طب اور اے آئی(Artificial Intelligence)۔کلاسز کو اجراء۔

0 comment 47 views

طب اور اے آئی(Artificial Intelligence)۔کلاسز کو اجراء۔

Advertisements

حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو
8جنوری2026 کی تاریخ ہے۔اللہ تعالیٰ جب کائی سوُ کام لینو چاہے تو واکے مارے آسانی پیدا کردیوے ہے۔
انسانی زندگی میں ایسے مناظر بار بار دیکھن کو ملاہاں کہ جہاں آدمی محسوس کرے ہے کہ آگے راستہ بند ہے۔
اور لوگ سوچ سوچ کے ہلکا ہویا جاواہاں کہ اب کہا ہوئے گو؟
چلن والان کے مارے وائی جگہ سو راستہ نکلے ہے جا موڑ پے جاکے لوگ مایوسی کی حالت واپسی کی راہ لیواہاں۔


میو قوم میں ابھی تک بہت سی صفات موجود ہاں ۔ان میں اخلاص ہے۔کام کرن کو اور آگے بڑھن کو جذبہ ہے۔
ماڑا کے ساتھ ہمدردی ہے۔نئی پود کچھ کرن کا موڈ میں ہے۔
لیکن ایک بات کو فقدان ہے کہ اخلاص کے ساتھ اِن میں اجتماعیت نہ ہے۔
اپنی مجموعی طاقت جمع کرن کے بجائے ہر کوئی مختلف انداز میں تونائی اے لگارو ہے جاکا نتائج بہتر نہ ہاں۔
لیکن جذبہ خدمت بہر حال میو قوم میں موجود ہے۔معاملات نہ سمجھنا کی وجہ سو ُموجودہ دور کا تقاضان سو خاطر خواہ آگاہی نہ ہونا کی وجہ سو محنت و وسائل گھنا خرچ ہوراہاں۔نتائج کم دیکھن کو مل راہاں۔
سعد ورچوئل سکلز پاکستان۔سعد طبیہ کالج برائے فروغ طب نبویﷺ
دونوں ادارہ مشترکہ طورپے اپنا اپنا کام میں لگا پڑا ہا ں۔
میواتی تاریخ و ادب کی تیاری مسلسل جاری ہے۔نئی کتاب ۔میونی۔۔۔جلد منظر عام پے آری ہے۔
سال 2026 کا شروع ہوتے ہی ادارہ کا مہیں سو۔ دو کورسز لائونچ کرا گیا۔
ان کا سوشل میڈیا کا توسط سو اعلانات بھی کرا گیا۔
کہ جدید فنون بالخصوص اے آئی۔(Artificial Intelligence) کورس۔
اور صحت سو متعلق طبی کورس پلاننگ کراگیا۔
یہ دونوں کورسز عام لوگن کے ساتھ میو قوم کے ماررے ۔علماء کرام۔حفاظ۔آئمہ۔موذنین ۔ٹیچر۔نوجوان نسل کا بےروزگار۔جیسا لوگن کے مارے شروع کرا گیا ہا۔
حیرت کی بات ہے
یہ دونوں کورس شروع کردیا گیا ہاں ۔اندرون و بیرون ممالک کا لوگن نے شرکت بھی شروع کردی ہے۔
داخلہ ہورا ہاں۔لوگن پے سو فیس بھی وصول کری جاری ہے۔دو تین کلاسز ہوچکی ہاں۔
اورتعلیمی فریم ورک میں کلاسز زوم ۔گوگل میٹ۔پے شروع ہاں۔
شرکاء میں پاکستان۔انگلینڈ۔سعودی عربیہ۔ اور پڑوسی ممالک شامل ہاں۔
جن لوگن کے مارے یہ پروگرام ترتیب دیا گیا۔ان میں سوُ ایک نے بھی شمولیت اختیار نہ کری۔
کوئی میو آئیو۔ نہ کوئی مولوی شریک ہوئیو۔۔۔
دوسرالوگ ان کورسز کی افادیت اور ان کی ڈیمانڈ سو باخبر ہا۔اُنن نے فیس بھری اور شریک ہوگیا۔
جن کے مارے اِی سہولت مفت میں ہی۔ اُنن میں سوُ ایک نے بھی شرکت نہ کری۔
ممکن ہے ان کی سوچ میں مفت کی ساری چیز بےکار رہواہاں؟
جنن نے فیس بھری وے خوش ہاں کہ ایسا مہنگا ترین کورسز معمولی فیس میں کرن کو مل راہاں۔
میں بھی خوش کہ اپنا نہ سہی دوسران نے تو کم از اکم میری سوچ کی حمایت کری۔
میرے مارے ای خوش گوار تجربہ ہو کہ۔
طب نبوی۔طب یونانی۔طب قانون مفرد اعضاء۔
جب جدید ڈیجیٹل (Artificial Intelligence)پراسس سو گزارا تو بہترین نتائج سامنے آیا۔
کئی بات علاج و معالجہ۔اور اے آئی (Artificial Intelligence)کی ایسی بھی سامنے آئی جو پہلے میرا علم میں نہ ہی۔
بہر حال میرو تجربہ اور تڑپ کامیابی سو ہمکنار ہوئی۔
میرا ذہن میں تعلیم و تعلم کو جو ایک پیچدہ نقشہ ہو جائے میں کئی سال سو ویزولائزشن فارمیٹ میں لانا کی سوچ میں مبتلا ہو۔
کامیاب ہوئیو
میو قوم سو ناامید نہ ہوں۔
ان کورسز میں میو قوم کی عدم شرکت قوم کی کمزوری نہ ہے۔بلکہ میں ٹھیک انداز میں اپنی قوم کو پیغام نہ دے سکو۔
البتہ اتنو ضرور ہوئیو کہ اگر یا سہ ماہی کورس میں دس بیس لوگ تیار کرن میں کامیاب ہوگئیو تو میرو کام بٹ جائے گو،
میرو بوجھ کم ہوجائے گو۔
لوگ شروع میں اِیسو اِی رویہ راکھاہاں ۔
جب افادیت سامنے آئے گی تو میری قوم میں بہترین قسم کا لوگ موجود ہاں۔جو یا طرف توجہ کرنگا۔

Leave a Comment

Hakeem Muhammad Younas Shahid

Hakeem Muhammad Younas Shahid

Hakeem Muhammad Younas Shahid, the visionary mind behind Tibb4all, revolutionizes education and daily life enhancement in Pakistan. His passion for knowledge and unwavering community dedication inspire all who seek progress and enlightenment.

More About Me

Newsletter

Top Selling Multipurpose WP Theme