طبیب کے فرائض قرآن کریم کی روشنی میں۔
حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو
فَاِذَا مَرِضْتُ فَھُوَ یَشْفِیْنِ” (اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہی مجھے شفا دیتا ہے) — سورہ الشعراء:80

Advertisements

اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں انسان کی تخلیق، اس کے رزق اور اس کی صحت و بیماری کا ذکر فرما کر ہماری توجہ اس حقیقت کی طرف مبذول کرائی ہے کہ شفا کا مالک صرف اور صرف وہی ہے۔ تاہم، اسباب کے درجے میں طبیب کو اللہ کا وسیلہ بنایا گیا ہے۔ قرآن کریم میں متعدد مقامات پر شہد، کھجور، انجیر، زیتون اور مختلف نباتات کے شفائی خواص کا تذکرہ موجود ہے، جو یہ بتاتا ہے کہ قدرت نے بیماریوں کا علاج بھی ہمارے ارد رکھا ہے۔
قرآن کریم میں طب کے اصول
قرآن کریم میں طب کے بنیادی اصول درج ذیل ہیں:

  1. توکل علی اللہ: ہر علاج کا آغاز بسم اللہ اور توکل پر ہونا چاہیے۔ بیماری اور شفا دونوں اللہ کی طرف سے ہیں۔
  2. اسباب کو اختیار کرنا:
    اِنَّ اللّٰہَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِہِمْ” (اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدلیں)۔ اس اصول کے تحت طبیب کا فرض ہے کہ وہ مرض کی وجوہات اور ان کے علاج کے لیے قدرتی وسائل کو بروئے کار لائے۔
  3. توازن اور اعتدال: قرآن میں “وکلوا واشربوا ولا تسرفوا” (کھاؤ پیو مگر حد سے تجاوز نہ کرو) کا حکم ہمیں بتاتا ہے کہ صحت کے لیے اعتدال ضروری ہے۔
    طبیب کے فرائض قرآن کی روشنی میں
    ایک مسلمان طبیب کا اولین فرض یہ ہے کہ وہ اپنے علم اور عمل کو اللہ کی رضا کے تابع رکھے۔ اس کے فرائض میں شامل ہیں:
  • مریض سے ہمدردی اور نرمی کا برتاؤ (“فبما رحمۃ من اللہ لنت لہم”)
  • علم کو بڑھانا اور جدید تحقیق کو قرآن و سنت کے مطابق پرکھنا
  • سستا، سہل اور قدرتی علاج کو ترجیح دینا
  • مریض کو اللہ پر توکل کی تلقین کرنا
    علاج کے جدید اصول اور قرآنی ہدایات کا امتزاج
    آج کا طبیب جدید تحقیقات اور قدیم حکمت کو ملا کر ایک جامع علاجی طریقہ کار اپنا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر:
  • ذیابیطس: میتھی، جامن، کریلا — ان کے استعمال کو جدید تحقیق سے ثابت کر کے تجویز کیا جائے۔
  • بلند فشار خون: لہسن، پودینہ، سونف — قرآن کے اصول “لا تضر” (نقصان نہ پہنچاؤ) کے تحت ان کی مناسب مقدار تجویز کی جائے۔
  • نظام ہاضمہ: ادرک، سونف، پودینہ — احادیث میں بھی ان کے استعمال کی ترغیب دی گئی ہے۔
    طبیب کے آداب
    قرآن کریم طبیب کے لیے یہ آداب مقرر کرتا ہے:
  • تکبر اور غرور سے بچنا
  • مریض کی رازداری کرنا
  • علم کو چھپانا نہیں (“إِنَّ الَّذِیْنَ یَکْتُمُونَ مَا أَنزَلْنَا مِنَ الْبَیِّنَاتِ وَالْہُدٰی”)
  • ہر مریض کو اس کی استطاعت کے مطابق علاج تجویز کرنا
    اختتام
    قرآن کریم نے ہمیں صرف روحانی ہدایت ہی نہیں دی بلکہ جسمانی صحت کے لیے بھی رہنمائی فرمائی ہے۔ ایک کامیاب طبیب وہ ہے جو قرآن کی روشنی میں قدرت کے خزانوں سے استفادہ کرتے ہوئے، اللہ پر توکل کرے اور مریضوں کی خدمت کو عبادت سمجھے۔ قدرت نے ہر بیماری کی دوا پیدا کی ہے، ضرورت ہے تو اسے تلاش کرنے، پرکھنے اور برتنے کی۔
    خاتمہ:
    یَا أَیُّہَا النَّاسُ قَدْ جَاءَتْکُم مَّوْعِظَۃٌ مِّن رَّبِّکُمْ وَشِفَاءٌ لِّمَا فِی الصُّدُورِ وَہُدًى وَرَحْمَۃٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ” (سورہ یونس:57)
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    قرآن کریم کے طبی ارشادات اور طبیب کے فرائض۔
    کائنات کا ذرہ ذرہ اس خالقِ حقیقی کی حکمتِ بالغہ کا گواہ ہے جس نے انسان کو بہترین ساخت پر پیدا کیا اور اس کی بقا و نشوونما کے لیے زمین کے سینے سے رنگ برنگی نباتات، اناج اور پھل پیدا کیے۔ دینِ اسلام محض چند عبادات کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو انسانی وجود کے مادی اور روحانی دونوں پہلوں کی آبیاری کرتا ہے۔ قرآنِ حکیم، جو کہ نوعِ انسانی کے لیے رہنمائی کا آخری اور ابدی سرچشمہ ہے، خود کو “الشفاء” کے لقب سے متعارف کرواتا ہے، جس کا مقصد محض روحانی امراض کی تطہیر ہی نہیں بلکہ انسانی جسم کو عوارض سے بچانے اور اسے صحت و تندرستی کے اعلیٰ معیار پر فائز کرنا بھی ہے ۔ ایک طبیبِ حاذق کے لیے قرآنِ مجید کی آیات اور سنتِ نبوی کے ارشادات وہ مشعلِ راہ ہیں جن کی روشنی میں وہ انسانیت کی خدمت کا فریضہ بخوبی سرانجام دے سکتا ہے۔ اس تحقیقی مقالے میں طبیب کے اخلاقی و پیشہ ورانہ فرائض، انسانی مزاج کے قرآنی تصورات اور اناج، پھلوں اور جڑی بوٹیوں کے ذریعے علاج کے اسالیب پر سیر حاصل بحث کی گئی ہے۔
    ۔۔۔
    طبیب کے فرائض اور پیشہ ورانہ اخلاقیات: ایک قرآنی نقطہ نظر
    اسلامی طب میں معالج کا منصب محض ایک پیشے کا نام نہیں بلکہ یہ ایک عظیم امانت اور خدمتِ خلق کا مقدس فریضہ ہے ۔ قرآنِ کریم کی رو سے ایک انسان کی جان بچانا پوری انسانیت کو زندگی بخشنے کے مترادف قرار دیا گیا ہے، جو کہ طب کی اہمیت کو واضع کرتا ہے ۔ معالج کو یہ حقیقت ہمیشہ پیشِ نظر رکھنی چاہیے کہ شفا کا حقیقی منبع صرف اللہ رب العزت کی ذات ہے، جیسا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا کہ “جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہی مجھے شفا دیتا ہے” ۔ اس توحیدی نظریے کے تحت طبیب کے فرائض کو چند بنیادی نکات میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔
    سب سے پہلا اور بنیادی فریضہ “۔
    دیانت و امانت” ہے۔ معالج کے پاس مریض کا آنا ایک امانت کی صورت میں ہوتا ہے، جہاں وہ نہ صرف اپنی جسمانی تکالیف بیان کرتا ہے بلکہ اپنے کئی پوشیدہ راز بھی عیاں کر دیتا ہے ۔ طبیبِ حاذق کے لیے لازم ہے کہ وہ ان رازوں کی حفاظت کرے اور مریض کی پرائیویسی کا مکمل احترام کرے ۔ قدیم اطباء، جیسے الرازی اور ابنِ سینا، نے اپنی تصانیف میں اس بات پر بہت زور دیا ہے کہ طبیب کو مریض کا سچا ہمدرد اور اس کے عیوب کو چھپانے والا ہونا چاہیے ۔
    دوسرا اہم فریضہ ۔
    “پیشہ ورانہ مہارت اور مسلسل جستجو” ہے۔ قرآنِ مجید علم کی جستجو کو عبادت قرار دیتا ہے ۔ معالج کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے شعبے میں مکمل دسترس رکھتا ہو اور جدید طبی تحقیقات سے واقف رہے۔ اگر کوئی شخص بغیر مہارت کے طبابت شروع کرتا ہے اور اس کی نادانی سے مریض کو کوئی نقصان پہنچتا ہے، تو اسلامی قانون کے تحت وہ شخص معاوضہ (دیت) ادا کرنے کا پابند ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ طب میں مہارت محض ایک خوبی نہیں بلکہ ایک قانونی اور شرعی ضرورت ہے ۔
    تیسرا فریضہ “رفق و احسان” ہے۔ مریض کے ساتھ نرمی، شفقت اور خوش اخلاقی سے پیش آنا معالج کی کامیابی کی پہلی سیڑھی ہے۔ نفسیاتی طور پر ایک ٹوٹا ہوا انسان جب طبیب کے پاس آتا ہے، تو معالج کی تسلی بخش گفتگو اس کے حوصلے کو بلند کر دیتی ہے، جو کہ آدھے علاج کے برابر ہے ۔ طبیب کو چاہیے کہ وہ تکبر سے بچے اور خود کو اللہ کی مخلوق کا خادم سمجھے ۔
    حکمت اور انسانی مزاج کا قرآنی و فطری تصور
    اسلامی طب یا یونانی طب کی بنیاد “نظریہ عناصر و اخلاط” پر ہے۔ کائنات کی ہر تخلیق چار بنیادی عناصر یعنی آگ، ہوا، پانی اور مٹی سے مل کر بنی ہے، جن کا توازن ہی زندگی کی علامت ہے ۔ قرآنِ کریم نے بھی مختلف مقامات پر مٹی اور پانی سے انسانی تخلیق کا ذکر کیا ہے، جو کہ ان عناصر کی اہمیت کی طرف اشارہ ہے ۔

عناصرِ اربعہ اور ان کی کیفیات
حکمت کی اصطلاح میں انسانی صحت ان عناصر کے باہمی اعتدال پر منحصر ہے۔ جب یہ عناصر ایک معتدل کیفیت میں ہوتے ہیں، تو اسے “مزاج” کہا جاتا ہے ۔
آگ (النار): اس کا مزاج گرم خشک ہے، جو جسم میں حرارتِ غریزی پیدا کرتی ہے ۔ اسے جدید طبی نقطہ نظر سے خلیات میں بننے والی توانائی (ATP) سے تشبیہ دی جا سکتی ہے ۔
ہوا: اس کا مزاج گرم تر ہے، جو خون کی گردش اور تنفس کے عمل کو سہل بناتی ہے ۔
پانی (الماء): اس کا مزاج سرد تر ہے، جو جسم کے رطوبات، پلازمہ اور سیال مادوں کی تشکیل کرتا ہے ۔
مٹی (الارض): اس کا مزاج سرد خشک ہے، جو جسمانی ساخت، ہڈیوں اور معدنیات کی اساس ہے ۔
جب ان عناصر میں سے کسی ایک کا غلبہ ہوتا ہے، تو جسمانی نظام میں عدم توازن پیدا ہو جاتا ہے جسے “مرض” کہا جاتا ہے۔ ایک طبیب کا کام اس مزاج کو پہچاننا اور غذا کے ذریعے اسے دوبارہ اعتدال پر لانا ہے ۔
اخلاط کا توازن اور تشخیص
انسانی جسم میں موجود مائعات کو چار اخلاط میں تقسیم کیا گیا ہے: خون (دم)، بلغم، صفرا اور سودا ۔ طبیب کے لیے تشخیص کا فن یہ ہے کہ وہ مریض کی نبض، چہرے کی رنگت اور عمومی علامات سے یہ سمجھے کہ کون سا خلط حد سے بڑھ گیا ہے۔ مثلاً، اگر کسی کا چہرہ زردی مائل ہے اور اسے شدید پیاس محسوس ہوتی ہے، تو یہ “صفرا” (گرمی خشکی) کے غلبے کی علامت ہے ۔ ایسے مریض کے لیے طبیب “سرد تر” غذاؤں (جیسے کدّو یا کھیر) کا انتخاب کرے گا ۔

Leave a Comment

Hakeem Muhammad Younas Shahid

Hakeem Muhammad Younas Shahid

Hakeem Muhammad Younas Shahid, the visionary mind behind Tibb4all, revolutionizes education and daily life enhancement in Pakistan. His passion for knowledge and unwavering community dedication inspire all who seek progress and enlightenment.

More About Me

Newsletter

Top Selling Multipurpose WP Theme