
ساری میو قوم کو سوال۔میو اکھٹا کیوں نہ ہوسکاہاں؟
حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو۔
میو قوم کا بارہ میں جو بھی کوئی مونڈ اُکاسے ہے،واکو یہی مطالبہ رہوے کہ میو قوم اکھٹی کیوں نہ ہووے ہے؟
بات تو جڑائو ہے۔میوون میں اکٹھو ہونو بھی چاہے۔
چلو ہم یابارہ میں آپس میں بتلا لیواں ۔ہوسکے ہے کوئی نتیجہ نکل آوے۔
ہم میوون کا اَکٹھ اے نوں سمجھ سکاہاں۔
(1)سب سو پہلی بات تو ای ہے کہ میو اکھٹا کرا کَس نے ہاں؟
(2)کائیں بات پے اکٹھا ہوواں؟کوئی مقصد ،کاز۔وژن۔ضرورت ؟
جب کہوجاوے ہے کہ میو اکھٹا نہ ہوواں ہاں تو کہن والو سو پوچھو ،کائیں سلسلہ میں اکھٹو کرنا چاہو؟
ـ(3)کو لوگ اکھٹو کرنو چاہواہاں ان کے پئے کوئی ایسو پلان۔منصوبہ۔
فلاحی امور میں کوئی تحقیق کہ اگر یائے مان لیواں تو میو قوم کو ای فائدہ ہوسکے ہے؟
(4)میو قوم میں اکٹھ کرن سو پہلے ایسا لوگ تلاش کرو جنن نے میو قوم کے مارے کوئی پیپر ورک کرو ہوئے،

کوئی بہتری کے مارے منصوبہ بنائیو ہوئے؟
(5)کوئی بھی قوم جب اَکھٹی ہووے ہے جب مفادات سانجھا ہوواں۔
یعنی مفادات کا تحفظ کے مارے شیر بکری بھی ایک گھاٹ سو پانی پی سکاہاں۔
کائی کے پئے ایسو فریم ورک ہے کہ میو قوم کا مفادات کو تحفظ یقینی بنائیو جاسکے؟
(6)دوسری وجہ اکھٹا ہونا کی ڈر اور خوف رہوے ۔
یعنی تم یکجا نہ ہویا تو لوگ تم نے ختم کردینگا؟جیسے کمزور خطرہ کے وقت اکھٹا ہوجاواہاں۔
یہ دونوں معاملات ایسا ہاں میوون نے ان کی ضرورت ای نہ ہے۔
ہر کائی نے اپنی اپنی ہانڈی دوسران کا چولہا پے چڑھاراکھی ہے۔
جب ضرورت پڑے ہے تو چولہا میں سو انگاری لیکے دوسران کو حقہ بھرلگ جاواہاں۔
میری بات میں جھوٹ ہوئے تو جو چور کی سزا میری سزا۔

یعنی ہم نے اپنا مفادات دوسران سو وابسطہ کرلیا ہاں۔
اپنان کی بات تو یامارے کراہاں کہ میو قوم کو تھوڑو بہت ووٹ کھینچ کے دوسرا کی صدوق میں گیر سکاں۔
جولوگ میوون نے اکھٹا کرن کی رول مچاواہاں۔
یا اکھٹ کو مطلب میو قوم کو مفادات سو گھنو ان کا ذاتی مفادات وابسطہ رہواہاں۔
۔۔۔ساری میو قوم کو سوال۔میو اکھٹا کیوں نہ ہوسکاہاں؟
۔۔۔
چلو میوون نے اکھٹا کراں؟
سب سو پہلے تو جو لوگ میوون نے اکھٹو کرنو چاہواہاں۔
پہلے وے ایک دوبار خود اکھٹا ہوواں۔آپس میں بول بتلاون کراں۔
مشورہ کراں کہ میوون نے کیوں اکھٹا کراں؟۔۔
کونسو فارمولہ ہے جا کی بنیادپے میو اکھٹا ہوسکاہاں؟
دوسری بات ای ہے کہ نفع و نقصان کو تعین کرو جائے۔
کہ کس اے کونسی ،کد قربانی دینی پڑے گی؟
مثلاََ اگر میو قوم کا مفاد میں ای فیصلہ کروجائے کہ جا پارٹی یا جا شعبہ سو یہ درد بھرا لوگ میوون نے اکھٹا کرن کی سوچ راکھایاںقومی مفاد میں اپنی وبسطگین نے ختم کردئیو گا؟۔
کوئی ایسی راہ نکالی جائے جو سبن کے مارے قابل قبول ہوئے،یا پھر زیادہ تر لوگ یائے قبول کرسکاں۔
رہی ای بات کہ ای کیسے ممکن ہوسکے ہے؟
بھائی لوگ تو ساری ساری زندگی پیپر ورک میں گزار دیواہاں۔تم معمولی بات سو گھبرا گیا؟
البتہ جولوگ اکھٹا کرن کی امید راکھاہاں۔انن نے قربانی کے مارے تیار رہنو چاہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
درمیانی راہ۔۔
سب سو پہلے ہم ان مسائل کی نشان دہی کراں۔
جو میو قوم کے مارے سر درد بنا ہویا ہاں۔
ممکنہ حد تک ان مسائل کی نشان دہی کری جائے تو معاشرتی طورپے میو قوم کے سامنے ہاں۔
یاسو پیچھے عمر کا لحاظ سو درجہ بندی کری جائے۔
(1)بڑی عمر کا لوگن کی ضروریات کی بنیاد پے ایک درجہ میں رکھا جاواں۔
(2)کاروباری لوگ،وے کائی بھی شعبہ سو ہوواں، ذیلی درجہ بندی میں شمار کراجاسکاہاں۔
ـ(3)نئی پود کے مارے۔ان کی تعیم و تربیت اور ان کی ضروریا ت کے مطابق درجہ بندی۔
ان کی تعلیم ۔تعلیمی وظائف وغیرہ۔
(4)خواتین ۔کا شعبہ جات ترتیب دیا جاواں۔۔
تعلیم حاصل کرن والی بچی۔کالجز میں تعلیم حاصل کرنے والی طالبا ت کی درجہ بندی۔
اعلی درجہ کی تعلیم حاصل کرن والی طالبات کی درجہ بندی۔
(5)غریب مزدور لوگن کی درجہ بندی۔نادار لوگن کی فہرست۔
یعنی برادری اکھٹ ایک چھوٹی موٹی ایک سلطنت یا ریاست کی طرز پے ہوئے گی۔
یاکے مارے کتنی جدو جہد اور قربانی کی ضرورت ہے؟
کہا کوئی ان باتن کے مارے تیار ہے؟
میری تحریر بار بار مطالعہ کرو۔اگر ان باتن کے مارے تیار ہوتو ،میو قوم اکھٹی ہونا کے مارے تیار ہے
اپنا اپنا تھیلا اٹھائو۔اور میدان میں اتر جائو۔۔
اگر ایسو نہ کرسکوہو۔تو پھر کوئی ڈھنگ کو کام کرو۔۔
