
حرف ناگزیر۔
حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو
انسانی زندگی میں ہر وقت اتار چڑھائو لگا رہتا ہے۔
زندگی میں کچھ باتین حاصل کرنے کے لئے سر دھڑ کی بازی لگادی جاتی ہے۔۔
لیکن دوسرے وقت وہی باتیں وبال جان بن جاتی ہیں۔
یہ کسی ایک موضوع کی بات نہیںپوری زندگی اسی کے گرد گھومتی ہے۔
جن دوستوں،اور تعلقداروں کو انسان اہمیت دیتا ہے۔
لیکن ایک وقت ایسا بھی دیکھنے کو ملتا ہے کہ انہیں تعلقداروں سے گریز کی کیفیت ہوجاتی ہے

،کسی کو ملنا گوارا نہیں ہوتا۔
لباس جسے عزت و وقار کی علامت سمجھا جاتا ہے،ایک وقت میں اسی لباس کو زیب تن کرنا معیوب سمجھا جاتا ہے۔
درجہ بدرجہ گھر ۔دوست۔لباس۔گاڑی سب کا یہی حال ہوتا ہے۔
زندگی کی شاید حقیقت ہی یہ ہے کہ جو چیز انسان اپنی پسند و ناپسند سے اہمیت دیتا یا چھوڑتا ہے
اس کی ترجیحات وقت کے ساتھ ساتھ تبدیل ہوتی رہتی ہیں۔
انسان کا بھی عجیب مزاج ہے کبھی تو دوست احباب،تعلق داروں کے بغیر زندگی دشوار محسوس کرتا ہے۔
کبھی انہیں سے آنکھیں چراتا ہے۔
زندگی میں بدلائو اس وقت جلد آتاہے۔کہ انسان کی توقعات ٹوٹ جائیں۔
سیانے لوگ کہتے ہیں۔
کسی کو اتنا تنگ مت کرو،یا اسے اتنا مت ترسائو کہ وہ مایوس ہوکر اپنی توقع توڑ بیٹھے۔
جس دن توقع ٹوٹی سمجھو ۔اس سے آگے بےنیازی ہے۔
توقع اور امید وہ بندھن ہوتے ہیں جو انسان کو کسی کے ساتھ جوڑے رکھتے ہیں،
جب یہ ٹوٹتے ہیں تو انسان آزاد ہوجاتا ہے۔
پچھلے دنوں اسلام آباد کا سفر ہوا۔
کچھ پرانے لوگوں سے ملا ،کچھ نئے لوگ ملے۔
ایک ماحول بندھا،مختلف خیالات کا بہائو ذہن پر طاری ہوا۔
اس طویل سفر میں اُدھیڑ بن رہی۔
ایسا لگا کہ زندگی بدل سی گئی ہے،
کچھ ایسے لوگ زندگی سے بے دخل ہوئے جنہیں ایک وقت میں اہمیت حاصل تھی۔
ان کی جگہ دوسروں نے لے لی۔
یہ بدلائو کسی لالچ۔ضرورت۔ذاتی منفعت کی وجہ سے نہ تھا۔
بلکہ ترجیہات بدلنے سے نئی منزل کی طرف اقدامات تھے۔
نظریاتی اختلافات۔موافقت و مطابقت کی اہمیت انسان کو فیصلہ کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔
یہ بے خودی،سوچوں کا بہائو کتنی دیر رہا کچھ کہنا۔وقت کا تعین کرنا مشکل ہے۔
لیکن جب وقفہ نماز کا اعلان ہوا۔تو زبان سے بے اختیار یہ جملے نکلے۔
میرے شعر
جنہیں ہم پوجتے تھےوہ صنم توڑ آئے
جو ہمیں پوجتے تھے وہ پجاری چھوڑ آئے
آج سر سے افکار کا بوجھ اتار آئے
منزل کی طرف سُبک رو دوڑآے
