رمضان بھی ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا؟

0 comment 4 views

رمضان بھی ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا؟
حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو
اللہ تعالیٰ کے انعامات جلیلہ سے ایک انعام رمضاں المبارک کی بابرکت گھڑیاں ہیں، جو اس وقت چل رہی ہیں۔
مسلمانوں نے رمضان المبارک کے بےشمار فضائل سنے۔
گناہوں کی بخشش۔اور نیکیوں کے انبار کے اعلانات بلند ہوئے۔
مسلم ممالک میںایک بدلاہوا ماحول دیکھنے کو ملتا ہے۔
زندگی کے اوقات میں تبدیلی آجاتی ہے،مساجد میں لوگوں کی کثرت دیکھنے کو ملتی ہے۔۔
بہت سے لوگ قران سنتے ،سناتے نظر آتے ہیں۔
نوافل کی کثرت ہوجاتی ہے۔دسترخوان کشادہ ہوجاتے ہیں۔
سروں پر ٹوپیاں آجاتی ہیں۔
نمازوں کے بعد لوگ قران کریم کی تلاوت میں مشغول دکھائی دیتے ہیں۔۔
رات کے پچھلے پہر دوکانیں کھل جاتی ہیں جو دیگر ایام میں نہیں کھلا کرتیں۔
ظہر تا مغرب بازاروں میں اتنا رش بڑھ جاتا ہے ۔جو عام دنوں میں دیکھنے کو نہیں ملتا۔
اسی قبیل سی بہت سے امور بظاہر نیکی کے نام پر دیکھنے کو ملتے ہیں۔
آئے دیکھتے ہیں۔
رمضان المبارک کے جو فضائل سننے کو ملتے ہیں۔ان میں
۔رمضان ہمدردی کا مہینہ ہے
رمضان نیکیوں کا مہینہ ہے
رمضان میںشیاطین باندھ دئے جاتے ہیں۔
رمضان میں جہنم کے دروازے بند کردئے جاتے ہیں
رمضان میں نوافل فرائض جیسے ہوجاتے ہیں۔
لاکھوں لوگوں کو جہنم سے نکال کر جنت میں داخل کیا جاتا ہے۔
۔اخلاقیات۔
جھوٹ سے و غیبت سے روزہ کی روح تباہ ہوجاتی ہے۔
بھوکے انسان کو افطاری کا ثواب روزہ دار جتناملتا ہے۔
سخاوت عام ہوجاتی ہے۔
ایثار و ہمدردی کا دریا بہتا ہے۔وغیرہ بےشمار باتیں جو کانوں کو سنائی دیتی ہیں۔
اصل کردار اور معاشرتی زوال۔
مسلمان۔اپنے مسلمان بھائیوں کو دونمبر ی ، فراڈ سے مال فروخت کرتا ہے
منافع خوری ۔ ذخیرہ اندوزی، جنہیں ملعون قرار دیا گیا ہے۔عروج پر ہوتی ہے۔
نماز باجماعت ادا کرتے ہیں لیکن روزہ داروں کو مضر صحت اشیاء فروخت کرتے ہیں۔
کھانے پینے کی اشیاء مہنگی کردی جاتی ہیں ۔
موازنہ کرکے دیکھ لیں۔
رمضان المبارک آنے سے پہلے مسلمانوں کی حالت کیا تھی؟ اب کیا ہے؟اور رمضان گذرنے کے بعد کیا بدلائو آیا ہے؟
پہلے عام حالات میں جھوت بولتے تھے۔
اب باوضو روزے کی حالت میں پورے اخلاص سے جھوٹ بولتے ہیں۔
۔پہلے بھی کم تولتے اور جھوٹی قسم کھاکر سامان بیچتے تھے۔
اب روزہ رکھ کے یہی کام کرتے ہیں۔
دور جانے کی ضرورت نہیں ہے۔
صرف اپنے پانچ فٹ کے وجود اور اپنے ڈھائی چھنٹانک بھیجے پر توجہ کیجئے۔
رمضان آنے سے پہلے کیا۔آج کیا ۔اور رمضان گذرنے کے بعد ان میں کوئی تبدیلی آئی ہے؟
اگر یہاں تبدیلی محسوس ہوئی ہے تو معاشرہ پر کچھ اثرات ضرور مرتب ہوئے ہونگے؟
اگر اس پانچ فٹ کے اندر تبدیلی محسوس نہ ہو تو سمجھو رمضان المبارک ہمارا کچھ نہ بگاڑ سکا۔
شیاطین کے آزاد ہونے اور قید ہونے سے کیا فرق پڑا؟
اگر اس کا قید ہونا ۔اور شیطان کا آزاد ہونا ہمارے کردار میں بدلائو نہ کا سبب نہ بن سکا۔
تو دیکھنا پڑے گا۔برائی کا محور کہاں واقع ہے؟
کہیں عملی طورپر شیطان کو بدنام تو نہیں کررہے ۔
جیسے کرداری خرابی میں ڈوبے ہیں ۔شیطانی کردار ختم ہوکر رہ گیا ۔؟۔
کیونکہ وہ قید ہے۔۔رشوت کا نام افطاری رکھ دیا گیا ہے۔
ایک نمازی روزہ داروں کو دونمبر اشیاء۔
اصلی اشیاء سے بھی مہنگی فروخت کرکے باجماعت نماز کے لئے بھاگتا دکھائی دیتا ہے۔
ذاتی کردار و افعال سے لیکر معاشرتی و اجتماعی کاموں تک رمضان المبارک نے ہمارا کیا بگاڑا ہے؟
مجھے تو کوئی چیز دکھائی نہیں دے رہی ہے۔جہاں رمضان المبارک اثر انداز ہوا ہو؟۔
دنیا بھر میں کفار دکانوں پر ڈسکائونٹ دیتے ہیں۔وہ جہنم میں جائیں گے۔
مسلمان دونمبری کرکے مہنگائی کرتا ہے۔لیکن سیدھا جنت میں جائے گا۔
آخر میں میں ایک حدیث مبارکہ پیش خدمت ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اگر کوئی شخص جھوٹ بولنا اور دغا بازی کرنا (روزے رکھ کر بھی) نہ چھوڑے تو اللہ تعالیٰ کو اس کی کوئی ضرورت نہیں کہ وہ اپنا کھانا پینا چھوڑ دے۔ [صحيح البخاري/كتاب الصوم/حدیث: 1903]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

Leave a Comment

Hakeem Muhammad Younas Shahid

Hakeem Muhammad Younas Shahid

Hakeem Muhammad Younas Shahid, the visionary mind behind Tibb4all, revolutionizes education and daily life enhancement in Pakistan. His passion for knowledge and unwavering community dedication inspire all who seek progress and enlightenment.

More About Me

Newsletter

Top Selling Multipurpose WP Theme