in ,

مفرددواء اور اس کے جواہر کا فرق

مفرددواء اور اس کے جواہر کا فرق
مفرددواء اور اس کے جواہر کا فرق

مفرددواء اور اس کے جواہر کا فرق

مفرددواء اور اس کے جواہر کا فرق
مفرددواء اور اس کے جواہر کا فرق

مفرددواء اور اس کے جواہر کا فرق
از :مجدد الطب۔۔۔

ناقل
حکیم قاری محمد یونس شاہد میو

عام طور پر یہ ایک غلطی پائی جاتی ہے کہ دوا ء کا جو خلا صہ ، دست یا جو ہر نکالا جاتا ہے وہ اس دواء کا مؤثر ہ مادہ ہوتا ہے،
ایسا ہرگز نہیں ہے۔ بلکہ دوا کی مختلف صورتیں اس کے مختلف عناصر کا اظہار کرتی ہیں۔
ان کو کل دواء موثر و مادہ خیال نہیں کرنا چاہئے ، کیونکہ ان کے اکثر اثرات و افعال میں نمایاں فرق پایا جاتا ہے۔
کسی دوا کے خلاصہ کے اثرات اس کے سست اور جوہر سے بہت حد تک جداہوتے ہیں۔
یہی ہے کہ ان کے بنیادی اثرات بہت حد تک ملتے جلتے ہیں ۔ لیکن فعلی اور کیمیاوی افعال و اثرات میں بہت کچھ اختلاف پیدا ہو جاتا ہے۔ مثلا دوا کے کسی جز میں حمونت نمایاں ہو جا تا ہے کسی جز میں کھار کا اثر غالب رہتا ہے۔


اسی طرح کسی چیز میں چونا با فولاد کا اثر زیادہ ہوتا ہے۔ اسی طرح ان اجزاء میں گرمی و سردی اور خشکی و رطوبت کی زیادتی ہو جاتی ہے
اور بعض میں دخانی اثر بڑھ جاتا ہے۔ جیسے دودھ کی مثال ہماری روزانہ زندگی میں ہمارے سامنے پائی جاتی ہے۔
یعنی معالج کبھی وہی کا استعمال کرتا ہے۔کبھی وہی کا پانی مفیدسمجھتا ہے۔

اسی طرح کبھی مکھن کبھی گھی اور کبھی دودھ کا پانی استعمال کرانا پڑتا ہے۔


یہی صورت پنیر کی بھی ہے۔ اسی طرح دودھ کا سفوف بھی ایک علیحدہ جزو ہے۔
اس کو خالص دودھ نہیں کہنا چاہئے۔ کیونکہ اس کے خشک کرنے سے
پانی کے ساتھ اس کے بہت سے نمک بخارات کے ساتھ اُڑ جاتے ہیں
اور بہت حد تک انتہائی قسم کا خشک مواد بن کر رہ جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

علاج بالمفردات

یورپ اور امریکہ سے جو خشک دودھ آتا ہے اس کو خالص دودھ نہ سمجھ لینا چاہئے ۔
اس میں روغنی اجزاء اور ہاضم نمکیات کی کمی ہو جاتی ہے
اور اس میں چونا اپنی مناسبت سے بڑھ جاتا ہے۔
اس لئے اس کے استعمال سے جسم میں بدہضمی اور خشکی پیدا ہو جاتی ہے۔
چھوٹے بچوں کو تو بہت نقصان دیتا ہے ،اس لئے اس کو بچوں سے دور رکھنا چاہئے۔

البتہ جن مریضوں میں کیلشیم (چونا) کی کمی ہو تو اس کو استعمال کر سکتے ہیں۔

ادویہ اور ان کے اجزاء کا استعمال:

مفردادویات تو جس صورت میں چاہیں استعمال کر سکتے ہیں، یعنی سفوف محلول اور حبوب جس شکل میں چاہیں استعمال کر سکتے ہیں۔
لیکن مفرد دوا کے اجزاء کو جن صورتوں میں جدا کیا گیا ہے ان کو انہی صورتوں میں استعمال کرائیں ۔

یہ بھی پڑھیں

روغن اَرنڈ (بیدانجیر۔کسٹرائیل) کے100 طبی-فوائد

ان کو اگر کسی اور صورت میں استعمال کیا تو ان کے افعال و اثر بدل جائیں گے۔
ان کے استعمال میں اس فرق کو بھی مد نظر رکھیں مفرد دوا میں اس کے کئی مؤثر جو ہراس
کے دیگر عناصر اور مواد کے اس طرح جذب اور شامل ہوتے ہیں کہ ان کے افعال و اثرات میں تیزی پیدا نہیں ہوتی۔
اور نقصان کا خطرہ ہیں رہتا۔ کیونکہ ان کے اثرات بھی ساتھ ہی ہوتے ہیں ۔

یہ بھی پڑھیں

اونٹ کے طبی فوائد طب نبویﷺ کی روشنی میں

لیکن مؤثرہ جز اور جو ہر ہر ایک اپنی جگہ تیز ہوتا ہے ان کے غلط استعمال سے نقصان ہو جانے کا خدشہ ہے۔
علاج بالمفردات کا قدیم طبوں میں یہ شعبہ بھی اپنے اندر کمالات فن رکھتا ہے۔
جس کا عشر عشیر بھی فرنگی طب میں نہیں پایا جاتا ہے۔ قدیم طبوں کی فوقیت ہے۔(فارما کوپیا از مجدد الطب 2/40)

Written by admin

Leave a Reply

Your email address will not be published.

GIPHY App Key not set. Please check settings

One Comment

علاج بالمفردات

علاج بالمفردات

حضرت مجدد الطب صابر ملتانی ؒکا احسان۔

حضرت مجدد الطب صابر ملتانی ؒکا احسان۔