in

چلے وظائف،عبادات میںپاکی کی غرض و غایت۔

چلے وظائف،عبادات میںپاکی کی غرض و غایت۔
چلے وظائف،عبادات میںپاکی کی غرض و غایت۔

چلے وظائف،عبادات میں پاکی کی غرض و غایت۔

کیاضروری ہے کہ فتنئہ محشر بھی بنوں
وجہ تخلیق جہاں ہوں یہ سزا کافی نہیں ہے

 

چلے وظائف،عبادات میںپاکی کی غرض و غایت۔
چلے وظائف،عبادات میںپاکی کی غرض و غایت۔

 

چلے وظائف،عبادات میں پاکی کی غرض و غایت۔

حکیم قاری محمد یونس شاہدمیو

 

عملیات میں انسان دوسروں سے تفوق چاہتا ہے اس کی ذمہ داریاں بھی بڑھ جاتی ہیں،مسلمان عاملین پاکی وطہارت پر بہت زیادہ زور دیتے ہیں۔اور ہر عمل سے پہلے طہارت لازم قرار دیتے ہیں ۔کئی کتابوں میں تو عمل سے پہلے غسل ،یا نیا وضو لازمی قرار دیتے ہیں۔

 

عملیات میں پاکی اتنی اہم کیوںہے؟یہ بات وضاحت طلب ہے۔کافی تلاش کے بعد حضرت شاہ ولی اللہ کی کتاب فیوض الحرمین میں کچھ اشارات ملے ہیں ۔شاہ صاحت لکھتے ہیں:جب کبھی بندہ کو نماز میں دیر ہوجاتی ہے یا اس پر ناپاکی اور کثافتوں کا ہجوم ہوتا ہے تو اس کے حواس میں طرح طرح کے رنگ اور آوازیں بھر جاتی ہیں۔فیوض الحرمین صفحہ134)میدان عملیات بہت حساس ہے۔یہاں پر ہر اس چیز کی تاکید کی جاتی ہے جس سے مراد پانے میں آسانی رہے۔جس طرح پاکیزگی فرشتوں اور نیک ارواح کے لئے کشش کا سبب ہے ایسے ہیں گندگی اور بدبو شیاطین اور خبائث کے لئے باعث کشش ہے۔

پاکی کا ایک سبب یہ بھی ہے انسانی جسم سے مسامات سے فضلات کا اخراج ہر وقت جاری رہتا ہے،اگر کسی سبب سے یہ اخراج رک جائے تو بہت گھٹن ہوتی ہے انسانی جلد کا رنگ بدل جاتا ہے۔الرجی ،خارش۔جلد کی سیاہی۔اور سوئیاں چبھنا وغیرہ علامات دیکھنے کو ملتی ہیں۔جن اعضاء کو وضو یا یامخصو پاکی کے دوران دھویا جاتا ہے جیسے ہاتھ پائوں چہرہ وغیرہ یہ کھلے رہتے ہیں،بیرونی گرد و غبار پڑتا ہے بالخصوص آج کے زہریلے دھوئیں سے بھرپور فضاء میں پاکی و طہارت کی اہمیت اور بھی بڑھ گئی ہے۔

 

جب مسامات بند ہوں،توکسی بھی لطیف چیز کا دخول و خروج مشکل ہوتا ہے۔جب یہ حالت ہوتو باہر سے آنے والی کاسمک شعاعیں جذب کرنے میں دشواری ہوتی ہے۔یوں عامل اور اس کے عمل اور ذہنی یکسوئی میں خلل پیدا ہوتا ہے،اور عملیات کی تاثیرہونے اوراخز فوائدمیں تاخیر ہوتی ہے۔عام حالات میں بھی غسل یا وضو کرنے سے طبیعت مین ایک قسم کی فرحت و بشاشت محسوس ہوتی ہے۔
جب آپ عملیاتی کتب کا مطالعہ کریں گے تو بہت سے اعمال کے ساتھ بخورات اور دھونیاں لکھی ہوئی ملتی ہیں۔عاملین اپنے اعمال کے لئے ایسی فضاء قائم کرنا چاہتے ہیں جہاں انسانی ذہن سمجھنے پر مجبور ہوجائے کہ یہاں خیر و شر کے جس قسم کے اثرات درکار ہیں پیدا ہوجائیں۔خیر والے اعمال میں خوشبویات ۔ شر والے اعمال میں بدبودار اشیاء سلگائی جاتی ہیں۔مذہبی و دینی لوگ پاکیزگی و طہارت پر زور دیتے ہیں۔مشاہدہ بھی یہی ہے کہ پاکی کی حالت میں دل جمعی و نشاط عمل پیدا ہوتا ہے۔ماہر اساتذہ کرام زندگی بھر ایسی باتیں تلاش کرتے رہتے ہیں جو حصول مقصد میں معاونت کریں۔
عمومی طورپر کچھ لوازمات اس لئے بھی بروئے کار لائے جاتے ہیں کہ ہمارا اپنا ذہن اس بات کو قبول کرلے کہ اتنا سارا اہتمام خوامخواہ تو نہیں ضرور اس محنت و مشقت کے کچھ نہ کچھ فوائد ضرور ہونگے جن کی تاکید کی جارہی ہے۔نفسیاتی طورپر جو چیز جس قدر مشکل سے حاصل ہوتی ہے اس کی اہمت اتنی ہی زیادہ ہوتی ہے۔جو چیز آسانی اور معمولی قیمت کے عوض مل جائے ذہن میں اس کی اہمیت قائم نہیں ہوسکتی۔ممکن ہے عمیاتی شرائط میں ان لوازمات کو اس لئے شرائط عمل کے طور پر رکھا گیا ہو کہ عمل کی اہمیت بڑھ جائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

GIPHY App Key not set. Please check settings

One Comment

مضامین غیب آتے کہاں سے ہیں؟

مضامین غیب آتے کہاں سے ہیں؟

ذہن میں بیٹھی ہوئی بات کا اثر