in , ,

اصحاب صفہ اور کھانے پینے کے ذرائع

اصحاب صفہ اور کھانے پینے کے ذرائع
اصحاب صفہ اور کھانے پینے کے ذرائع

 

حکیم قاری محمد یونس شاہد میو

حعتبہ بن غزوان؄ سے بھی اسی قسم کی روایت موجود ہے کی جنگوں میں ہمارے پاس کھانے کو کچھ نہیں ہوتا تھا تو درختوں کے پتوں سے پیٹ بھرا کر تے تھے ( احمد ) ان تینوں روایات کو ملاکر دیکھا جائے تو کھانے پینے کی اشیاء کی قلت اور عسرت حالات کا اندازہ کیا جاسکتا ہے

۔اگر اصحاب صفہ کی حالت کا اندازہ لگائیں تو انہیں عمومی طورپرغذائی سہولت نہ ہونے کے برابر تھیں۔انہیں بھوک کی وجہ سے غشی کے دورے بھی پڑجایا کرتے تھے،جب لوگ نماز کے لئے آتے تو ہمیں بے ہوش دیکھ کر مجنون سمجھا کرتے تھے۔بخدا یہ جنون نہیں بلکہ بھوک کی وجہ سے بے ہوشی ہوا کرتی تھی(ترمذی)

حضرت ابو ہریرہ ؄ خود بھی اصحاب صفہ میں سے تھے فرماتے ہیں میں ممبر اور حجرہ عائشہ کے درمیان بھوک کی وجہ سے بے ہوش پڑا رہا کرتھا لوگ مجنوں سمجھ کر میری گردن پر پیر رکھ کر نکلتے مجھے مجنوں سمجھتے خدا کی قسم یہ جنون نہیں بلکہ بھوک تھی(ترمذی)

ایک طویل حدیث تمام حالات کو کھول دینے کے لئے کافی ہے۔
ہم سے مجاہد نے بیان کیا کہ ابوہریرہ ؄ کہا کرتے تھے کہ اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں میں (زمانہ نبوی میں) بھوک کے مارے زمین پر اپنے پیٹ کے بل لیٹ جاتا تھا اور کبھی میں بھوک کے مارے اپنے پیٹ پر پتھر باندھا کرتا تھا۔ ایک دن میں اس راستے پر بیٹھ گیا جس سے صحابہ نکلتے تھے۔

ابوبکر صدیق ؄ گزرے اور میں نے ان سے کتاب اللہ کی ایک آیت کے بارے میں پوچھا، میرے پوچھنے کا مقصد صرف یہ تھا کہ وہ مجھے کچھ کھلا دیں، مگر وہ چلے گئے اور کچھ نہیں کیا۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ میرے پاس سے گزرے، میں نے ان سے بھی قرآن مجید کی ایک آیت پوچھی اور پوچھنے کا مقصد صرف یہ تھا کہ وہ مجھے کچھ کھلا دیں، مگر وہ بھی گزر گئے اور کچھ نہیں کیا۔

اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گزرے اور آپ نے جب مجھے دیکھا تو آپ مسکرا دئیے اور جو میرے دل میں اور جو میرے چہرے پر تھا آپ نے پہچان لیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اباہر! میں نے عرض کیا لبیک، یا رسول اللہ! فرمایا میرے ساتھ آ جاؤ اور آپ چلنے لگے۔ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چل دیا۔
پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اندر گھر میں تشریف لے گئے۔ پھر میں نے اجازت چاہی اور مجھے اجازت ملی۔ جب آپ داخل ہوئے تو ایک پیالے میں دودھ ملا۔ دریافت فرمایا کہ یہ دودھ کہاں سے آیا ہے؟ کہا فلاں یا فلانی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تحفہ میں بھیجا ہے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اباہریرہ! میں نے عرض کیا لبیک، یا رسول اللہ! فرمایا، اہل صفہ کے پاس جاؤ اور انہیں بھی میرے پاس بلا لاؤ۔ کہا کہ اہل صفہ اسلام کے مہمان ہیں، وہ نہ کسی کے گھر پناہ ڈھونڈھتے، نہ کسی کے مال میں اور نہ کسی کے پاس! جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صدقہ آتا تو اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں کے پاس بھیج دیتے اور خود اس میں سے کچھ نہ رکھتے۔

پاگل شناسی

البتہ جب آپ کے پاس تحفہ آتا تو انہیں بلوا بھیجتے اور خود بھی اس میں سے کچھ کھاتے اور انہیں بھی شریک کرتے۔ چنانچہ مجھے یہ بات ناگوار گزری اور میں نے سوچا کہ یہ دودھ ہے ہی کتنا کہ سارے صفہ والوں میں تقسیم ہو، اس کا حقدار میں تھا کہ اسے پی کر کچھ قوت حاصل کرتا۔ جب صفہ والے آئیں گے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے فرمائیں گے اور میں انہیں اسے دے دوں گا۔ مجھے تو شاید اس دودھ میں سے کچھ بھی نہیں ملے گا لیکن اللہ اور اس کے رسول کی حکم برداری کے سوا کوئی اور چارہ بھی نہیں تھا۔
چنانچہ میں ان کے پاس آیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت پہنچائی، وہ آ گئے اور اجازت چاہی۔ انہیں اجازت مل گئی پھر وہ گھر میں اپنی اپنی جگہ بیٹھ گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوہریرہ ! میں نے عرض کیا لبیک، یا رسول اللہ! فرمایا لو اور اسے ان سب حاضرین کو دے دو۔ بیان کیا کہ پھر میں نے پیالہ پکڑ لیا اور ایک ایک کو دینے لگا۔

ایک شخص دودھ پی کر جب سیراب ہو جاتا تو مجھے پیالہ واپس کر دیتا پھر دوسرے شخص کو دیتا وہ بھی سیراب ہو کر پیتا پھر پیالہ مجھ کو واپس کر دیتا اور اسی طرح تیسرا پی کر پھر مجھے پیالہ واپس کر دیتا۔ اس طرح میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچا لوگ پی کر سیراب ہو چکے تھے۔

آخر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیالہ پکڑا اور اپنے ہاتھ پر رکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری طرف دیکھا اور مسکرا کر فرمایا، ابوہریرہ! میں نے عرض کیا، لبیک، یا رسول اللہ! فرمایا، اب میں اور تم باقی رہ گئے ہیں۔

میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ نے سچ فرمایا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیٹھ جاؤ اور پیو۔ میں بیٹھ گیا اور میں نے دودھ پیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم برابر فرماتے رہے کہ اور پیو آخر مجھے کہنا پڑا، نہیں اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، اب بالکل گنجائش نہیں ہے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، پھر مجھے دے دو، میں نے پیالہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دے دیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی حمد بیان کی اور بسم اللہ پڑھ کر بچا ہوا خود پی گئے۔صحيح البخاري (8/ 97)مسند أحمد ط الرسالة (16/ 399)السنن الكبرى للنسائي (10/ 391)الجامع الصحيح للسنن والمسانيد (1/ 473)
حضرت انسؓ کی روایت ہے کہ ایک بار دودھ میں پانی ملا کر آپ کو پیالہ ہدیہ کیا گیا۔ آپ نے نوش فرما کر پہلے ایک اعرابی کو دیا جو داہنے ہاتھ بیٹھا تھا کہ سنتِ نبویؐ یہی ہے اور پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو عطا فرمایا جو بائیں جانب نشست رکھتے تھے۔ (مسلم،کتاب الاشربہ،باب استحباب ادارۃ الماءواللبن ونحوھاعن یمین المبتدی)
اہل صفہ کی بھوک کس سے پوشیدہ ہے ان لوگوں کا گزر بسر مدینہ منورہ کے مخیر حضرات کے تحفے تحائف ہوا کرتے تھے کھانے پینے کا کوئی مستقل ذریعہ نہ تھا۔بھوک کے سائے سارے مسلمانوںکے گھروں پر منڈلاتے تھے،جو بھی حلال چیز میسر آتی کھالیاکرتے تھے،روایات گھاس پھونس تک کھانے کا ذکر ملتا ہے۔اہل خیر اپنے باغات سے کچھ کھجور کے تازہ خوشے لاکر مسجد میں لٹکا دیا کرتے تھے۔لوگ بقدر ھاجت ان سے اپنی بھوک مٹالیا کرتے تھے۔

حضرت علی بن ابی طالب ؄ ایک دن بھوک سے نڈھال ہوکر گھر سے باہر تشریف لائے،دیکھا کہ ایک دیہاتی اپنے باغ کو سیراب کررہا ہے۔پوچھا بھئی ایک ڈول کی کتنی مزدوری دوگے ؟کیا ایک ڈول کے بدلہ میں ایک کھجور دے سکتے ہو؟جواب مثبت تھا کہ ایک ڈول کے بدلہ میں ایک کھجور دونگا ،ڈول نکالتے رہے کھجور وصول کرتے رہے۔ جب مٹھی بھر گئی تو فرمانے لگے بس اتنا کافی ہے ۔کھجوریں لیکر واپس چلے آئے کہ اتنا کافی ہے(ترمذی)

اسی طرح زید حارثہ ؄ صحابی رسولﷺ ہیں انہوں ایک یہودی کی مزدوری کی عصر تک ایک صاع کھجور یں ملیں(واقدی)کھانے پینے کے لحاظ سے مسلمانوں کی
حالت کا اندازہ ہوگیا ہوگا،کہ کھانے پینے کے لئے انواع و اقسام کھانے تو رہے ایک طرف یہاں تو کئی کئی وقتوں تک فاقوں کی نوبت آیا کرتی تھی۔کچھ کتابیں ان باتوں کو کم اہم سمجھ کر ہلکے پھلکے انداز میں بیان کرتی ہیں یا ان جیسے واقعات کو بطور تبریک بیان کرتی ہیں انہیں مستقل عنوا ن کے تحت بمشکل بیان دیکھا گیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

GIPHY App Key not set. Please check settings

2 Comments

پاگل شناسی

پاگل شناسی

تاریخ طلسمات عہد بہ عہد

تاریخ طلسمات عہد بہ عہد