
اجتماعی شادی۔میو اتحاد پاکستان کی انفرادیت
حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو
میو قوم میں مختلف انداز میںخدمات کو سلسلہ جاری ہے۔ای بات نہ بھولنی چاہے کہ ہر چیز اور ہر بات میں اصلاح کی گنجائش موجود رہوے ہے،کوئی انسان کتنو بھی بہتر ہوئے بہر حال ہر کائی کی سچ کے مطابق نہ ڈھل سکے ہے۔ہر کائی کو نکتہ نظر مختلف ہوسکے ہے۔
7فروری2926 بروز ہفتہ کو بحریہ فیروز پور روڈ جلکے میں پاکستان میں میو اتحاد کی زیر نگرانی

تیس چالیس نادار بچین کی اجتماعی شادین کو سامان فراہم کرو گئیو۔
ایک بہترین تقریب ہی نامور لوگ یا میں شامل ہویا ۔میو برادری کے ساتھ ساتھ کھوکھر،بھٹی،ملک برادی کا لوگ بھی شامل شریک محفل ہویا۔پروگرام بہتر انداز میںترتیب دئیو گئیو ہو۔
یاپروگرام کی خاصیت ای رہی کہ صرف سامان دئیو گئیو لیکن دلہن نہ بلائی گئی،نہ کوئی ایسو تاثر ملو کہ کائی کی عزت نفس مجروح ہوئی ہے۔پروگرام حسب روایت دوسرا میوون کا پروگرامن

کی طرح تاخیر سو شروع ہوئیو،اور دیر تک چلتو رہو،
ہم نے دیکھو کہ سامان کے پئے مدرسہ کا بچہ قران کریم کی تلاوت میں مصروف ہاں۔
پاکستان میو اتحاد کا پرانا لوگ دوبارہ سو میدان عمل میں کودا ہاں۔اور نوجوان ان کے ساتھ مل راہاں ،خدا کرے کہ میو قوم کے مارے بہتری ہوئے۔

کراچی کا وفد میں کئی لوگ شامل ہا۔کچھ خواتین نے بھی شرکت کری۔
تلاوت سو پروگرام شروع ہوئیو۔جعفر ضیاء کی نظم نے ماحول باندھو،ریاج نور نے میو گرمایا۔چئیر مین حاجی افضل کے ساتھ کئی دوسرا لوگن نے بھی اپنا خیالات کو اظہار کرو۔
مزمل مسعود بھٹی اور،ملک بوٹا نے دوسری برادرین کی نمائیندگی کری۔
یا پروگرام میں سب کچھ بدلو بدلو سو ہو لیکن ایک بات پھر بھی دیکھن کو ملی۔کہ جتنا پڑھا لکھا لوگن کو سٹیج پے وقت ملو۔ اِن میں مرد و عورت دونوں ہی موجود ہا۔
اُنن نے اپنی کامیابی کی داستان اور اعلی عہدان تک پہنچانا کی کہانی سنائی۔
لیکن انن نے میو قوم کے قوم کا بچہ اور نوجوانن کے مارے کوئی ایسو پروگرام نہ دئیو کہ ان کی خدمات سو میو قوم کیسے استفادہ کرسکے ہے؟۔
میزبان(حاجی اختر میو) کا مہیں سو بہترین تواضع کو بندوبست کرو گئیو۔
مولانا محمد احمد قادری کا مہیںسو لڈو جلیبی پیش کرا گیا۔میون کا بیان ،شادین ،میں یہ دونوں چیز بڑا شوق سو کھائی جاوے ہی۔
مولانا نور عباس صاحب کا تبلیغی بیان نے تھوڑو ٹھوڑوایمان ہلائیو جلائیو۔
پاکستان میو اتحاد کے زیرِ اہتمام منعقد ہونے والی اجتماعی شادین کی تقریب نہ صرف ایک سماجی سرگرمی ہی بلکہ میو قوم کی تہذیبی اقدار، خودداری اور باعزت روایات کی خوبصورت عکاس بھی ثابت ہوئی۔
یا پروگرام کی سب سو نمایاں اور تاریخی بات ای رہی کہ پہلی مرتبہ دلہن مکمل عزت و احترام کے ساتھ وا کا اپنا گھر سو رخصتی کرو بندوبست کروگئیو،
یاسوپہلے اکثر اجتماعی شادین میں نظرانداز ہو جاوے ہو۔
یا اقدام نے نہ صرف دلہن اور وا کا اہلِ خانہ کو وقار بحال راکھو بلکہ معاشرہ کوای پیغام بھی دیو کہ سادگی کے ساتھ ساتھ عزتِ نفس کوتحفظ بھی انتہائی ضروری ہے۔
پاکستان میو اتحاد کی یا کاوش نے ثابت کرو کہ اجتماعی شادی محض اخراجات کم کرن کو ذریعہ نہ ہے
بلکہ سماجی اقدار مضبوط کرن کو مؤثر پلیٹ فارم بھی بن سکے ہے۔
مجموعی طور پے تقریب اتحاد، بھائی چارہ اور باہمی تعاون کی روشن مثال ہی جا نے معاشرہ کا کمزور طبقات کو،اعتماد، خوشی اور ایک نئی امید دی،
