سوشل م یڈیا ایکٹویسٹ پاکستان کو کامیاب پروگرام۔

0 comment 42 views

سوشل م یڈیا ایکٹویسٹ پاکستان کو کامیاب پروگرام۔
حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو
میو قوم کا لوگ کچھ نہ کچھ کرن کا جنون میں دن رات سوچاہاں۔لیکن میڈیا کا حوالہ سو میو قوم کا لوگ بہت پیچھے ہاں۔
یاکو مثبت استعمال۔یاسو مطلوبہ نتائج اخذ کرنو۔اپنی قوم و ملک کے مارے بہتر خدمات کا بارہ میں کوئی پلاننگ نہ ہے۔
ہر کوئی موبائل ہاتھ میں پکڑے ڈولے ہے۔فیس بک کھول لی۔ٹک ٹاک پے ویڈیو دیکھ لی۔انسٹا گرام۔ایکس پے۔الٹی سیدھی شیرنگ کردی۔ان کامن نے ہر کوئی کرے ہے۔نہ وائے نوں پتو کہ یا انگلی مارنا سو نفع ہوئے گو یا نقصان؟۔کائی کی جذباتی ویڈیو دیکھ لی جوش میں آکے شئیر

Advertisements

کردی۔کوئی روتو دھوتو دیکھ گئیو ۔واکے ساتھ لاٹھی لیکے کھڑا ہوگیا ۔
کوئی معیار نہ ہے، کوئی پرکھ نہ ہے۔نہ استعمال کو پیٹرن ہے۔بس چسکہ ہے۔وقت کو ضیاع ہے۔وسائل کی تباہی ہے۔

میو ٹک ٹاکرز نے سوشل میڈیا ایکٹویسٹ پروگرام کرو۔ حاضری اور اکٹھ ہونا کی وجہ سو اِی کامیاب پروگرام ہو۔
لیکن یاکو ایجنڈا، اتنو پیچیدہ اور الھجو ہوئیو ہو۔کہ جتنو بظاہر سادہ ہو۔اتنو ہی لوگن نے یاسو غیر مانوسیت اوراجنبی پن ہو۔
حاضرین کی بات کراں تو حسب روایت جن لوگن کا میڈل بنا یا گیا ہے، ان کھونٹیلن میں سو چند ایک حاضر ہویا۔

لیکن جو حاضر ہا وے لوگ اپنو الگ سو مقام و مرتبہ راکھے ہا۔


مثلاََ سیا سی لوگن میں۔
اختر بادشاہ میو سابقہ ایم پی اے۔
رائو شہاب الدین میو۔سابقہ ڈپٹی مئیر لاہور
رائو محمد شریف میو(رہنما پیپلز پارٹی لاہور)
اصغر مجید سیاسی رہنما۔سابقہ امیدوار صوبائی اسمبلی۔
ممتاز شفیق سابقہ ناظم ہیئر گائو۔
ناصر محمود سابقہ ناظم کماہاں۔
یا کے علاوہ بڑی بڑی قد آور شخصیات تشریف لائی ہی۔
ان میں ڈاکٹرباباذادہ محمد اسحق میو(فارما ورلڈ انسٹیٹیوٹ)
طاہر خاں نمبردار(میواتی بیٹھک)
یاسر سلطان( قومی ایٹھلیٹ)
ان کے علاوہ سندھ اور پنجاب کا دوسرا شہرن سو لوگن نے بڑا جوش و جذبہ سو شرکت کری۔
پروگرام میں۔نامی گرامی میو قوم کا سپوتن نے اپنی آواز کو جادو جگائیو۔
ریاض نور میو(میواتی سنگر)
لیاقت لاہوری(شاعر۔میواتی سنگر)

قاری جعفر ضیاء(میواتی نعت خواں)
ایک گنجہ سندواں سو میو(نام ذہن سو نکل گئیو) سنگر ہو۔وانے اپنو فن کو مظاہرہ کرو
انتظامیہ نے بہت محنت کری۔پانڈوکی والان نے جی توڑ کوشش کری۔وسائل مہیا کرا۔گھر گھر جاکے دعوت دی۔
بلاشبہ گیدرنگ کا لحاظ سو کامیاب پروگرام ہو۔
لیکن پروگرام میں اگر بہتر ترتیب ہوتی کہ ایوارڈ کی تقسیم حسب مراتب اور پلاننگ کے ساتھ کردی جاتی۔
اور پروگرام بروقت شروع کردئیو جاتو۔یقینا ایک مثالی پروگرام ہوتو۔
ہم لوگ اپنا پروگرام سو گھنا اپنا مہمانن کی باٹ دیکھنا کو ترجیح دیواہاں۔
سو،سوا سو۔ایوارڈ ہا۔ہم نے ایک ترتیب بنائی ہی کہ ایوارڈ سبن کو مل بھی جاواں۔
پروگرام بھی طویل نہ ہوئے۔نظم و ضبط بھی برقرار رہے۔
لیکن انتظامیہ کی مرضی کہ وانے رووایتی انداز سو پروگرام کرنو زیادہ مناسب سمجھو۔
تقریبا ایک چوتھا ایوارڈ لین والا ن نے پہنچو اِی وارو نہ کرو،یامیں انتظامیہ کی غلطی نہ ہے
بلکہ وے لوگ جن کا نام کا ایوارڈ بنوایا گیا ہا۔شاید یا قابل نہ ہا۔یا پھر وےیائے،اپنے قابل نہ سمجھے ہا۔
ای تو وقت فیصلہ کرے گو۔ لیکن آن والا وقت میں نہ پہنچ والا لوگ آہستہ آہستہ قوم کی نظرن میں سو کھستا جانگا۔
ایک وقت آئے تو ۔کوئی کھیلا پستینہ۔لوہا لیلن سو تول کے مرونڈا بھی نہ لئے گو۔
جب پروگرام ہوگیو تو بہت سا لوگن کا موکو فون آیا۔کہ توئے کہوا ہا میو قوم کو نام لے کے لوگ مخصوص لوگن نے بلاواہاں۔
ہم تیار ہا۔اگر ہم کو دعوت دی جاتی۔میڈیا کا کچھ لوگ ہا۔کچھ برادری کا لوگ یعنی ای تشنگی باقی ہی کہ پروگرام ارگنائز کرن میں ابھی بہت سی اصلاح کی ضرورت ہے۔
جب تک ہم گروہی۔طبقاتی۔اور دھڑے بندی کا تاثر ختم نہ کرنگا۔ٹھیک انداز سو نمائیدگی کو حق ادا نہ ہوسکے گو۔
کوئی بھی کام ہوئے۔کوئی بھی کرے۔کم از کم واکا ذہن میں ایسی پلاننگ ہونی چاہے،کہ گروہ بندی کو تاثر نہ ابھرے۔
ایک پروپیگنڈا رہوے ہے،ایک لاشعوری محسوسات رہواہاں۔پروپیگنڈا ہوتا آیا ہاں ۔ہوتا رہینگا۔لیکن محسوسات بہترن کرن کی کوشش کرنو وقت کی اہم ضرورت ہے۔
۔۔۔۔۔
ایک اہم توجہ۔
میو قوم میں گیدرنگ کئی جگہ اور کئی لوگ کراہاں۔پیسہ والان نے ٹھوں ٹھاں کچھ بہتر رہوے ہے۔مخلص لوگن کو اپنو مقام ہے۔
لیکن برادری کادکھ میں شرکت ،قوم کی ترقی میں اپنو حصہ گیرنو الگ سو خدمت ہے۔
میو قوم میں جتنی بھی گیدرنگ یا اکٹھ ہووا ہاں۔آج تک یا بارہ میں پلاننگ نہ کری گئی ہاں کہ گیدرنگ سو پیچھے حاضرین سو فائدہ لینا اور پہنچانا کی کوئی بہترین شکل کہا ہوسکے ہے؟
کائی بھی اکٹھ یا پرے پنچائت کو دیر پا اثر کیسے برقرار رکھو جاسکے ہے۔
ای بات میں نے ایم ڈی فیاض پانڈوکی سو ایک مہینہ پہلے کہی ہی۔لیکن وانے یا مہیں کان نہ دھرا۔ہر کائی کی اپنی اپنی سمجھ رہوے ہے،شمورہ دئیو جاسکے ہے۔کوئی لٹھ لیکے منائیو ٹھوڑو جاسکے ہے۔
یامیں کوئی شبہ نہ ہے ای ایک بہترین میو جوا نن کو اکٹھ ہو۔اگر پلاننگ کری جاتی تو یاسو دور رس نتائج حاصل کرا جاسکے ہا۔
امید ہے لکھتا لکھاتا رہینگا۔کوئی تو کان دھرے گو۔
ایسا پروگرام قسمت سو کامیاب ہوواہاں۔جدید دور میں سوشل میڈیا کی موجودگی میں ایک ایسی پالیسی بنائی جاسکے ہے جاکی نبیاد پے۔بہتر اور شاندار نتائج اخذ کراجاسکاہاں۔
ہم نے دیکھو کہ یاسو بہت کم لوگن کا اکٹھ نے بہترین قسم کا نتائج و فوائد حاصل کراہاں۔
فوائد حاصل کرن والاپلاننگ سو کام لیواہاں۔میو قوم کی جانے بلا کہ پلاننگ کائیں بلا کو نام ہے۔
یا پروگرام کی کامیابی میں کوئی شک نہ ہے۔لیکن چند باتن کو خیال راکھو جاتو بہتر ہوتو۔
پروگرام کی ٹئمننگ۔غیر معمولی تاخیر کو نقصان۔
کیونکہ کوئی بھی مجلس یا محفل ہوئے۔واکو ایک ابھار رہوے ہے۔اگر وا دوران محل ختم کردی جائے تو لوگن کو جذبہ عروج پے رہوے ہے۔اور دوبارہ بھی آنا کی طلب باقی رہوے ہے۔
اگر پروگرام اتنو لمبو ہوجائے۔کہ اکتاہٹ محسوس ہون لگ پڑے۔یا لوگ تنگ آجاواہاں۔تو پھر میو ہاں آپس میں لڑائی بھڑائی کرنگا۔جاکو نظارہ دیکھو گئیو ہے۔
باقی میڈیا سوشل ایکٹویسٹ پاکستان کی انتظامیہ۔اور شرکاء کو میرا مہیں سو مبارک ہوئے۔مجموعی طورپے ایک اچھو ایونٹ ہو۔

Leave a Comment

Hakeem Muhammad Younas Shahid

Hakeem Muhammad Younas Shahid

Hakeem Muhammad Younas Shahid, the visionary mind behind Tibb4all, revolutionizes education and daily life enhancement in Pakistan. His passion for knowledge and unwavering community dedication inspire all who seek progress and enlightenment.

More About Me

Newsletter

Top Selling Multipurpose WP Theme