نتائج سو بے پروا میو قوم۔

0 comment 32 views
نتائج سو بے پروا میو قوم۔
نتائج سو بے پروا میو قوم۔

نتائج سو بے پروا میو قوم۔
حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو
میو قوم کا کام اور دھندہ عمومی طورپے بے مشورہ بغیر پلاننگ کے رہوا ہاں۔کوئی بھی کام کرنو ہوئے واکا بارہ میں کدی کوئی پلاننگ دیکھن کو نہ ملے ہے۔ہم نے ایک بات باریک بینی سو دیکھی اور مشاہدہ کری کہ پڑا سو بڑا پروگرام کرا جاواہاں۔ پروگرام سو پہلے کائی کے پئے بھی وقت نہ رہوے ہے کہ پروگرام کا بارہ میں اونچ نیچ مثبت یا منفی پہلو پے غور و فکر کرلئیو جاوے۔
جب بھی پروگرام کرا جاواہاں ۔انتظامیہ سو لیکے آن والا مہمانن تک کوئی بھی یقین سو نہ کہہ

Advertisements

سکے ہے کہ کون آئے گو؟کون نہ آسے؟۔
جب پروگرام ہون لگ پڑے ہے متوقع لوگ نہ آوا ہاں ۔وے لوگ چلا آواہاں۔جن کی توقع بھی نہ ہی۔۔ان کی آمد کے فورا بعد پروگرام کی ہلکی پھلکی بنائی ترکیب بھی غارت گری کو شکار ہوجاوے ہے۔
یعنی ان کو کرسکی دینو۔ان کی تقریر کے مارے جاری شدہ مینو میں تبدیلی کرنو۔وغیرہ ناگہانی

آفات میں شمار کرا جاسکاہاں۔
سب سو بڑی آفت ای رہوے ہے کہ یہ معززین تائولا سا آوا ہاں۔دیر سو پہنچا ہاں۔ان کو سٹیج پے جگہ دی جاوے ہے۔یہ لوگ الٹی سیدھی چند بات کراہاں۔تقریر کرتے ہی کہ دیواہاں ۔موئے کہیں ضروری کام سو جانو ہے۔اجازت دی جائے۔اتنی شرکت کافی ہے۔
جو بیچارا رات سو تقریر کرن کا چائو میں سویا بھی نہ رہوا ہاں۔ہر وقت اُن کے اُتھل پُتھل لگی رہوے کہ کہا کہون گو۔کہا کنہو چاہے۔وے نہایا دھویا رہ جاواہاں۔
کچھ ماشا اللہ ایسا بھی شریک محفل ریوا ہاں۔جن کو کام شرارت کرنو رہوے ہے۔یہ اپنی ذؐہ داری اے سب سو بہتر انداز میں نبھاواہاں۔
ہم نے تو ایسو تجربہ بھی کرو کہ پروگرام کا چائو میں دھیر دھیرئیں جا پہنچا۔نینے باسی۔بھوکا پیٹ۔جب کہیں جاکے پھلے پہر کوئی غلہ روٹی کو ملو تو انتظامیہ نے کہی ۔توتو اپنو ہا۔فلاں کو بریانی کو ڈبہ نہ ملو ہے واکو دیدے۔۔
جو لوگ گلا پھاڑ پھاڑ کے سٹیج پے بائولان کی طرح تقریر کراہاں۔منہ سو جھاگ اڑا ہاں۔ڈائس پے زور سو مُکان نے مارا ہاں۔ ایسی ایسی باتن نے کراہاں ۔اٹھائی جاواں نہ دھری جاواہاں۔
یہ لوگ خرچ کرن میں ،انتظامی معاملات میں ۔مہمانن نے سنگوانا میں۔دوسرا کامن سو ایسا جی چُرا واہاں۔کہ مت پوچھو ۔گدھا کا سینگن کی طرح منظر سو غائب ہوجاواہاں۔
عمومی طورپے ہم لوگ وقت مقررہ سو کہیں بعد میں پہنچا ہاں ۔یعنی دن دس بجے کو وقت ہے تو بارہ ،ایک بجے سو پہلے پہنچنو اپنی توہین سمجھاہاں۔یعنی وقت کی پابندی کرنو ان کی ٹیڑھی عقل کے مطابق ان کی شان کے منافی ہے۔حیرت ہے جو لوگ اپنا وقت کی قدر و قیمت نہ سمجھ سکا۔ہم ان سو توقع راکھاہاں کہ وے قوم کی بروقت رہنمائی کرنگا؟
اللہ اللہ کرکے جب ہم فارغ ہوواہاں۔تو آپس میں بحچ کرن لگ پڑا ہاں ،فلاں تو ہم نے بلائیو ای نہ ہو ۔نوں ای منہ اٹھا کے آگئیو۔۔فلاں کا بارہ میں میں تو سو چ رو ہو۔کہ وائے پھٹکن بھی نہ دئیوں ۔پھر مین نے سوچو ۔اَب آگئیو ہے تو۔۔۔۔
ایک کہوے میری بات تو کائی نے مانی ای نہ ہی ۔نہیں تو نوں کرتا ۔بہترین ہوجاتو/۔
ایک کہوے ارے بازار میں آندھا کی ٹیر اے کون سُنے ہے۔جے میری بات مانی جاتی تو ایسو کدی بھی نہ ہوتو۔
فلاں تو نِرو اوگن گارو ہو۔موئے تو آنکھن دیکھو بھی اچھو نہ لگے ہے؟
خیر یہ لایعنی ابحاث کئی ہفتان تک چلا ہاں۔
کائی اللہ کابندہ کا منہ سو ایسی بات نہ نکلے ہے کہ ہمارا پروگرام کا اثرات کہا ہاں ؟۔۔قوم کو برادری کو یا ہم کو یاسو کہا فائدہ یا نقصان ہوئیو ہے؟
ہم سو کہا کمی اور غلطی ہوئی ہاں؟آن والا وقت میں ہم نے کونسی بات اپنانی ہاں؟
یعینی ہم نے پروگرام یا جلسہ جلوس سو اتنو ہی سروکار ہے کہ بھیڑ اکھٹی کرلیواں؟

Leave a Comment

Hakeem Muhammad Younas Shahid

Hakeem Muhammad Younas Shahid

Hakeem Muhammad Younas Shahid, the visionary mind behind Tibb4all, revolutionizes education and daily life enhancement in Pakistan. His passion for knowledge and unwavering community dedication inspire all who seek progress and enlightenment.

More About Me

Newsletter

Top Selling Multipurpose WP Theme