میواتی ادب کو مختصر ڈرامہ

0 comment 73 views

میواتی ادب کو مختصر ڈرامہ
حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو
میواتی ادب میں ایسا مختصر ڈرامہ بکثرت ہاں۔ ان ڈرامان میں بالعموم چار یا پانچ یا چھ زیادہ ڈوہا رہواہاں اور کچھ نثر رہوے ہے
جا کے سہارے زندگی کی کوئی حقیقت بیان کر ی جاوے ہے۔
(ایک ڈرامہ بحوالہ:میوات تاریخ کے جھروکوں سے:” سو نقل کرو جارو ہے
(ای کتاب ڈاکٹر مشتاق تجاری نے لکھی ہے ۔جناب نواب ناظم میو نے پاکستان میں چھپوائی ہے۔قابل قدر کتاب ۔ہر میو اے مطالعہ کرنو چاہے)
میاں بیوی کے درمیان ایک معمولی بات پے جھگڑا ہوجاوے ہے۔
بیوی کی عقلمندی سو یا جھگڑا کا تصفیہ کو قصہ ہے۔
ڈرامہ ایسے ہے کہ ایک عورت اپنا آدمی(شوہر) کے ساتھ ایک چار پائی پے لیٹی رہوے ہے۔
عورت نے اپنا گھر والا سوُکہو کہ تو ذرا پرَے سرک جا، کھاٹ پے، میرے مارے جگہ تنگ ہو ری ہے۔
یا بات اے دُھوہا(میواتی شاعری) میں نوں کہوے ہے۔

Advertisements


پاٹی ڈوبے کمر میں پڑَے بھجن پہ زور
میں نے توئے، کے برَ کہی، تنک سُرکیو اور
یعنی چار پائی(کھاٹ) کی پاٹی میری کڑی(کمر) میں چبھ ری ہے، بازون پے زور پڑ رَو ہے۔
میں نے تو سوُ کتنی بار کہو ہے کہ ذرا سائڈ سو سرک جا۔یعنی تھوڑو سوَ پَرلی گھاں کو سر ک کے جگہ دیدے۔
آدمی اے بیربانی کو بار، بار،اِی کہنوناگوارگزرو۔
اُ و، اُٹھو اور تیار ہو کے گھوڑی پے سوار ہویو ۔اور بھوپال کے پئے ایک شہر ہے” مندسور”ہوں جا پہنچواورہوں سو خط لکھو:
اسی(80) کوس ملتان ہے دو سو(200) ہے مندسور
اب بھی سیج سخت ہے تو پرَے سرک جاؤں اور
یعنی ملتان اسی(80) کوس ہے اور مندسور (بھوپال کی طرف ایک شہر) دو سو(200) کوس ہے (میں اتنا فاصلہ پے آ گیو ہوں)
اگر تیری سیج اب بھی تنگ ہے تو اور دور چلو جاؤں؟۔
وا بیر بانی نے،یا خط کا جواب میں اُو شعر لکھو ’’جا کی بابائے اردو مولانا عبد الحق مرحوم نے بڑی

تعریف کری ہے۔
تنک سَرک ،تو سو کہی، کیا دُکھ پیا پو توئے
جیسے بستر تجی بھُجنگ نے تو ایسے تَج گو، موئے
یا قصہ میں دو ڈوہا ،ہاں لیکن وے ذرا مبتذل سا ہاں۔ ویسے دیہاتی شاعری میں اِی مرض ہر جگہ پائیو جاوے ہے۔
دل چسپی اور واقعہ کی تکمیل کے مارے وے بھی درج کرا جاراہاں ۔
آگے بات نوں چلے ہے
جب کافی دنن تک، نہ شوہر آیو، اور نہ ہی واکو کوئی خط آیو
تواُ و عورت خود اپنا شوہر کو خط لکھےہے کہ

اچھو اَب تو اپنی ضد پا ہا اور مت آؤ،
میں نے توہیں چار شوہر کر لیا ہاں۔یا بات اےڈوہا میں نوں کہوے ہے:
پہلو ایڈی دابتو، دوجو مسلے اَنگ
تیجو چومی لیو۔تو چوتھو لے کے سوؤں سنگ
یعنی میرا چار شوہر ہاں، ایک میرے پیچھے پیچھے چلےہے، دوسرو میرا بدن دباوے ہے،
تیسرو میرا بوسا(چومی) لیوے ہے اور چوتھا اے میں اپنے ساتھ لے کے سوئو ہوں۔
شوہر کواِی خط ملو تو بھاگم بھاگ واپس آیو،
لیکن گھر میں بیر بانی کے علاوہ کوئی بھی دکھائی نہ دئیو
تو بیوی سو ُپوچھوکہ جن کو تینے ذکر کرو ہو، وے کہاں ہاں؟۔
بیربانی نے ہنس کے جواب دیو کہ وے تو ہر وقت میرے ساتھ رہواہاں،
لہنگو ایڈی دابتو، انگیا مسلے اَنگ
تُنگلی چومی لیوتی، پائی لے کے سوؤں سنگ
یعنی میرو لہنگو میرے پیچھے چلےہے، انگیا میرا جسم پہ رہوے ہے
تُنگلی (بالن کی پہلی لٹ جو دونوں رخسارن پے ہوا کا جھونکا سو لہراتی رہوے ہے۔ واسو تُنگلی کہوا ہاں) میرو بوسہ لیوے ہے
اور پاٹی (چار پائی کی پٹی) میں ساتھ لے کے سوئو ہوں۔
جب شوہر اے اطمینان ہویو ہے۔
ان کو جھگڑا بھی ختم ہوگئیو اور میاں بیوی ہنسی خوشی ساتھ رہن لگا۔
ایسےای ڈرامہ ختم ہو جاوے ہے۔

Leave a Comment

Hakeem Muhammad Younas Shahid

Hakeem Muhammad Younas Shahid

Hakeem Muhammad Younas Shahid, the visionary mind behind Tibb4all, revolutionizes education and daily life enhancement in Pakistan. His passion for knowledge and unwavering community dedication inspire all who seek progress and enlightenment.

More About Me

Newsletter

Top Selling Multipurpose WP Theme