میو قوم اے ترقی کے مارےیہ کام کرنا پڑنگا

0 comment 77 views
میو قوم اے ترقی کے مارےیہ کام کرنا پڑنگا
میو قوم اے ترقی کے مارےیہ کام کرنا پڑنگا

میو قوم اے ترقی کے مارےیہ کام کرنا پڑنگا
حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو۔
میو قوم کے مارے بہت ساکام کرن والا پڑاہاں۔آگے بڑھنو ہے تویہ کام تو کرنا پڑنگا۔
تم نہ کروگا،تو وے لوگ کرنگا جو تہاری جگہ پے آنگا۔قدرت تہاری محتاج تو نہ ہے ۔وائے اپنا کام کرانا ہاں۔
تم کرلئیوگا تو تم پہلا نمبر پے آجائوگا۔نہیں تو ان کو نام چلے گو جو کام کرنگا؟
قدرت اپنا انداز سو کام کرے ہے۔واکا اقدامات کائی کا محتاج نہ رہواہاں۔
کائنات وائے اپنی مرضی کے مطابق چلانی ہے۔تہاری سوچ یا پسند سوُ وائے کوئی غرض نہ ہے۔
مان لئیو کہ تم اپنی اپنی جگہ پے ٹھیک ہو ۔کدی اکیلا میں بیٹھ کے سوچو۔
جو کام تم کرراہو۔واکی کس کس اے ضرورت ہے ؟،یا پھر وےبرادری ۔قوم یا ملک ۔دین و ملت کے مارے کتنا کار آمد ہاں؟
یاپھر نوں سوچ کے دیکھ لئیو کہ جو کردار و رویہ ہے، اگر کوئی یا رویہ اے تہارے ساتھ کرے تو تم نے کیسو لگے؟۔
زیادہ کھیچل کی ضرورت نہ ہے۔صرف دوسرا کا قدمن پے کھڑو ہوکے دیکھ لئیو۔
جو رویہ یا کرادا تہارو دوسران کے ساتھ ہے ۔اگر کوئی تہارے ساتھ وائی کردار اے ادا کرے۔
تم نے کیسو لگے گو؟

Advertisements


۔وقت اپنا بدلائو کے ساتھ ساتھ معیارات اور عزت و احترام کا معیاراتن نے بھی بدلتو رہوے ہے۔
مثلاََ آج سو بیس تیس سال پہلے جو گاڑی۔جو مکانات۔جو لباس باعث افتخار ہو ۔
آج اُو غربت کی نشانی بن چکو ہے۔
رہائش و مکانات کو جو ڈزائن جو طرز تعمیر کا مخر کو سبب ہو آج وہی فرسودہ ہوچکو ہے۔
جو چیز اللہ تعالیٰ نے مقرر کری ہاں وے برقرار رہیں گی۔
جیسے کھانو۔لباس ۔رہائش۔ان کو استعمال ضروری ہے۔لیکن اگر یہی چیز فخرومباہات تک جاپہنچا تو
ایک وقت ایسو آوے ہے کہ سوچ کے ساتھ ان میں تبدیلی آجاوے ہے۔
ایک وقت میں جو چیز فخرو بلندی سمجھی جاوے ہے۔دوسرا وقت میں وہی چیز شرمندگی و غربت میں تبدیل ہوجاوے ہے۔
یہی طریقہ کار پوری زندگی پے محیط ہے۔ایسے ہی چوہدر خدمات،دولت کو استعمال بدلتو رہوے

ہے۔
جو وقت کی ضرورت پوری کرے ہے اُو زندگی آگے بڑھ جاوے ہے۔
اگر اپنی روش نہ بدلے ہے تو زمانہ کی دھول میں اَٹ جاوے ہے۔
وقت وائے بہت پیچھے چھوڑ جاوے ہے۔
میو قوم کو اپنو معیار زندگی ہے۔جینا کا اپنا ایک ڈھنگ ہے۔عزت و وقار کو ایک فارمیٹ ہے۔
بڑا چھوٹا کی پہچان ہے۔اِی صدین سو چلی آری ہے۔بڑا بوڈھا یا روایت اے قائم راکھنو چاہواہاں ۔
لیکن نوجوان نسل یاسو باغی ہے۔
ایک کشمکش ہے۔جاسو ہماری موجودہ نسل گزرری ہے۔بوڑھا بدلنا نہ چاہاں۔جوان ماننو نہ چاہاں ۔
کیونکہ وقت کے ساتھ جو بدلائو آیو۔بوڑھا اپان نہ سکا۔
جوانن نے یائے اپنائے بغیر اپنو مستقبل اندھیرو دکھائی دیوے ہے۔
بڑا بوڈھا ۔یابات کو افسوس کراہاں کہ نئی نسل میوات کی تہذیب ۔ادب و آداب۔رکھ رکھائو اے بھولتا جارا ہاں۔
پہلی محبت و قدر باقی نہ ہے؟۔


بالکل ایسو ای ہے کہ نوجوان نسل پرانا قواعد و ضوابطن نے چھوڑتا جاراہا۔
وے اپنا نسلی امیتاز اے کھوتا جارا ہاں۔
پتو ہے یاکو سبب کہا ہے؟
ای بڑا بوڈھان کی غفلت کو نتیجہ ہے۔اور اپنی روایتن نے بھُلانا کو خمیازہ ہے۔
ہم نے اپنی نئی نسل کو وقت ای نہ دیو۔ہم نے کچھ سکھائیو ای نہ ہے۔نئی نسل کہاں سو سیکھتی ؟
ہم نے سکھائیو نہ۔دوسری جگہ کہیں سو سیکھ نہ سکے ہا۔نوں ایک گہرو فاصلہ بڑھتو گئیو۔
شکوہ شکایات ہاں۔الزام تراشی ہاں۔آج بھی کوئی لائحہ موجود نہ ہے۔
کوئی ایسی سوچ موجود نہ ہے،کہ اپنی نسل اے کیسے میو پن پے قائم راکھاں؟
سچی بات کہوں تو لیڈر و قائدین۔اور ٹھونڈا لوگن نے خود بھی پتو نہ ہے کہ نئی نسل کی ضروریات کہا ہاں؟
وے ہم سو کہا توقع راکھاہاں؟
اگر میو کو میوپن برقرارراکھنو ہے تو ایسا اقدامات کرنا بڑنگا جن کی بنیاد پے آن والی پود کو کچھ دین والا بناں۔
جن کے پئے چوہدر ہے یا اپنا آپ اے چوہدری سمجھاہاں۔
انن نے سوچنو پڑے گو کہ میواتی ثقافت و کلچر باقی راکھنو ہے تو نوجوان نسل کو اُ دینو پڑے گو ،جاکی اُنن نے ضرورت ہے۔
تم ان کی ضرورت پوری کرو۔وے تہاری بات ماننگا۔
نئی پود کی ضرورت کہا ہے ؟۔نئی نسل ہم سو کہا چاہے؟
یابارہ میں سوچ بچار کرنو،وقت کی اہم ضرورت ہے۔
نوجوان نسل چاہے۔واکی تعلیمی ضروریات پوری کری جاواں۔
تعلیم مکمل ہونا کے بعد۔کاروبار۔تجارت۔نوکری۔یا خود انحصاری میں ان کو سہارو بنو جائے۔
جدید تعلیم کا راستہ کھولا جاواں۔ان کے مارے ہنر یا سکلز کا راستہ ہموار کراجاواں۔
سعد ورچوئل سکلز پاکستان یابارہ میں۔ایک پلان اپلائی کرن جارو ہے۔
احباب ومخیر حضرات سو یا بارہ میں مشاورت جاری ہے،
کہ میو قوم کو کیسے جدید ٹیکنالوجی کی مدد سو تکنیکی سہولیات فراہم کری جاواں۔
دور دراز علاقان میں ایسو بندو بست کرو جائے کہ تعلیمی مہارت اورتکنیکی سہولیات ان کا دروازہ پے پہنچائی جاواں۔
یا سلسلہ میںان اداران کے ساتھ مشاورت جاری ہے جو بین الاقوامی طورپے ان سروسز ن نے مہیا کررا ہاں۔
ایک بہترین قسم کو ادارہ قائم کررا ہاں۔
یا ادارہ میں علاقائی سطح پے موجود مسائل کو حل پیش کرو جائے گو۔
یعنی جہاں کہیں کوئی ضرورت ہے واکے مطابق ہنر مند پیدا کرا جانگا۔
جو علاقائی ضروریاتن کی تکمیل کو سبب بننگا۔
ہر علاقہ کی اپنی اپنی ضروریات ہاں۔
ہمارو ادارو ۔جدید ہنر اور ضروریات زندگی کا بارہ میں پہلے ای کام کررو ہے۔
جدید ڈیجیٹل دنیا میں جتنی جلدی بدلائو اور انقلاب آرو ہے۔
ہر روز کوئی نہ کوئی ہنر دم توڑ رو ہے،واکی جگہ پے نئی تکنیک اورسوچ آری ہے۔
سعد ورچوئل سکلز پاکستان میںپہلے ویڈیو ایڈیٹنگ۔گرافکس ڈزائننگ ،کوڈنگ ۔وغیرہ کورسزکروایا جاوے ہا،
اب یہ سارا کام اے آئی نے لے لیا ہاں۔یہ ختم کرا جاراہاں۔
ان کی جگہ پے پرومپٹ انجینئرنگ۔اے آئی،میں مہارت شامل کردی ہے۔
ایک آٹھ دس سال کو بچہ۔ویب سائٹس بنا سکے۔
موبائل ایپلیکیشن بناسکے۔
اپنا مسائل دیکھ کے ان کو حل پیش کرسکے۔
جو لکھ سکے لکھ لئے جو بول سکے بول لئے۔اے آئی اچھا بچہ کی طرح تہاری بات مانن کے مارے ہاتھ جوڑی کھڑے ہوئے
ای جدید ضرورت مستقبل کی طاقت ہےای ایسو دیو ہے جو ہماری دنیا اے بدل دئیگو۔
سوچ بدل جانگی۔دنیا یا بھنور میں پھنستی چلی جائے گی۔
اتنی جلدی اور غیر محسوس طریقہ سو ہماری زندگی کو حصہ بن جائے گی کہ پتو بھی نہ لگے گو ہماری دنیا اے اُلٹ کے دھر دئے گی
جن کامن میں مہارت کے مارے لمبو عرصہ لگے ہو۔
اب یہ کام ایک کمان یا پرومپٹ کی مدد سو ایک منٹ سو کم عرصہ میں کرا جاسکاہاں۔نوں کہہ سکو ہو۔
سعد ورچوئل سکلز پاکستان۔
اپ گریڈ ہورو ہے۔
یا سلسلہ میں میو قوم کا مخیر ۔پڑھا لکھا لوگن سو مشاورت بھی جاری ہے۔
کل جناب شہزاد جواہر سوُ یا بارہ میں طویل مشاورت ہوئی۔۔
یاکے علاوہ۔
عاصد رمضان میو۔چوہدری طاہر خاں میو۔شکر اللہ میو۔مشتاق امبرالیا میو۔عمران بلا میو۔
کی بھی ایک طویل نششت ہوئی۔کچھن سو انفرادی بات چیت کئی دنن سو چل ری ہے۔۔
کہ میو قوم کا جوانن کو جدید اے آئی مہارت دینا کا سلسلہ میں کونسا اقدامات کرا جاواں۔
بین الاقوامی اداران سو بھی بات چیت چل ری ہے۔
ہماری کوشش ہے کہ میو قوم کی جدید و قدیم نسل کے درمیان ایسو امتزاج پیدا کردیواں ۔
جامیں دونوں اپنی اپنی تسکین کو سامان تلاش کرسکاں۔

Leave a Comment

Hakeem Muhammad Younas Shahid

Hakeem Muhammad Younas Shahid

Hakeem Muhammad Younas Shahid, the visionary mind behind Tibb4all, revolutionizes education and daily life enhancement in Pakistan. His passion for knowledge and unwavering community dedication inspire all who seek progress and enlightenment.

More About Me

Newsletter

Top Selling Multipurpose WP Theme