in , ,

ہم قربانی کے ثمرات سے کیوں محروم رہتے ہیں؟ اورہم قربانی کیوں کرتے ہیں؟

ہم قربانی کے ثمرات سے کیوں محروم رہتے ہیں اورہم قربانی کیوں کرتے ہیں
ہم قربانی کے ثمرات سے کیوں محروم رہتے ہیں اورہم قربانی کیوں کرتے ہیں

ہم قربانی کے ثمرات سے کیوں محروم رہتے ہیں
اورہم قربانی کیوں کرتے ہیں

ہم قربانی کے ثمرات سے کیوں محروم رہتے ہیں اورہم قربانی کیوں کرتے ہیں
ہم قربانی کے ثمرات سے کیوں محروم رہتے ہیں
اورہم قربانی کیوں کرتے ہیں

حکیم قاری محمد یونس شاہد میو

 

قربانی کا لفظ ہمہ گیر اور پوری انسانی زندگی پر محیط ہے،جو جذبات قربانی کرنے پر آمادہ کرتے ہیں اگر یہ سارا سال برقرار رہیں تو یہ دنیا جنت نظیر بن جائے۔مثالی معاشرہ بن جائے۔قربانی کا حقیقی مفہوم و غرض غائت سمجھ میں آجائے تو مزید کسی ہدایت یا قانون کی ضرورت باقی نہیں رہ جاتی

عموی طورپر قربانی کا لفظ ایسی جگہ پر بولا جاتا ہے جہاں کسی خاص کاز /مشن کے لئے کسی پیاری چیز یا مفاد کو چھوڑ دیا جائے یا قربان کردیا جائے۔قربانی کوئی بھی دے اپنا ہو ا بیگانہ یہ اقدام قابل تحسین ہوتا ہے


بالفاظ دیگر آپ یوں کہہ سکتے ہیں کہ جب انسان بلند عزائم و مقاصد کے لئے منزل بہ منزل سفر کرتا ہوا آگے بڑھتا ہے تو اسے بہت سے خلاف طبع کام کرنے پڑتے ہیں ۔پہلے قدم پر ہی قربانی کا مطالبہ نہیں کردیا جاتا ۔بلکہ کچھ مقامات و منزل ہوتے ہیں جہاں پر قربانی کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔

جب انسان کسی خاص مقصد کے لئے وقف ہوجاتا ہے زندگی کا نصب العین بنا لیتا ہے تواس خاص نصب العین کے حصول میں جو بھی رکاوٹ آئے اسے عبور کرنا ہی فرض منصبی ہوتاہے۔من پسند چیزیں چھوڑی جاتی ہیں۔آرام و آشائش کو تج کیا جاتا ہے۔مقصد و نصب العین کے علاوہ ہر چیز بے معنی ہوکر رہ جاتی ہے۔نصب العین اپنے پورے خدوخال کے ساتھ موجود ہوتا ہے۔اس میں کمی زیادتی کاز کے لئے زہر ہلاہل ثابت ہوتا ہے۔


اہل اسلام جہاں بھی ہیں حتی المقدور قربانی کے نام پر بے شمار جانور ذبح کرتے ہیں۔پوری دنیا میں سنت ابراہیم عقیدت واحترام کے ساتھ پوری کی جاتی ہے،محرب و ممبر سے سیدنا براہیم ؑ و سیدنا اسماعیل کے جذبہ قربانی بیان کیا جاتا ہے۔۔

سوچنے والی بات ہے کہ ان دونوں باپ بیٹوں کو قربانی کے احکامات کس وقت ملے تھے؟۔قربانی تو اس سے مانگی جاتی ہے جس پر بھروسہ ہو۔جس کی اطاعت و تابعداری میں کسی قسم کا شائبہ نہ ہو۔ادنی سے ادنی حکم کو جان سے عزیز رکھتا ہو۔۔جیساکہ رب تعالیٰ فرماتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

خطباتِ حجۃ الوداع … تاریخی دستاویز اور ’حقوقِ انسانی کے چارٹ

وَ إِذِ ابْتَلی إِبراهیمَ رَبُّه بِکلماتٍ فَأتَمَّهُنَّ قالَ إِنّی جاعِلُک لِلنّاسِ إِماماً قالَ وَمِنْ ذُرّیتی قالَ لاینالُ عَهدی الظّالِمینَ(ترجمہ: (اور وہ وقت یاد کرو) جب ابراہیم کا ان کے پروردگار نے چند باتوں کے ساتھ امتحان لیا۔ اور جب انہوں نے پوری کر دکھائیں ارشاد ہوا۔ میں تمہیں تمام انسانوں کا امام بنانے والا ہوں۔ انہوں نے کہا اور میری اولاد (میں سے بھی(؟ ارشاد ہوا: میرا عہدہ (امامت) ظالموں تک نہیں پہنچے گا۔)

یعنی ابراہیم کو قربانی کا حکماس وقت دیا گیا جب دیگر احکامات کے پورے کرنے میں کامیاب ہوگئے ۔ایک جملہ قابل غور ہے کہ ظالموں کو اس کی برکات و ثمرات نہ ملیں گی۔یعنی اگر وہ یہ عمل کربھی لیں تو انہیں حقیقی ثمرات سے محروم ہوگی،کیونکہ ظلم کسی چیز کو اس کے اصل مقام سے ہٹا دینا ہے۔قربانی کے نام پر جو کچھ کیا جارہا ہے،وہی قربانی کی روح کو پامال کرنے کے لئے کافی ہے۔

یہ بھی پڑھیں

فلسفہ قربانی قرآن کی نظر میں

اب رہے آج کے مسلمان تو ان میں قربانی کا جذبہ صرف جانور کے ذبح کرنے کی حد تک ہے۔اتباع اور اطاعت نامی کوئی چیز موجود نہیں ہے،اگر پورا سال ان احکامات کی پیروی کرتے جن کے پورا ہونے کی وجہ سے قربانی واجب کی گئی تھی تو اغیار کو یہ بات کہنے کی جسارت نہ ہوتی کہ قربانی پر جو مصارف برداشت کرنے پڑتے ہیں انہیں دیگر فلاحی کاموں میں لگا دیا جائے۔تو قربانی سے بڑھ کر خدمت انسانیت ہوگی۔

اسلام کا جو نظام حیات ہے جب اس پر عمل کیا جاتا ہے تو اس کی گنجائش باقی نہیں بچتی کہ کوئی بھوکا سوئے کسی نادار بھٹکتا پھرے۔یا اسلامی شعائر کی موجودگی میں کوئی اعتراض کی گنجائش دیکھے۔بنیادی طور پر اسلام کو جس قدر مسلمانوں نے بد نام کیا ہے اس کا عشر عشیر بھی اغیار نہ کرسکے

۔یعنی قربانی کے لئے جو شرائط تھیں کہ مال حلال ہو۔جذبہ اخلاص ہو۔صفائی کا خاص رکھا جائے۔ اس کے حصول سے لیکر اس کے گوشت کی تقسیم تک میں انصاف سے کام لیا جائے،اس سارے عمل میں ان آداب کا لحاظ رکھا جائے جن کا حکم دیا گیا ہے۔

Written by admin

Leave a Reply

Your email address will not be published.

GIPHY App Key not set. Please check settings

2 Comments

خطباتِ حجۃ الوداع

خطباتِ حجۃ الوداع … تاریخی دستاویز اور ’حقوقِ انسانی کے چارٹردوسری قسط

عرفہ کے دن کے فضائل

عرفہ کے دن کے فضائل