
سعد طبیہ کالج//سعد ورچوئل سکلز پاکستان کو سالانہ پروگرام
یونیفیکیشن طبی فاؤنڈیشن پاکستان۔
حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو
انسانی زندگی کوئی نہ کوئی مقصد ہونو ضروری ہے۔بے مقصد زندگی بوجھ بن جاوے ہے۔
گھنا بھوکا اور گھنا ڈھاپا کی فراغت شیطانی آلہ کے طورپے استعمال ہووے ہے۔
بھوک انسان اے کہیں کو نہ چھوڑے ہے۔بھوکا کی تو نماز بھی نہ ہووے ہے۔
رہی بات دھاپا کی تو یاکی دولت کی زیادتی یا کے بھینتر چھپی ہوئی گندگی اے نکال باہر کرے ہے۔
اچھو بھلو انسان بددماغ ۔یا پھر چھوٹو موٹو فرعون کو روپ دھار لیوے ہے۔
کائی نے کائی میراثی سو پوچھو کہ۔
میو دھاپو، اچھو کہ ،بھوکو؟۔
میراثی کہن لگو
میو ،درمیانو ای اچھو ہے۔
بھوکو ہوئے تو موکو کہا دئے گو
دھاپو ہویو تو کائی اے بھی نہ ٹکن دئے گو۔
۔۔۔۔۔۔۔
البتہ اگر مصروفیت ہوئے تو اوگن گارا۔ بنن کے بجائے کچھ مثبت کام کی توفیق مل جاوے ہے۔
میو برادری میں خدمت کی سمت ای اُلٹی ہے ۔زیادہ رول مچانو۔غنڈ گول بنانو۔
دوسران کی غلطی نکالنو۔ہر ایک کو پچھواڑو سونگنو،
یا وقت سب سو بڑی خدمت شمار ہوواہاں ۔
ہر کوئی کہتو دکھائی دیوے ہے وانے نوں کردئیو۔وانے ایسو کردئیو،
اپنی کوئی بھی نہ کہوے کہ وانے برادری کے مارے کہا کرو ہے؟
عجیب وقت ہے محفلن سوُ دل اُکتا سو گئیو ہے۔
بہتری یائی میں دکھائی دیوے ہے کہ جو کام کرسکو ہو۔وائی کرتا رہو ۔
جب کام فائدہ مند ہوئے گو تو لوگن نے خود ہی پتو چل جائے گو۔بتانا کی ضرورت پیش نہ آئے گی۔
ہمارو ارادہ ہو کہ سعد ورچوئل سکلز پاکستان کی پانچواں یوم تاسیس کا سلسلہ میں ایک پروگرام کرنا کوہو
۔ مولانا محمد احمد قادری صاحب نے کشادہ دلی سو میزبانی کی ہاں بھری۔
لیکن ملکی حالات کی نزاکت دیکھتے ہوئے ای پروگرام 26 ستمبر 2026 کے بجائے کچھ آگے سرکا دئیو۔
اتفاق ہے کہ یہی تاریخ یوم تاسیس بھی ہے۔
اور میرا بیٹا سعد یونس مرحوم(بانی سعد ورچوئل سکلز پاکستان) کی یوم وفات بھی۔
یا پروگرام کی ترتیب کچھ یا طرح ہی کہ ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یونیفیکیشن طبی فاؤنڈیشن پاکستان کا مرکزی صدر
اور مرکزی باڈی۔پنجاب کی باڈی کو شرکت کی دعوت دی گئی ہی۔
ہمارا بیچ میں پُل کو کردار حکیم سید زاہد وصی نے کردار ادا کرو۔
طبی یونیفکیشن فائونڈیشن کو مرکزی صدر حکیم و ڈاکٹر سید رضوان شاہ صاحب
پنجاب (لاہور)کو صدر سید حفیظ شاہ صاحب
طب کا محسن و خدمت گزار حکیم جناب غلام عباس صاحب
اور ن کی مرکزی و صوبائی اور ضلع لاہور کی باڈیز نے ہماری دعوت خندہ پیشانی سو قبول کری۔
یاکا محرک کردارن میں صوفی محمد عرفان روزدار۔
مولوی محمد طاہر نقشبندی صاحبان کو نام آوے ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔
پروگرام کو بنیادی مقصد۔
میو قوم کی جو صورت حال یا وقت میڈیا پے دیکھن کو مل ری ہے۔
واسو ای تاثر ملے ہے کہ میو۔قوم جاانداز سو اپنی پیغام رسانی کرری ہے ۔
ایسے لگے ہے کہ یا کے پئے دوسری قومن کے مارے نہ کوئی گنجائش ہے ۔
نہ کوئی واضح پیغام ہے۔نہ ہمارے پئے کوئی ایسو لائحہ عمل ہے۔
ہم نے سوچو کہ پاکستان بھر کی اطبا کی تنظیم
جو عمومی طورپے پاکستان بھر کا اطباء کی نمائیندہ تنظیم ہے۔
یائے بلاکے۔ان کی دستار بندی کردی جائے۔
میو قوم کا مہیں سو اُن کی دستار بندی کردی جائے۔
اُن کا مہیں سو،میو قوم کا نمائیندان کے پگڑی بندھوادی جائے۔
یاکے علاوہ میواتی علماء کرام جو علاج و معالجہ سو منسلک ہاں۔
ان کی سرکاری سطح پے قانونی صورت نکل آئے کہ
وے قانونی طورپے اپنو مطب ۔دوا خانہ بنا سکاں۔
ان کو
سعد طبیہ کالج برائے فروغ طب نبویﷺ۔کاہنہ نولاہور۔
اور یونیفیکیشن طبی فاؤنڈیشن پاکستان کی طرف سو اعزازی شیلڈ اور سرٹیٖفکیٹ دیدیا جاواں ۔
جاسو میو قوم کا علماء لیگلی انداز میںقومی دھارا میں شامل ہوسکاں۔
یا پروگرام کو مقصد میو قوم کا مہیں سو اطباء حضرات کے مارے خیر سگالی کو پیغام دینو ہو۔۔
میو قوم کا معز بزرگ۔ان کو پگڑی پہناواں۔
وے لوگ اپنا مہیں سو خیر سگالی کے طورپے اعزازی شیلڈ۔اور سرٹفکیٹ دیواں ۔
میو قوم کو۔ پیغام اچھا انداز میں دوسران کو پہنچے۔یہی ہماری سب سو بڑی خواہش ہے۔
الحمد اللہ ملکی سطح پے کچھ بہتری دکھائی دے ری ہے۔ دوبارہ سو پروگرام ترتیب دیو جائے گو۔
،معاونین اور مخلصین سو ۔دوبارہ مشاورت کری جائے گی۔
کہ کونسی تاریخ۔مقرر کری جائے
علامہ محمد احمد قادری صاحب سو مشاورت کری جائے گی۔
تاریخ کو تعین کردئیو جائے گو۔
اطلاع
بعض وجوہات کی وجہ سو پروگرام کی تاریخ آگے بڑھادی گئی ہے
میزبان۔
مولانا محمد احمد قادری۔ایلیٹ ٹائون فیروز پور روڈ کاہنہ لاہور
بقیہ کل لکھونگو۔۔۔۔
