی ہوئیو۔
ا ی میرو، اِی تجربہ نہ ہے بلکہ میرا جیسا کتنا ہی لوگ یا بارہ میں کانٹان پے چلتا رہوا ہاں۔
جو علمی کام راتن کی نیند دن کو سکون۔اور وسائل کو بے دریغ استعمال مصنف نے کرو ہے
جن لوگن نے یابارہ میں پےو ای نہ ہے وے کیسے تہاری محنت کی داد دے سکاہاں ؟
دوسری پریشانی موکو جب ہوئی کہ میں نے لوگن سو ایسی بات شروع کردی جو حقیقت پے مبنی ہی ۔
لیکن جاسو بات کری واکی معلومات محدود ہی۔باوجود پوری توانائی صرف کرنا ۔
میں ان لوگن نے مطمئن نہ کرسکو۔البتہ جب میں نے وہی کام عملا کرکے آگے لادھرو ۔دیکھ کے سمجھ گیا۔ موئے سر نہ کھپانو پڑو۔
کا م دیکھ کے جو سمجھا میری دلیل اور توجہ نہ سمجھا سکی۔
پھر میں نے پلے گینٹھ باندھ لی کہ جائے متعلقہ کام میں سوجھ بوجھ نہ ہوئے واسو بات کرنو بھینس کے آگے بین بجانو ہے۔
بہتر ہے کہ کائی سو مشورہ کرن سو پہلے۔واکا تجربہ اور واکی سوچ اور پسند اے ضرور دیکھ لئیو۔
اب میں کام کرنو سو پہلے کائی سو بتلائو ای نہ ہوں ۔کام ہوجائے ۔اگر کائی کو دکھانو بھی پڑے تو ۔وائے آگے لادھرو ہوں۔
اگر سمجھ جائے تو ٹھیک۔ورنہ سرکھپائی سو کوئی فائدہ نہ ہے۔چپ کرکے اپنا گھر کو آجائو۔
دوسری بیماری ای ہے
کہ ہمارا میوون میں جاکے پئے چار پیسہ آجاواہاں ۔پہلے تو واکو دماغ آسمان پے جالگے ہے۔
اگر کچھ سمجھ بوجھ بچے ہے تو چیلا چماٹا ۔وائے کائی دین کو نہ چھوڑا ہاں ؟۔
خدا خدا کرکے واسو بات کو موقع مل بھی جائے تو واکا ذہن میں ایسو خمار رہوے ہے کہ میں تعاون کرونگو تو ۔کام ہوئے گو نہیں تو ۔پڑو رہے گو۔
اگر وائی رائے کو احترام نہ کرو جائے (چاہے کتنی بھی نامعقول ہوئے)واکی ناراضگی مفت میں جھیلنی پڑے ہے۔
کچھ نو دُلتیا ایسا بھی دیکھا ہاں ۔جب انسو کائی منصوبہ کا بارہ میں بات چیت کری جائے۔
تو وے اپنی جیب پے ہاتھ دھرلیواہاں کہ ۔اب گفتگو کرن والو چندہ مانگے گو۔۔
یہی فکر وائے گمراہ کری راکھے ہے۔جتنی بھی بات چیت کری جاوے ہے۔سب کھوہ کھاتے۔
گھنائیں رگران سو پیچھے عقل آئی ہے کہ محنت کرن والو ،اگر نوں سوچے ہے کہ واکو کام وائی نگاہ سو دیکھو جائے گو،
جو وانے سوچ راکھی ہے تو دنیا مین یاسو بڑو دھوکہ کی بات کہین نہ مل سکے گی۔
بقول سکندر سہراب صاحب کہ کام کری جائو۔تہاری جگہ تہارو کام بولے گو۔

Advertisements

۔

Leave a Comment

Hakeem Muhammad Younas Shahid

Hakeem Muhammad Younas Shahid

Hakeem Muhammad Younas Shahid, the visionary mind behind Tibb4all, revolutionizes education and daily life enhancement in Pakistan. His passion for knowledge and unwavering community dedication inspire all who seek progress and enlightenment.

More About Me

Newsletter

Top Selling Multipurpose WP Theme