حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو اور میواتی لسانی و ثقافتی احیاء

0 comment 17 views

حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو اور میواتی لسانی و ثقافتی احیاء

 21 فروری مادری زبانوں کے عالمی دن کے تناظر میں

 ایک جامع تحقیقی رپورٹ

برصغیر پاک و ہند کی سماجی و لسانی تاریخ میں میوات کا خطہ ایک ایسی اکائی کے طور پر ابھرا ہے جس نے اپنی جفاکشی، غیرت اور منفرد ثقافتی شناخت کو صدیوں کے تغیر و تبدل کے باوجود برقرار رکھا ہے۔ اس خطے کی پہچان یہاں کے بسنے والے میو لوگ اور ان کی مادری زبان “میواتی” ہے۔ لسانیات کے ماہرین اور مورخین کے نزدیک کسی بھی گروہ کی بقا کا دارومدار اس کی زبان کے تحفظ پر ہوتا ہے۔ اسی تناظر میں حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو کی شخصیت اور ان کی علمی و لسانی خدمات کا مطالعہ ناگزیر ہو جاتا ہے۔ انہوں نے نہ صرف میواتی زبان کو ایک نئی زندگی عطا کی بلکہ اسے مذہبی اور علمی وقار بخش کر عالمی سطح پر ایک شناخت فراہم کی ہے 1۔ 21 فروری، جو کہ مادری زبانوں کا عالمی دن ہے، ہمیں ان عظیم شخصیات کی یاد دلاتا ہے جنہوں نے اپنی زبانوں کی بقا کے لیے قلم اور فکر کا سہارا لیا۔ قاری محمد یونس شاہد میو کی خدمات اسی عالمی تحریک کا حصہ معلوم ہوتی ہیں جو لسانی تنوع اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے کوشاں ہے 2۔

میواتی زبان کا تاریخی و جغرافیائی پس منظر

Advertisements

میواتی زبان بنیادی طور پر ہند-آریائی لسانی خاندان سے تعلق رکھتی ہے اور اسے راجستھانی گروہ کی ایک اہم شاخ تصور کیا جاتا ہے۔ یہ زبان بنیادی طور پر بھارت کے اضلاع الور، بھرت پور اور ہریانہ کے اضلاع نوح (میوات) اور پلول میں بولی جاتی ہے، جبکہ قیامِ پاکستان کے بعد میو قوم کی ایک بڑی تعداد پاکستان کے مختلف علاقوں، خاص طور پر سندھ اور پنجاب میں آباد ہوئی، جہاں وہ آج بھی اپنی زبان کو سینے سے لگائے ہوئے ہیں 4۔ میواتی زبان کا ارتقاء محض الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ یہ میو قوم کی ہزاروں سالہ تاریخ، ان کی رزمیہ داستانوں اور ان کی معاشرتی قدروں کا عکاس ہے 6۔

تاریخی اعتبار سے میو قوم اپنی راجپوتانہ جڑوں اور اسلامی تعلیمات کے حسین امتزاج کی وجہ سے جانی جاتی ہے۔ قاری محمد یونس شاہد میو نے اپنی تصانیف میں اس بات پر زور دیا ہے کہ میو قوم کی تہذیب و تمدن کو سمجھے بغیر ان کی لسانی ضروریات کا ادراک ناممکن ہے 6۔ میواتی معاشرت میں سادگی، بہادری اور اپنی زمین سے وابستگی نمایاں رہی ہے۔ ان کے لباس، خوراک اور رہن سہن میں ایک خاص قسم کی دیہی سادگی پائی جاتی ہے جو ان کی قدیم روایات کی عکاس ہے 6۔

میواتی قبائلی ساخت (گوتیں)تاریخی اہمیت و تفصیل
چھرک لوتمیو قوم کی ایک قدیم اور معزز شاخ 6
دولوتافرادی قوت اور سماجی اثر و رسوخ کے لیے معروف 6
پوند لوتمیواتی معاشرت میں کلیدی کردار ادا کرنے والی گوت 6
ڈیمروتاپنی روایتی جرات اور سماجی خدمات کے لیے جانی جاتی ہے 6
لڈاوت (باگوریا)میوات کے مختلف علاقوں میں آباد ایک نمایاں شاخ 6

حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو: شخصیت اور فکری جہات

حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو کی شخصیت کثیر الجہتی ہے۔ وہ بیک وقت ایک مصلح، ماہرِ لسانیات، مورخ، طبیب اور عالمِ دین ہیں 1۔ ان کی فکر کا بنیادی محور میو قوم کی علمی پسماندگی کو ختم کرنا اور انہیں ان کے اصل تہذیبی تشخص سے روشناس کرانا رہا ہے۔ انہوں نے محسوس کیا کہ جب تک میو قوم اپنی مادری زبان میں علم حاصل نہیں کرے گی، ان کی فکری ترقی کی رفتار سست رہے گی 6۔

ان کی علمی خدمات کی وسعت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انہوں نے مختلف موضوعات پر 100 سے زائد کتب تصنیف کی ہیں 1۔ ان کی تحریروں میں نہ صرف میوات کی تاریخ ملتی ہے بلکہ میو قوم کے روزمرہ کے مسائل، ان کے اخلاقی پہلوؤں اور ان کی مذہبی ضروریات کا بھی احاطہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے قلم کو میواتی زبان کی آبیاری کا ذریعہ بنایا اور اسے “بولی” کے درجے سے بلند کر کے ایک علمی و ادبی زبان کے طور پر متعارف کرایا 1۔

میواتی زبان میں قرآن کریم کا پہلا ترجمہ: ایک انقلابی علمی کارنامہ

قاری محمد یونس شاہد میو کا سب سے عظیم اور تاریخ ساز کارنامہ قرآن کریم کا میواتی زبان میں ترجمہ کرنا ہے۔ یہ کام محض ایک لسانی مشق نہیں تھی بلکہ یہ میواتی زبان کی تاریخ میں ایک نئے باب کا آغاز تھا 1۔

ترجمے کا آغاز اور تکمیل

اس عظیم الشان منصوبے پر کام کا آغاز کئی برس قبل ہوا تھا، جسے موصوف نے 1998ء میں حتمی شکل دی 1۔ اس ترجمے کی ضرورت اس لیے محسوس کی گئی کیونکہ میوات کی ایک بڑی آبادی، جو علمی و ادبی اردو سے واقف نہیں تھی، قرآنِ مجید کے احکامات کو براہِ راست سمجھنے سے قاصر تھی۔ قاری صاحب نے میواتی محاورات اور روزمرہ استعمال کی زبان کو استعمال کرتے ہوئے کلامِ الٰہی کو میواتی عوام کے فہم کے مطابق پیش کیا 1۔

موجودہ تحریری خدمات کے آئینے میں۔

حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو۔
ادبی و تحریری خدمات میں ہمہ وقت مصروف رہتے ہیں ۔ ھال ہی میں ان کی کئی کتب منظر عام پر آئیں ۔جنہیں میو قوم کے ہر خاصو عام میں تحسین کی نگاہ سے دیکھا۔
(1)مہیری(چھاچھ)یہ کتاب میو قوم کے مشہور پکوان  جسے میوات کے ہر گھر میں یومیہ بنیاد پر پکایا جاتا تھا۔کی افادیت اور طبی خواص ۔روایات اور تاریخ کے تناظر میں لکھا گیا ہے یہ کتاب لوک ورثہ اسلام آباد سمیت پاکستان کی کئی لائبریریوں کی زینت بن چکی ہے۔
(2)میو قوم کا ہیرو۔۔یہ کتاب 35 لوگوں کی بائیو گرافی ہے۔۔یہ اسلامآباد لوک ورثہ سمیت بہت سی لائبریریوں کی زینت چکی ہے
(3)میو قوم کو شاندار ماضی۔جنگ آزادی 1857۔حال ہی میں شائع ہوئی ہے۔اس میں جنگ آزادی کے میو قوم کے ہیروز کے کارناموں کو تاریخی ٹھوس ثبوتوں کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔اس کی تاریخی اہمیت کے پیش نظر ،میواتی ہیریٹج ابند کلچرل اسلام آباد کے منتظمین نے اپنے خرچے پر طبع کرایا ہے۔
(4) اڈھائی ہزارسالہ تاریخ”میو مزاحمت محمد بن قاسم سو لیکے بہادر شاہ ظفر تک:” نامی کتاب طباعت کے لئے تیار ہے۔

(5)میونی۔۔۔یہ کتاب میو قوم کی  گھریلو تاریخ ہے کہ ایک عورت بطور ماں ۔بہن ۔بیٹی۔بیوی۔کا معاشرتی کردار ۔اور ان کی ذمہ داریاں۔
(6)میواتی طب۔۔اس کتاب میں۔میو قوم کے لوگ  اپنی ضروریات کو کس طرح پورا کرتے تھے۔ایک تاریخی جائزہ ہے

(7) میوات کی تاریخ اور میو قوم ایک تہذیبی و تمدنی مطالعہ ۔۔یہ تاریخی کتاب ہے
یہ سب کتب میواتی زبان میں لکھی گئی ہیں۔

صوتی خدمات (وائس اوور)

جدید دور کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے قاری محمد یونس شاہد میو نے ترجمہ قرآن کا وائس اوور (صوتی ریکارڈنگ) بھی کیا 1۔ یہ اقدام ان لوگوں کے لیے انتہائی سودمند ثابت ہوا جو پڑھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے تھے مگر اپنی مادری زبان میں قرآن کو سننے اور سمجھنے کے متمنی تھے۔ اس صوتی ریکارڈنگ نے میواتی لہجے کی مٹھاس اور قرآنی اثر کو یکجا کر دیا، جس سے میواتی معاشرے میں ایک بڑی مذہبی اور لسانی بیداری پیدا ہوئی 1۔

علمی خدمتسالِ تکمیل / تفصیلاثرات و ثمرات
میواتی ترجمہ قرآن1998ء 1میواتی زبان کو مذہبی سند عطا ہوئی 1
صوتی ریکارڈنگ (AI وائس)جدید دور کے مطابق 1دور دراز علاقوں تک فہمِ قرآن کی رسائی 1
سو سے زائد کتبطویل علمی سفر 1میواتی ادب کے ذخیرے میں گراں قدر اضافہ 1

تصنیفی خدمات اور ادبی شعور کا ارتقاء

قاری محمد یونس شاہد میو کی تصانیف کا دائرہ کار انتہائی وسیع ہے۔ انہوں نے صرف مذہبی موضوعات تک خود کو محدود نہیں رکھا بلکہ میو قوم کی تاریخ، ثقافت، لسانی قواعد اور سماجیات پر بھی گراں قدر کام کیا ہے 1۔

تاریخ میو اور داستانِ میوات

ان کی مشہور کتاب “تاریخ میو اور داستانِ میوات” میو قوم کے لیے ایک انسائیکلوپیڈیا کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے میو قوم کی اصل، ان کے اسلاف کی قربانیوں اور میوات کے جغرافیائی و سیاسی منظر نامے کا تفصیل سے ذکر کیا ہے 6۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ میو قوم، خاص طور پر نوجوان نسل، اپنی اصل جڑوں سے واقف ہو سکے اور احساسِ کمتری کا شکار نہ ہو 6۔

میواتی ادب کی مختلف اصناف پر کام

قاری صاحب کی دیگر کتب میں “میو سو ملاقات”، “گچوڈ کچود”، “مہیری” اور “میونی” شامل ہیں 1۔ یہ کتابیں میواتی معاشرت کے مختلف رنگوں کو اجسپا کرتی ہیں۔ ان کی تحریروں میں میواتی زبان کی رزمیہ، عشقیہ اور دینیہ اصناف کا گہرا اثر ملتا ہے 6۔ انہوں نے اپنی تحریروں کے ذریعے میواتی زبان کے مخصوص لہجوں اور الفاظ کو دستاویزی شکل دی ہے، جو بصورتِ دیگر زبانی روایت کا حصہ ہونے کی وجہ سے

وقت کے ساتھ ساتھ معدوم ہو سکتے تھے۔

21 فروری: مادری زبانوں کا عالمی دن اور لسانی تنوع کی اہمیت

21 فروری کا دن عالمی سطح پر مادری زبانوں کے تحفظ اور لسانی تنوع کی آگاہی کے لیے منایا جاتا ہے۔ اس دن کا تاریخی پس منظر 1952ء کے ڈھاکہ کے ان طلبہ کی قربانیوں سے جڑا ہے جنہوں نے اپنی مادری زبان (بنگالی) کو قومی زبان کا درجہ دلوانے کے لیے جانیں نچھاور کیں 2۔ اقوامِ متحدہ کے ادارے یونیسکو نے 17 نومبر 1999ء کو اس دن کو عالمی دن قرار دیا، جس کا مقصد دنیا بھر میں معدوم ہوتی ہوئی زبانوں کو بچانا اور کثیر اللسانیت کو فروغ دینا تھا 2۔

عالمی لسانی صورتحال اور میواتی کا مقام

ایک تحقیق کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً 7 ہزار زبانیں بولی جاتی ہیں، مگر ہر دو ہفتے میں ایک زبان ناپید ہو رہی ہے 3۔ پاکستان میں بھی 74 کے قریب زبانیں اور بولیاں موجود ہیں 4۔ میواتی زبان، جس کا اپنا کوئی مستقل رسم الخط نہیں ہے، ان زبانوں میں شمار ہوتی ہے جنہیں بقا کے لیے شدید جدوجہد کی ضرورت ہے 6۔ قاری محمد یونس شاہد میو کی خدمات اسی تناظر میں انتہائی اہمیت اختیار کر جاتی ہیں، کیونکہ انہوں نے ایک ایسی زبان کو تحریری سہارا دیا جو مٹنے کے خطرے سے دوچار ہو سکتی تھی 1۔

لسانی اعداد و شمارتفصیلحوالہ
دنیا میں کل زبانیںتقریباً 70004
پاکستان میں زبانیں / بولیاں745
سب سے زیادہ بولی جانے والی زبانچینی (87 کروڑ سے زائد)5
میواتی کی لسانی حیثیتہند-آریائی (راجستھانی شاخ)6

مادری زبان میں تعلیم کی اہمیت

یونیسکو کا کہنا ہے کہ دنیا کی 40 فیصد آبادی کو اپنی مادری زبان میں تعلیم تک رسائی حاصل نہیں ہے 3۔ تحقیق سے یہ ثابت ہو چکا ہے کہ جو بچے اپنی مادری زبان میں ابتدائی تعلیم حاصل کرتے ہیں، ان میں تخلیقی صلاحیتیں اور خود اعتمادی دیگر بچوں کے مقابلے میں زیادہ ہوتی ہے 3۔ قاری محمد یونس شاہد میو نے میواتی زبان میں علمی و مذہبی مواد فراہم کر کے درحقیقت میواتی بچوں اور بڑوں کے لیے اپنی زبان میں سیکھنے کے عمل کو آسان بنایا ہے 1۔

جدید ٹیکنالوجی اور میواتی زبان کا فروغ: میو ڈائریکٹری اور مصنوعی ذہانت

حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو صرف روایتی قلم کار نہیں ہیں، بلکہ انہوں نے جدید دور کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے ٹیکنالوجی کا سہارا بھی لیا ہے۔ انہوں نے مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے ایک “آن لائن میو ڈائریکٹری” قائم کی ہے 1۔

میو ڈائریکٹری ایپ

یہ ایپ اور سافٹ ویئر میو قوم کی سماجی و لسانی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔ اس کے ذریعے میو قوم کے افراد نہ صرف اپنی تاریخ اور شجرہ نسب تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں بلکہ میواتی زبان میں دستیاب علمی مواد کو بھی ایک کلک پر حاصل کر سکتے ہیں 1۔ ٹیکنالوجی کا یہ استعمال اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ قاری صاحب میواتی زبان کو جدید عہد کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کے لیے کتنے سنجیدہ ہیں۔

ڈیجیٹل وائس اور آرکائیونگ

قرآن کریم کے میواتی ترجمے کا ڈیجیٹل وائس اوور اور اسے آن لائن پلیٹ فارمز پر دستیاب کرنا ایک ایسا قدم ہے جس نے میواتی زبان کو جغرافیائی حدود سے آزاد کر دیا ہے 1۔ اب دنیا کے کسی بھی کونے میں بیٹھا ہوا میو فرد اپنی مادری زبان میں اپنی مذہبی اور ثقافتی کتابیں سن اور پڑھ سکتا ہے۔

میواتی معاشرت، لباس اور بدلتے ہوئے ثقافتی رجحانات

قاری محمد یونس شاہد میو نے اپنی تحریروں میں میواتی معاشرت کا گہرا تجزیہ کیا ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ میو قوم کی اصل خوبصورتی ان کی سادگی میں ہے، جو ان کے لباس، خوراک اور عام رہن سہن سے ظاہر ہوتی ہے 6۔

روایتی لباس

میواتی مردوں کا قدیم لباس پگڑی، کمری اور اونچی دھوتی تھا، جبکہ عورتیں گھگری اور انگیا پہنتی تھیں 6۔ اگرچہ اب جدید دور کے زیرِ اثر شلوار قمیض اور دیگر مغربی ملبوسات نے جگہ لے لی ہے، مگر قاری صاحب اپنی تحریروں کے ذریعے اس بات کی کوشش کرتے ہیں کہ اپنی ثقافتی علامات کو یاد رکھا جائے تاکہ نئی نسل اپنی شناخت نہ بھولے 6۔

لسانی ساخت اور رسم الخط کا چیلنج

میواتی زبان کا اپنا کوئی مستقل رسم الخط نہ ہونا ایک بڑا المیہ رہا ہے۔ اسے عام طور پر اردو (عربی) رسم الخط میں لکھا جاتا ہے 6۔ قاری صاحب نے اس کمی کو محسوس کیا اور اس بات کا اظہار کیا کہ اگر میواتی زبان کا اپنا رسم الخط ہوتا تو اس کے ادب کو عالمی سطح پر مزید پذیرائی ملتی 6۔ اس کے باوجود، انہوں نے اردو رسم الخط میں میواتی لکھ کر اسے ایک تحریری روایت عطا کی ہے جو آنے والے محققین کے لیے ایک بنیاد کا کام کرے گی۔

مادری زبانوں کا عالمی دن اور ڈاکٹر محمد یونس (بنگلہ دیش) کے پیغامات کا جائزہ

21 فروری 2025ء کے حوالے سے بنگلہ دیش کے عبوری سربراہ پروفیسر ڈاکٹر محمد یونس کے پیغامات بھی لسانی بقا کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہیں 7۔ انہوں نے زبان کے شہدا کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ زبانوں کا تحفظ پائیدار ترقی کے لیے ضروری ہے 8۔

ڈاکٹر محمد یونس کا کہنا ہے کہ حکومت اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کام کر رہی ہے کہ بنگلہ زبان اور دیگر نسلی گروہوں کی زبانوں کو انفارمیشن ٹیکنالوجی میں شامل کیا جائے 8۔ یہ نکتہ حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو کی سوچ سے مماثلت رکھتا ہے، جنہوں نے میواتی زبان کو ٹیکنالوجی اور AI سے جوڑنے کی عملی کوشش کی ہے 1۔ دونوں ہی اس بات کے قائل ہیں کہ زبان محض ابلاغ کا ذریعہ نہیں بلکہ یہ کسی قوم کی روح اور اس کی ترقی کا زینہ ہوتی ہے 3۔

تقابلی جائزہ: لسانی خدماتحکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میوپروفیسر ڈاکٹر محمد یونس (بنگلہ دیش)
بنیادی توجہمیواتی زبان اور میو قوم کی فکری اصلاحبنگلہ زبان اور عالمی لسانی حقوق
علمی کارنامہمیواتی ترجمہ قرآن اور 100+ کتب 1لسانی شہدا کو خراجِ عقیدت اور ریاستی سطح پر پالیسی سازی 7
ٹیکنالوجی کا استعمالآن لائن میو ڈائریکٹری اور AI وائس اوور 1آئی ٹی میں زبان کے استعمال اور ڈیجیٹل درسی کتب کی تقسیم 8
سماجی اثرمیواتی معاشرے میں لسانی بیداریعالمی سطح پر مادری زبانوں کے دن کی سربراہی 7

میواتی زبان کے مخصوص لہجے اور ادبی اصناف

میواتی زبان صرف ایک سادہ بولی نہیں بلکہ اس میں خیالات کے اظہار کی بھرپور صلاحیت موجود ہے۔ قاری محمد یونس شاہد میو نے اس زبان کے اندر پائے جانے والے رزمیہ، عشقیہ اور بزمیہ ادب کی نشاندہی کی ہے 6۔ میواتی معاشرے میں میراثی اور مقامی گلوکاروں کا ایک بڑا کردار رہا ہے جو زبانی طور پر ان داستانوں کو ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل کرتے آئے ہیں۔

قاری صاحب نے ان زبانی داستانوں کو تحریر کی لڑی میں پرویا ہے۔ ان کی کتب میں میواتی محاورات، ضرب الامثال اور لوک گیتوں کا ایسا ذخیرہ ملتا ہے جو اس خطے کے عوام کی نفسیات اور ان کے تاریخی شعور کو ظاہر کرتا ہے 6۔ ان کا کام اس لحاظ سے منفرد ہے کہ انہوں نے میواتی زبان کو صرف گھروں تک محدود رہنے کے بجائے علمی محافل اور کتب خانوں کی زینت بنایا ہے۔

میو قوم کی شناخت اور سماجی تقسیم کا علمی مطالعہ

میو قوم کے سماجی ڈھانچے میں “گوتوں” یا قبیلوں کی تقسیم ایک کلیدی اہمیت رکھتی ہے۔ قاری محمد یونس شاہد میو نے اپنی مختلف تحریروں اور “میو ڈائریکٹری” کے ذریعے ان تمام شاخوں کو دستاویزی شکل دی ہے 1۔ ان گوتوں میں چھرک لوت، دولوت، پوند لوت، نیائی، ڈیمروت، بالوت، ڈہروال، لڈاوت (جوباگوریا کے نام سے مشہور ہیں) اور کلیسا شامل ہیں 6۔

یہ تقسیم محض خاندانی پہچان نہیں ہے بلکہ یہ میوات کی تاریخ کے مختلف ادوار کی یاد دلاتی ہے جب مختلف قبیلوں نے دفاعی اور سماجی محاذوں پر اپنی جرات کے جوہر دکھائے۔ قاری صاحب کا مقصد ان تمام بکھری ہوئی کڑیوں کو ایک لڑی میں پرونا ہے تاکہ میو قوم ایک متحد اکائی کے طور پر اپنی پہچان برقرار رکھ سکے 6۔

لسانی پسماندگی اور اس کے سدِ باب کی کوششیں

میوات کے خطے میں شرح خواندگی کا کم ہونا ایک بڑا چیلنج رہا ہے۔ تعلیم کی کمی کی وجہ سے سادگی بہت زیادہ ہے جو لباس اور عام رہن سہن میں نمایاں ہوتی ہے 6۔ قاری محمد یونس شاہد میو نے اس بات کو شدت سے محسوس کیا کہ جب تک قوم تعلیم یافتہ نہیں ہوگی، وہ اپنی روایات اور تاریخ کا تحفظ نہیں کر سکے گی۔

انہوں نے اپنی ایک سو سے زائد کتب کے ذریعے میو قوم کے لیے علم کا ایک ایسا مینارہ تیار کیا ہے جہاں سے وہ اپنی مذہبی اور دنیوی دونوں طرح کی رہنمائی حاصل کر سکتے ہیں 1۔ ان کی تصانیف میں اخلاقی تربیت، سماجی حقوق اور اسلامی تعلیمات کا جو امتزاج ملتا ہے، وہ میواتی معاشرے کی اصلاح کے لیے انتہائی موثر ہے 9۔

حاصلِ تحقیق اور مستقبل کا منظر نامہ

حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو کی خدمات کا جائزہ لینے کے بعد یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ وہ میواتی زبان کے ایک ایسے پاسبان ہیں جنہوں نے نامساعد حالات کے باوجود اپنی مادری زبان کا پرچم بلند رکھا 1۔ قرآن کریم کا پہلا میواتی ترجمہ اور اس کا وائس اوور ان کا وہ صدقہ جاریہ ہے جو آنے والی کئی نسلوں تک میواتی عوام کی فکری اور روحانی آبیاری کرتا رہے گا 1۔

21 فروری مادری زبانوں کا عالمی دن ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ مادری زبان انسان کی بنیادی شناخت اور ترقی کا زینہ ہے 3۔ قاری محمد یونس شاہد میو نے میواتی زبان کو جو تحریری اور ڈیجیٹل بنیاد فراہم کی ہے، وہ اس زبان کی بقا کی ضامن ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان کے اس علمی کام کو حکومتی اور تعلیمی سطح پر مزید فروغ دیا جائے تاکہ میواتی زبان بھی دیگر علاقائی زبانوں کی طرح اپنا مکمل علمی و ادبی وقار حاصل کر سکے۔

مستقبل میں میواتی زبان کے تحفظ کے لیے قاری صاحب کی جانب سے شروع کیے گئے “میو ڈائریکٹری” اور AI کے منصوبوں کو مزید وسعت دینا وقت کی اہم ضرورت ہے 1۔ اس سے نہ صرف میواتی زبان محفوظ ہوگی بلکہ میو قوم کے تاریخی و ثقافتی ورثے کو بھی عالمی سطح پر ایک مستند حوالہ حاصل ہو جائے گا۔ حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو کی خدمات درحقیقت میواتی قوم کے لیے ایک ایسا عظیم سرمایہ ہیں جس پر وہ بجا طور پر فخر کر سکتی ہے 1۔

Works cited

  1. میو – آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا, accessed on February 20, 2026, https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%DB%8C%D9%88
  2. بین الاقوامی یوم مادری زبان – آزاد دائرۃ المعارف – ویکیپیڈیا, accessed on February 20, 2026, https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A8%DB%8C%D9%86_%D8%A7%D9%84%D8%A7%D9%82%D9%88%D8%A7%D9%85%DB%8C_%DB%8C%D9%88%D9%85_%D9%85%D8%A7%D8%AF%D8%B1%DB%8C_%D8%B2%D8%A8%D8%A7%D9%86
  3. مادری زبانوں کا عالمی دن: ‘دنیا کی 40 فی صد آبادی کو اپنی زبان میں تعلیم تک رسائی نہیں’, accessed on February 20, 2026, https://www.urduvoa.com/a/international-mother-language-day-21feb2024/7496341.html
  4. 21 فروری: مادری زبانوں‌ کا عالمی دن – Dunya News Urdu, accessed on February 20, 2026, https://urdu.dunyanews.tv/index.php/ur/Pakistan/589142
  5. 21 فروری مادری زبانوں کا عالمی دن – ہم سب – کالم, accessed on February 20, 2026, https://www.humsub.com.pk/215824/naimat-ullah-akhunzada-2/
  6. صارف:Hakeem qari M younas shahid – آزاد دائرۃ المعارف – ویکیپیڈیا, accessed on February 20, 2026, https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B5%D8%A7%D8%B1%D9%81:Hakeem_qari_M_younas_shahid
  7. Chief adviser pays homage to language heroes – Prothom Alo English, accessed on February 20, 2026, https://en.prothomalo.com/bangladesh/639bz98tt8
  8. President, chief adviser pay tribute to Language Movement martyrs – Dhaka Tribune, accessed on February 20, 2026, https://www.dhakatribune.com/bangladesh/374329/president-chief-adviser-pay-tribute-to-language
  9. ڈاکٹر سید محمد یونس | کتاب و سنت – Kitabosunnat, accessed on February 20, 2026, https://kitabosunnat.com/musannifeen/Dr%20Sayyad%20Muhammad%20Younas

Leave a Comment

Hakeem Muhammad Younas Shahid

Hakeem Muhammad Younas Shahid

Hakeem Muhammad Younas Shahid, the visionary mind behind Tibb4all, revolutionizes education and daily life enhancement in Pakistan. His passion for knowledge and unwavering community dedication inspire all who seek progress and enlightenment.

More About Me

Newsletter

Top Selling Multipurpose WP Theme