
سوچ کو فرق۔زندگی کا نیا چیلنجز
حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو
زندگی ایک بدلائو اور آگے بڑھن کو نام ہے۔جمود اور جمائو کی سوچ قومن کی زندگی میں چھٹی انگلی ہے ،
رہے تو اوڑانک کرے ہے۔کاٹاں تو دُکھ کرے ہے۔۔
زندگی کو سفر رَل مِل کے کٹے ہے۔زندگی کا یاسفر میں مختلف المزاج لوگ شامل رہوا ہاں۔
کچھ سوچاں ہاں وقت گزر گئیو،کھان کو ملو،نیند پوری ہوئی،دنیا کی ساری نعمت میسر آگئی۔
کچھ لوگ ہاں جو اپنا حصہ کی ذمہ دارین نے محسوس کرا ہاں۔نبھانا کی کوشش کرا ہاں۔
کچھ لوگ ہاں۔اُنن نے کرنو کچھ نہ رہوے ہے۔البتہ وے دوسران کا کامن میں ٹانگ اڑانو اپنو حق

سمجھا ہاں۔
کچھن کا ذہن میں خبط رہوے ہے کہ وےسبن سو زیادہ عقل مند ہاں،ان کے بغیر کچھ نہ ہوسکے ہے۔
اچھو ہوئے بُرو ہوئے۔ثواب ہوئے نیکی ہوئے،اُن کی مرضی سو ہونوچاہے۔
جو اِن سب لوگن نے بھیلا کرکے منزل کا مہیں چل دئے واسو لیڈر کہوا ہاں۔
کائی بھی انسان اے غلط کہنو۔غلط ثابت کرنو۔وامیں کیڑا کانٹا نکالنو۔کائی کے مارے بھی مناسب نہ ہے۔
کچھ لوگ زندگی کا مختلف شُعبان میں تجربات راکھاہاں۔
وا بارہ میں ان کی بات معتبر سمجھی جائے۔یہی ٹھیک طریقہ ہے۔
سعد ورچوئل سکلز پاکستان// سعد طبیہ کالج ۔
بہت دِنن سو پروگرام میں مصروف ہے کہ قوم و ملک مارے کچھ بہتر کرو جائے۔
جواُنن کے مارے نیا اُفق تلاش کرا جاواں۔
ہمارے سامنے کئی مشکلات ہی۔سب سو پہلے تو میو قوم کا جن لوگن سو میل ملاقات کری جاوے ہے۔
سچی بات ای ہے ،ان کو اپنی بات سمجھانا میں کامیابی نہ ملے ہے۔
یاکی وجہ سوچ کو اُو گیپ ہے جو بڑی نسل کا لوگن میں اور نوجوان کا ذہن میں موجود ہے۔
جوان چاہئے جدید سہولیات سو ُفائدہ اٹھائے۔
واکی روزی روٹی کو بندوبست بھی واکی مرضی کے مطابق کروجائے۔
پُرانا لوگ ہاتھ سو کام کرن کا عادی ہاں۔روپیہ پیسہ۔زمین جائیداد۔وسائل کی بنیاد پے فیصلہ کا عادی ہاں۔
جب کہ جواَن نسل کے مارے اپنی ترجیحات ہاں۔
ایک زمیندار جو مرغا بولے،ہل پنجالی جوڑے بیلن کے ساتھ زمین جوتن جا پہنچے ہو۔
وا کی سمجھ میں کدی بھی نہ آسے کہ ایک جوان موبائل یا لپ ٹاپ پے ایک دن میں واکی پوری چھ مائی فصل سو گھنو کما سکے ہے۔
میری مثال سامنے ہے۔ہمارو سارو گھرانہ زمیندارہ کرے ہے۔ہم کو اللہ نے چار حرف پڑھن کی توفیق دیدی۔
روزی کا وسائل بھی ایسا ہی دیدیا۔ہمارا سارا بھائی ہل جوتے ہا۔کئی پھائولی کو کام کرےہا۔
اُن سو جب بھی کوئی بات کرتو،یا کائی موقع پے بات ہوجاتی تو۔سب کہتا، سب کام کراہاں۔یہ دونکماہاں۔
یعنی کھپنا مرنا سو ُکام کہواہاں۔
ان کے نزدیک جو جسمانی طورپے مشقت نہ کرے اُوق نکمو ہے
یعنی فزکس کو اصول ایک تھاں میں کھڑا ہوکے چاہے ایک ٹن وزن اٹھا لئیو۔لیکن
کام شمار نہ کرو جائے گو۔ہلتا جُلتا رہو۔کام میں شمار کرا جائوگا۔
قانون بدلتا رہواہاں ۔میون نے سمجھنو پڑے گو کہ کام وہی نہ ہے جائے تم کرو ہو۔
دنیا میں اور بھی بہت سا کام ہاں۔جن کی مانگ بھی ہے۔جن میں پیسہ اور عزت بھی ہے۔
اور ہمارا معاشی مسائل کو حل بھی ہے۔
امید ہے یائی ہفتہ میو قوم کے سامنے ایک معاشی پلان پیش کرونگو۔۔
جامیں نوجوانن کے مارے آگے بڑھن کا بہت سا مواقع ہاں۔وسائل کی فراہمی ہے۔
روزگار ہاں ۔ہنر و مہارت ہے۔ایک ایسو پلان ہے جامیں سرمایہ دار سرمایہ سو فائدہ اٹھا سکے گو اور محنتی اپنی محنت کو پھل پاکسے گو۔
گھرن میں باہن بیٹی۔نادار لوگ اپنی روزی خود پپدا کرسکنگا۔
تعلیم یافتہ لوگ اپنی زندگی کو رُخ متعین کرسکنگا۔
کوئی خرچہ نہ ہے۔کوئی ڈیپازٹ نہ ہے۔۔
سرمایہ ڈوبن کو خطرہ ۔نہ لوٹ کھسوٹ کو ڈر۔جو کرے گو واکو ملے گو۔
جتنو چاہے کمائے،کوئی پوچھن والو نہ ہے۔
ہم نے ارادہ کرو ہے کہ ہر ہنر مند اپنی عزت مند روزی کمائے۔۔
۔دعا کرو ہم یا پلان اے فائنل کرن میں کامیاب ہوجاواں۔
ماہرین سو مشاورت جاری ہے۔بہتر سو بہتر کی تلاش ہے۔
ہم تو ریت میں بالکن والی کُوڑھی بنا راہاں ۔
بناواہاں ۔بگاڑا ہاں۔بہتر سو بہتر ڈزائن کی کوشش میں ہاں۔
