
اہل اللہ کے ساتھ کچھ بتائے لمحے۔2
حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو۔
نماز مغرب مفتی صاحب نے پڑھائی۔مختصر سی آیات تلاوت کیں یوں جلد ہی نماز سے فارغ ہوگئے۔ عمومی طورپر دیکھا جاتا ہے مجمع یا جلسہ و جلوسوں میں جب امام صاحب کو موقع ملتا ہے اپنی مکمل مہارت دیکھاتاہے اور لمبی چوڑی سورتیں شروع کردیتا ہے۔جب کہ اعتدال کا راستہ یہ ہے کہ مجمع کی نمازیں جتنی ہوسکے مختصر کی جائیں ۔قران کریم مین یہ ہدایات موجود ہیں (-عَلِمَ اَنْ سَیَكُوْنُ مِنْكُمْ مَّرْضٰىۙ-وَ اٰخَرُوْنَ یَضْرِبُوْنَ فِی الْاَرْضِ یَبْتَغُوْنَ مِنْ فَضْلِ اللّٰهِۙ-وَ اٰخَرُوْنَ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ﳲ فَاقْرَءُوْا مَا تَیَسَّرَ مِنْهُۙ) کہ مقتدیوں میں کچھ لوگ ضرورتمند ا
ور جلدی میں بھی ہوتے ہیں۔
بات یہ تھی کہ قریب ہی گائوں میں کچھ لوگ میرے منتظر تھے۔انہیں جمعہ کے بعد کا وقت دیا ہوا تھا۔لیکن ملنے ملانے اور کثرت ملاقاتوں نے

ان کی حق تلفی کی۔میزبان سے اجازت لی اور ملنے چلا گیا۔امید تھی کہ جلد ہی واپسی ہوجائے گی۔میزبان سے نماز عشاء کا وقت پوچھا ،تو کہنے لگے عام وقت پونے آٹھ بجے کا ہےلیکن آج پروگرام کی وجہ سے پورے آٹھ بجے ہوگی۔
جلد واپس آگیا۔ بیان جاری تھا، مفتی صاحب سہل الممتنع انداز میں قرانی الفاظ۔و اصطلاحات، تقوی۔عابد و معبود۔اعمال صالحہ۔جیسی جیسےامور پر گفتگو فرمارہے تھے۔
اس میں شک نہیں کہ مفتی صاحب کا انداز بیان بہت سادہ اور عام فہم تھا۔کچھ فقہی اصطلاحات بھی برجستہ زبان سے نکل رہی تھیں۔ہمیں فقہ اور اصول فقہ پر پڑھی ہوئی کتابیں یاد آنے لگیں۔ قصہ کوتاہ ایک جامع انداز بیان تھا۔کوئی مسلک نہیں ،کوئی فرقہ نہیں کوئی کسی کی مدح سرائی نہیں۔صرف تبلیغ تھی یا ابلاغ تھا۔اس کے علاوہ کچھ نہیں،میزبان نے مجھے ممبر کے پاس مہمانوں کے لئے بچھایا گیا، صوفہ پر بیٹھنے کا اصرار کیالیکن جو لذت چٹائیوں پر بیٹھنے سے ملی، وہ صوفہ پر کہاں؟خیر اپنے اپنے محسوسات ہیں۔کچھ دیر بعد گردو نواح کے خطباء۔اور آئمہ کرام بھی پروگرام میں شریک ہوتےگئے۔

حضرت مولانا قاری شفیق الرحمن صاحب امیدوار ایم پی اے حلقہ 154
حضرت مولانا سلیم اللہ عبید صاحب مولانا عبدالباسط عبید صاحب
حضرت مولانا عبید الرحمن معاویہ صاحب
قاری محمد صابر مدنی صاحب
اور حافظ شہزاد بشیر صاحب
قاری مولانا کلیم اللہ عثمان صاحب
قاری ملک محمد نیاز علی
قاری محمد عمران طاہر محمدی
قاری عرفان اللہ فاروقی
حافظ عدیل حیدر صاحب کے علاؤہ علاقے بھر کے کثیر علماء اکرام۔عمومی طورپر ہر ماہ ہونے والے درس قران مین یہ لوگ شریک ہوتے ہیں اور یہ ایک اچھی روش ہے۔کہ ایک مولوی دوسرے مولوی کی مجسد میں بیٹھ کر بات سنے اور بار بار آئے۔درس مین شریک ہو۔مولویوں کا اس طرح جمع ہونا عجائبات عالم سے ہے۔
یہ لوگ وہ تھے جنہیں کسی حد تک میں جانتا تھا۔کچھ مجھے جانتے تھے۔کچھ لوگ مجھے جانتے تھے نہ میں انہیں جانتا تھا۔یہ پہلی ملاقات تھی۔
عشاء نماز شیخ المشائخ سید مختار الدین شاہ علیہ الرحمہ کے ایک خلیفہ نے پڑھائی۔گوکہ یہ مفتی صاحب کی طرح مجمع کے نبض شناس نہ تھے۔یوں قرات لمبی کردی۔
پہلی صف میں مولانا شفیع اللہ خان کے قریب جگہ ملی۔سلام پھیرتے ہی، مولانا فرمانے لگے ۔نماز کے بعد بھاگنا نہیں، میں آپ کو ایک کتاب دونگا۔مولانا کے پاس کتاب کی تین کاپیاں تھیں ۔مجمع زیادہ تھا ۔مجھے یوں لگا کہ یہ تقسیم نہیں انتخاب ہوگا۔
یہ نیکوں کا مجمع تھا۔اور انتخاب بھی نیک لوگوں کا تھا۔مجھے کبھی یہ خبط نہیں ہوا کہ میں نیک ہوں ۔بس گزارہ ہے ۔اللہ پاک کی ذات بابرکت سے حسن ظن ہے۔رحمت و امید کی طرف طبیعت زیادہ مائل ہے۔زندگی میں بہتر اور روشن پہلو دیکھنے کی عادت ہے ۔
مایوسی اور جلد بازی سے طبیعت کو لگائو نہیں ہے ۔جب کوئی کام خلاف طبع ہوجائے ، تو امر ربی سمجھتا ہوں اور بے چینی یا اضراری حالت پیدا کرنے کے بجائے،اطمنان سے بیٹھ جاتا ہوں کیونکہ میں نے اپنا کام کردیا ۔
جو ذات دیکھ رہی ہے وہ مجھ سے زیادہ دانا اور فیاض ہے ۔ممکن ہے کچھ پہلو میری نگاہوں سے اوجھل ہوں۔وہ تو سب دیکھتا سمجھتا ہے۔یہ بھی یقین ہے کہ وہ کوئی غیرمناسب اور ظالمانہ فیصلہ نہیں کرتا۔

بعد میں پتہ چلتا ہے جو کام نہیں ہوا ،اس کا نا ہونا ہی بہتر تھا۔
بات حضرت کی کتاب کی ہورہی تھی۔تو بحمد اللہ میرا قرعہ فعال نکلا اور مجھے کتاب عنایت کردی گئی۔
پھر میزبان نے طعام و دہن کا بندوبست کیا تھا دسترخوان بچھا یا گیا ۔دستر خوان کی وسعت میزبان صوفی عرفان روز دار کی وسعت ظرفی کی علامت تھا۔
کئی اقسام کے کھانے چنے گئے تھے۔میرا انکار ۔میزبان کا اصرار ،نتیجہ میں ہارا ،میزبان کامیاب ہوئے۔ صلحاء کے ساتھ چند نوالے طعام الابرار کے زمرے میں سمجھے گئے۔
بے تکلف باتیں ہوتی رہیں مختلف مسائل و معاملات زیر بحث رہے۔
میری دلچسپی کا سامان یہ تھا کہ یہاں کوئی بزرگی اور کا تصور اس انداز میں موجود نہ تھا۔
ان کے سامنے مودب دوزانو بیٹھیں ۔ڈرتے ڈرتے لقمے میں ۔سمٹتے سمٹتے اپنا وجود کو بھی گھٹن میں ڈال دیں ۔مزاج میں کشادگی تھی۔خیالات کی وسعت تھی۔ ادب و آداب جتنی ضرورت تھی، موجود تھا۔اس سے بڑھ کر کیا ہوگا کہ پیر شفیع اللہ خان صاحب اور مفتی صاحب خود اپنی پلیٹوں کی بوٹیاں اٹھا اٹھا کر دوسروں کے سامنے رکھ رہے تھے۔
یہ ان کی خاکساری انکساری تھی ۔ورنہ تو پیروں کے سامنے تیز سانس لینا بھی جرم ہے یا گستاخی کے زمرے میں آتا ہے۔
یوں تو میزبان کا کھانا کلی طورپر نفیس و لذیذ تھا، لیکن کھیر کی اپنی حلاوت تھی۔جی کرتا ہے دل پے پتھر رکھ کر خلاف طبیعت کام کرتے ہوئے ان سے پھر سے کھیر کی فرمائش کروں ۔
دسترخوان پر بیٹھے بیٹھے کوئی علماء کرام نے بھی نبضیں دکھائی۔علاج و معالجہ پر دلچسپ مکالمے ہوئے۔
اس کے بعد حضرت پیر مدظلہ نے کتاب مرحمت فرمائی۔اپنے دستخط ے ساتھ، حضرت مفتی صاحب کے بھی دستخط کرکے میرے لئے بطور تحفہ پیش کی۔
یوں تو اس وقت لاکھوں کتب میرے لپ ٹاپ کی ہارڈ میں موجود ہیں لیکن جو فیوض برکات ان لوگوں کے تحفہ میں دیکھے گئے ہیں ۔وہ دوسری جگہ نہیں ملتے۔
واپسی پر حضرت پیر صاحب نے خصوصی توجہ فرمائی۔
اس مختصر تحریرمیں ان واردہ کیفیات کا احاطہ ممکن نہیں۔
زندگی رہی تو۔کتابوں پر اور ان واردہ کیفیات پر لکھونگا۔
اللہ تعالیٰ کا خاص کرم ہے جب طبیعت کھلتی ہے تو ایک نکتہ سے کتاب لکھ دیتا ہوں ۔
جب انقباض ہوتو ذخیرہ کتب سے بھی کچھ پلے نہیں پڑتا۔
انبساط و انقباض زندگی کا حصہ ہے۔البتہ کسی بات کو دوسرے لوگوں سے جلد سمجھنے کی صلاحیت اللہ نے دی ہے۔علوم و فنون سمجھنے کی استعداد عام لوگوں سے زیادہ محسوس ہوتی ہے۔
ابھی سفر درپیش ہے ۔استحضار دل رہا تو واپسی پر ان کیفیات وواردات پر خامہ فرمائی کرونگا۔
اس وقت حالت یہ ہے کہ مضامین کا ایک ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر محسوس ہورہے ہیں۔طبیعت کا میلان بھی لگتا ہے ابھی قدرتی طورپر کچھ وقت باقی ہے
۔الفاظ ہاتھ باندھے کھڑے ہیں ۔
جذبات میں طلاطلم ہے۔لیکن واکان امر اللہ قدرا مقدورا۔۔۔
زیادہ کچھ نہین ۔
بقیہ پھر کبھی لکھونگا۔۔واللہ المستعان۔
