حکومت اور اطباء ہومیو پیتھک کا ایک مشترکہ پروگرام

0 comment 16 views
حکومت اور اطباء ہومیو پیتھک کا ایک مشترکہ پروگرام
حکومت اور اطباء ہومیو پیتھک کا ایک مشترکہ پروگرام

حکومت اور دیسی اطباء ۔ہومیو پیتھک کا ایک مشترکہ پروگرام

Advertisements

حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو
طب و صحت کے حوالے سے برصغیر پاک و ہند میں جب بھی بات کی جائے گی طب یونانی ایک دیو قامت خدماتی اعترافات کے شکل میں نمایاں دکھائی دیگی۔۔
برصغیر پاک و ہند میں دیسی طریق علاج ہزاروں سالوں سے رائج ہے۔اسے مختلف ناموں سے پکارا گیا۔
تاریخ اسلام میں اسے اسلامی طب اور مقامی طورپر اسے طب یونانی کہا گیا۔
طبی خدمات کا دائرہ اتنا وسیع اور طویل تاریخ کا حامل احاطہ کرنا ممکن نہیں۔

مسلمان بادشاہوں کی سرپرستی مین طب نے گرانقدار خدمات سرانجام دیں۔
لیکن جیسے ہی اسلامی سلطنت کا سورج غروب ہو اور فرنگی کا طلوع ہوا تو مقامی طورپے رائج طب کو قصدا ختم کرنے کی کوشش کی گئی۔
لیکن یہ طریقہ علاج فطری اور عوام کے مزاج سے ہم آہنگ تھا۔ہزاروں تدابیر کی گئیں لیکن یہ نہ مٹ سکا۔
آج بھی یہی صورت حال ہے کہ حکومتی سطح پے طب کو علماء دیوار سے لگانے کی کوشش کی جارہی ہے۔
پاکستان بھر میں کئی نمائیندہ تنظیمیں کام کررہی ہیں۔
ان میں طب کونسل فار طب۔پاکستان یونیفکیشن۔قانون مفرد اعضاء کی نمائیندہ تنظیمیں۔

اپنے اپنے انداز میں تحفظ طب کا فریضہ سرانجام دے رہی ہیں۔
10 فروری2026 کو ہمدرد کانفرنس حال لاہور میں۔حکومت پنجاب کے محکمہ بہبود آبادی کے زیر اہتمام ایک آگاہی پروگرام منعقد کیا گیا۔حکومت کی طرف سے پیغام دیا گیا کہ آبادی کی شرح کو وسائل کی دستیابی کی بنیاد پر کنٹرول کرنے کی آگاہی مہم چلائی جائے۔تاکہ دستیاب وسائل اور میسرپالیسی کی بنیاد پر سہولیات ہر فرد تک پہنچائی جاسکیں۔
اس میں۔نمائیندگی کے لئے ہومیو پیتھی سے منسلک ڈاکٹرز حضرات۔
طب یونانی کے اطباء۔میڈیا ایکٹویسٹ۔ اور علماء کرام کومدعو کیا گیا۔
زیادہ تعداد ہومیو پیتھی والوں کی تھی۔ان میں مردو خواتین شامل تھے۔
طب یونانی کے نمائیندگان بھی مدعو تھے۔جو اشتہار میڈیاکی زینت بنا ذیل میں درج ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آ گاھی سیمینار
محکمہ ھیلتھ اینڈ پاپولیشن گورنمنٹ آ ف پنجاب اور
کمیونٹی آف ہومیوپیتھس ( COH )ضلع لاہور کے زیر اہتمام
رول آ ف ھومیوییتھک ڈاکٹرز اینڈ اطباز ان فیملی پلاننگ
مورخہ 10 فروری بروز منگل صبح 10 بجے بمقام ھمدرد سینٹر لٹن روڈ لاھور
مہمانان خصوصی :۔جناب اسٹنٹ کمشنر لاھور
جناب مظہر اقبال ڈسٹرکٹ ھیلتھ اینڈ پاپولیشن ویلفیئر آ فیسر ڈسٹرکٹ لاھور
جناب شعیب صدیقی صاحب ممبر صوبائی اسمبلی پنجاب
جناب حکیم محمد احمد سلیمی صدر نیشنل کونسل فار طب گورنمنٹ آ ف پاکستان
لیجنڈ ھومیوییتھک ڈاکٹر جناب خالد محمود چوہدری۔ سی، ای، او، ریکس لیبارٹریز پاکستان
ھومیوییتھک ڈاکٹر محمد اشرف چوہدری چیئرمین کمیونٹی آف ہومیوپیتھس پاکستان COH Pتمام شرکاء کو لنچ اور سرٹیفکیٹ پیش کیے جائیں گے
منجانب :۔محکمہ ھیلتھ اینڈ پاپولیشن گورنمنٹ آ ف پنجاب۔کمیونٹی آف ہومیوپیتھس ضلع لاہور
۔۔۔
جناب محمد احمد سلیمی صاحب ۔صدر طبی کونسل پاکستان۔بھی تشریف لائے۔
انہوں نے اطباء و طب کی نمائیندگی کی۔اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
جن لوگوں نے بحیثیت یونانی طبیب شرکت کی۔
ان شرکاء میں صوفی عرفان انجم جلوموڑ۔
حکیم سید زاہد وصی زیدی۔
وائس پریزیڑنٹ پنجاب یونیفیکیشن طبی فاؤنڈیش پاکستان۔شامل تھے۔اور بھی کئی لوگ تھے لیکن مجھے ان کے نام معلوم نہیں۔
۔راقم الحروف نے اس سیمنار کا بغور جائزہ لیا۔
اور سٹیج پر آنے والے ہر نمائیندہ کی باتوں ،ان کے اظہار خیال کے پیرائے کو ہر زاویہ سے پرکھا ۔
اس کے بعد حکومتی نمائیندگان کی باتیں بھی سنیں۔
محتاط اندازہ کے مطابق ہومیو پتھی والے اور اطباء کرام۔حکومتی ضرورت ہیں۔اور رہیں گے۔
لیکن اس ضرورت کا اعتراف حکومت زبان سے کرنا اپنی توہین سمجھتی ہے۔
ان سے کام تو لینا چاہتی ہے۔ان کی حمایت بھی درکار ہے۔
لیکن انہیںسہولتیں دینا ان کا وجود تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں ہے۔
محمد احمد سلیمی صاحب کا خطاب اس زاویہ سے مختلف تھا کہ انہوں نے عوام اور طبیب کے تعلق اور امراض کی روک تھام کے لئے صدیوں سے اطباء کے کردار کو بہتر انداز میں بیان کیا۔
یہ سیمینار محکمہ بہبود آبادی کے تعاون سے منعقد ہواتھا۔
وہ ہومیو پیتھی ڈاکٹرز اور دیسی اطباء سے تعاون تو چاہتے ہیں لیکن ان لوگوں کی ضروریات۔ان کی قانون معاملات میں معاونت کرنے پر آمادہ نہیں ہے۔
ان کی بات سننے کے لئے تیار نہیں ہے۔۔یعنی ان لوگوں سے تعاون تو چاہتی ہے لیکن انہیں کچھ دینے پر آمادہ نہیں۔
یہ سلسلہ کئی دیہائیوں سے چلا آرہا ہے۔آج بھی اس سلسلہ میں کمی نہیں آئی۔
اطباء کرام بقائے طب کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔
طبی کونسل سے منسلک نمائیندگان۔اطباء کی آواز بنے ہوئے ہیں۔
میں نے اس سیمینار میں نفسیاتی زاویہ سے جو کچھ محسوس کیا وہ یہ تھا کہ طب ختم کرنا،یا ہومیو پتھی کی خدمات سے آنکھ بند کرنا،
حکومت کے بس کی بات نہیں ہے۔کیونکہ صحت کے حوالے سے ان دونوں طریق علاج کا دائرہ اتنا وسیع ہے
کہ اسے ختم کرکے صحت کے میدان میں متبادل پیش کرنا اور اس خلاء کو بھرناکسی کے بس کی بات نہیں ہے۔
اس بات میں شک نہیں کہ طب اور ہومیو پیتھی صحت کے حوالے سے جو گرانقدر خدمات سرانجام دے رہے ہیں ،
اس سے عوام اور حکومت کے لئے آگاہی کا بندبست نہیں کیا جاتایعنی ان دونوں نمائیندگان صحت کا سوشل اور الیکٹرک۔پرنٹ میڈیا کے حوالے سے پالیسیز بہت کمزور ہیں ۔اس طرف دھیان دینا بہت ضروری ہے۔
میڈیا وار میں انہیں بھرپور حصہ لینا ہوگا۔یہی ہتھیار ہے جس کی بنیاد پر دنیا بھر میں جنگیں لڑی جارہی ہیں ۔
طب و ہومیو پیتھی کی خدمات قابل قدر ہیں لیکن اس بارہ میں آگاہی نہ ہونے کے برابرہے۔
ملک کے ہر گلی محلے میں ہومیو پیتھی اور طب کا نمائیندہ خدمات سرانجام دے رہا ہے۔
اس سے آنکھ بند کرنا حکومت کے لئے بھی خطرہ کی گھنٹی ہے۔
پروگرام کے اختتام پر مہمانان گرامی میں میڈل اور شیلڈ تقسیم کی گئیں۔
لاہوریوں کی نفسیات کے مطابق کھانے کے لئے بریانی پیش کی گئی۔اور میٹھے کا بندوبست کیا گیا۔

Leave a Comment

Hakeem Muhammad Younas Shahid

Hakeem Muhammad Younas Shahid

Hakeem Muhammad Younas Shahid, the visionary mind behind Tibb4all, revolutionizes education and daily life enhancement in Pakistan. His passion for knowledge and unwavering community dedication inspire all who seek progress and enlightenment.

More About Me

Newsletter

Top Selling Multipurpose WP Theme