
ایک میوسپوت کے مارے۔ دو بول دعا کا
حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو
سردار عظیم اللہ میو ایڈووکیٹ میو قوم کو مایہ ناز سپوت ہے۔جانے مختلف جہات سو میو قوم کے مارے خدمات سرانجام دی ہاں۔
وکالت میں۔سیاست میں ۔قلم کا میدان۔علم و ادب۔تاریخ۔میواتی ثقافت۔معاشرتی ایکٹویٹی میں ایک نمایاں کردار ہے
سردار صاحب ایک متحرک نام ہے، جانے سالن تک میو قوم کا نام روشن کرن میں اہم کردار ادا کرو ہے۔
میری پہلے ملاقات میواتی دنیا کا اساسی اجلاسن میں ہوئی ہی۔
موکو عاصد رمضان میو نے دعوت دی ہی کہ میواتی دنیا کا نام سو ایک پلیٹ فارم بنائیو جارو ہے ۔
جن لوگن نے میو قوم کے مارے ادبی،لکھائی کی دنیا میں کوئی کام کرو ہے ۔اُنن نے بھیلا کرراہاں،توئے ضرور آنو ہے
تینے بھی 1998 میں قران کریم کو پہلو ترجمہ کرو ہے۔توسو پہلے ای کام کائی نے نہ کرو ہے۔
توئے ہر حال میںپہنچنو ہے۔
میں نے ہاں بھری!
ایک دو اجلاسن میں پہنچو۔حالات کو جائزہ لئیو۔میواتی دنیا کو حال کھچا کھچ بھرو ہوئیو ہو۔دور و نزدیک سو میو قوم کی کریم اکھٹی ہوری ہے۔
مختلف آراء و تجاویز دی جاری ہے(یاکی مکمل رود داد میں نے اپنی کتاب”گچوڈ اور کچود”میں لکھ دی ہے)
جوانن میں سردار عظیم اللہ ایڈو وکیٹ بھی ہو۔سردار صاحب کی صحت و صورت بالکل ایسی ای ہی۔جیسی آج ہے،
یعنی سردار صاحب سو ملاقات سے لیکر آج تک سر کا بالن سو لیکے۔چہرہ مہرہ تک ایسے ہی ہے۔
خیر میواتی دنیا میں رہتے ہوئے سرادر صاحب کی کئی ایک گرانقدر تالیفات منظر عام پے آئی۔
بالخصوص تقسیم ہند۔میو قوم کی ہجرت۔ان کو سفر نامہ ہند ۔جیسی اہم کتب منظر عام پے آئی۔
پڑھن لکھن والا لوگ حساس رہوا ہاں ۔تھوڑی تھوڑی سی باتن پے رنجیدہ ہوجاواہاں۔
سر دار صاحب کی بیماری کو سُن کے بہت دکھ لگو۔اللہ کریم سرادرجی کو صحت و عافت والی لمبی زندگی دئے۔
سردار جی نے قوم کے مارے بہت ادبی خدمات سرانجام دی ہاں۔
کم از کم میو قوم کو حق ہے کہ ان کی صحت و عافیت کے مارے دعا ئے صحت کراں کراں۔
ان کی لمبی و صحت والی زندگی کے مارے صدقہ خیرات کراں۔
کیونکہ ایک قلمکار اور لکھاری قوم کو نمائیندہ رہوے ہے۔
ایک لکھاری اپنی زندگی کا بہترین ایام۔اور آرام دہ لمحات میں سو قربانی دے کے۔ادب تخلیق کرے ہے۔
اللہ کریم سردار عظیم اللہ میو کو لمبی صحت والی زندگی دئے۔
سعد طبیہ کالج برائے فروغ طب نبویﷺ
سعد ورچوئل سکلز پاکستان
کا متعلقین کی دعائے صحت ہے
آمین۔ثم آمین
