
کھانسی قدیم و جدید نظریات کے مطابق وجوہات/Causes of cough according to ancient and modern theories
کھانسی — قانونِ مفرد اعضاء اور جدید نظریہ کی روشنی میں
کھانسی بظاہر ایک معمولی علامت ہے، مگر قانونِ مفرد اعضاء کے مطابق یہ محض پھیپھڑے کا عارضہ نہیں بلکہ کسی ایک غالب عضو یا نظام کی غیر طبعی تحریک کا اظہار ہے۔ اکثر کھانسی ریوی (پھیپھڑوں) کی کمزوری، رطوبتِ غلیظہ، یا اعصابی تحریک کے سبب پیدا ہوتی ہے، جبکہ بعض اوقات اس کا اصل منبع معدہ، اعصاب یا بلغمِ سرد ہوتا ہے، جو اوپر کی طرف اثر انداز ہو کر کھانسی کو جنم دیتا ہے۔
حکمائے متقدمین کے نزدیک کھانسی کی اصل پہچان نبض، مزاج، اخلاط اور مقامِ تحریک سے ہوتی ہے۔ خشک کھانسی حرارت و خشکی کی دلیل ہے، جبکہ بلغمی کھانسی سردی و رطوبت کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ اسی بنیاد پر علاج میں مفرد دوا، مناسب غذا اور اصلاحِ مزاج کو اصل حیثیت دی جاتی ہے۔
جدید طبی نظریہ کے مطابق کھانسی ایک Protective Reflex ہے، جو سانس کی نالی کو جراثیم، گرد و غبار اور زائد رطوبت سے صاف رکھنے کے لیے پیدا ہوتی ہے۔ وائرس، الرجی، دمہ، GERD اور
انفیکشن اس کے عام اسباب ہیں۔
یوں قدیم و جدید علم اس بات پر متفق ہیں کہ کھانسی بذاتِ خود مرض نہیں بلکہ کسی اندرونی بگاڑ کی علامت ہے۔ اصل کامیاب علاج وہی ہے جو سبب کو پہچان کر کیا جائے، نہ کہ صرف علامت کو دبایا جائے۔
✍️ لکھاری:
حکیم المیوات
قاری محمد یونس شاہد میو
