
ایک اور چرغ بچھا بزم اشرف ؒ کا
موت ایک حقیقت جسے جھٹلایا نہیں جاسکتا۔
حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو
دسمبر2025 اور4 جنوری 2026 میں تین بڑے علمی و روحانی آفتاب یکے بعد دیگرے غروب ہوئے۔ایک عہد تمام ہوا۔بڑوں نے رخت سفر آخرت باندھا۔چھوٹے اب بڑے ہونے چلے۔

يا أيتها النفس المطمئنةارجعي إلى ربك راضية مرضية
پہلے
روحانی مرجع خلائق پیرذوالفقار نقشبندیؒ۔(ذو الفقار احمد نقشبندی (1 اپریل 1953ء– 14 دسمبر 2025ء) )

دوسرے
شیخ المشائخ سیدمختار الدین شاہ ؒمفتی سید مختار الدین شاہ (1950ء – 29 دسمبر 2025ء)،
تیسرے

استاد العلماء حضرت مولانا فضل الرحیم اشرفیؒ۔
(تاریخ وفات،4جنوری2026،،،وقت جنازہ 5 جنوری بعد نمام ظہر۔جامعہ اشرفیہ لاہور)

یہ دستور دنیا ہے جو آیا اُسےجانا بھی ہے۔یہ تینوں حضرات اپنے اپنے مراکز اور افکار کے امام تھے۔لاکھوں خلق خدا ان سے عقیدت و محبت کا رشتہ رکھے ہوئے تھی۔
علوم و فیوض کے چشمے تھے جن سے حسب استعداد لاکھوں انسان نے تشنہ لبی کا مداوا کیا،علمی و روحانی پیاس بجھائی۔
علماء و مشائخ زمین کا نور ہوتے ہیں۔ ان کے فیوضات ابر رحمت ہوتے ہیں۔جو ایمان کی کھیتی کو سرسبز و شاداب کرتے ہیں۔
بالا شبہ ان لوگوں نے جس محنت و لگن سے اپنے اپنے میدان عمل میں زندگی لگائی،جس چمن شاداب کو خون جگر سے سینچا۔یقینا اپنے بعد بہت سے جوہر قابل چھوڑے۔علمی و روحانی دنیا میں بہت سے زروں کو مہتاب و آفتاب بنایا۔
روحی و علمی اداروں کی چین قائم کی،ان کے خون جگر سے آبیاری پانے والے پودے یقینا بھٹکی ہوئی انسانیت کے لئے سایہ طوبی ثابت ہونگے۔امید ہے یہ لوگ باقیات ا لصالحات کے کھاتہ میں اجر عظیم کے مستحق ہیں۔
جس وقت راقم الحروف نے تعلیم الاسلام حضرت مولونا مفتی کفایت اللہُ کی تخریج کی اور حاشیہ لکھا۔تو استاد محترم حضرت مولانا فضل الرحیم ؒ اشرفی صاحب نے اس لئے کئے الفاظ تبریک تحریر فرمائے۔وہ ایک دو صفحات آج بھی میرے لئے سند کا درجہ رکھتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ ان آفتاب ثلاثہ کی ساعی مشکور کو قبول فرمائے۔حاصل زندگی کو صدقہ جاریہ میں تبدیل فرمائے۔آمین
