in ,

ازواج النبیﷺکےحجرات کے بارہ میں تحقیق

طب پانچویں ہجری سے گیارہویں صدی ہجری تک
طب پانچویں ہجری سے گیارہویں صدی ہجری تک

ازواج النبیﷺکےحجرات کے بارہ میں تحقیق

 

حکیم قاری محمد یونس شاہد میو

عامر کہتے ہیں لم یوص رسول اللہ ﷺالابمساکین ازواجہ وارض ترکھا صدقۃ[ابن سعد ۸/۱۶۷] عطاء خراسانی

کہتے ہیںمیں عمران بن ابی انس کی مجلس میں تھا وہ اس وقت قبر اور ممبر کے پاس تھے ہم نے دیکھا کہ حجرات کھجور کی ٹہنیوں سے بنے ہوئے ہیں اور انکے دروازون پر بالوں کا بنا ہوا پردہ لٹک رہا ہے اسی دوران ولید بن عبدالملک کا حکم آیا کہ حجرات کو مسجد نبویﷺمیں شامل کردیا جائے میں نے اس دن سے زیادہ رونے والے کسی دن نہ دیکھے عطاء کہتے ہیں میں نے سعید ابن المسین کو کہتے سنا قسم بخدا مجھے یہ پسند ہے کہ ان حجرات کو ان کی حالت پر رہنے دیا جائے [ابن سعد ۸/۱۶۷]

کیونکہ انہیں تیار کرکے نبیﷺ نے جس طرح حق مہر ادا کردیا ایسے ہی انہیں گھر وں کے حقوق بھی تفویض کردئے گئے تھے کیا دیکھتے نہیں کہ روایات میں یوں آتا ہے نبیﷺ فلاں زورجہ کے گھر تشریف لے گئے اور حجرہ عائشہ میں آج بھی اسودہ ہیں ازواج مطہرات اپنے اپنے گھر و ں میں رہا کرتی تھیں اس لئے انکے حجرات میں کسی نے آج تلک کوئی تصرف نہ کیا اگر یہ انکی ملکیت نہ ہوتے تو وراثت میں باغ فدک کی طرح ان میں بھی بحث و مباحثہ ہوتے یہ جگہیں نبیﷺ نے خرید کر انہیں حق ملکیت بخش دیا تھا اگر ایسا نہ ہوتا تو مانورث ترکنا صدقۃ کی مد میں یہ بھی آتے نبیﷺ کو جو ہدایا و تحائف آیا کرتے تھے انہیں تقسیم فرمایادیاکرتے تھے رہی بعد از وفات نان و نفقہ کی ذ مہ داری تو وہ امت پر عائد ہوتی ہے [الکنز المدفون سیوطی]
اس سے بڑا ملکیت کا کیا ثبوت ہوگا کہ ازواج مطہرات نے اپنے حق ملکیت کو استعمال کیا اور اپنے حجرات کو جب جی چاہا فروخت کیا مثلاََ حضرت سودہ بنت زمعہ نے اپنے گھر کے بارہ میں حضرت عائشہ کے لئے وصیت فرمائی انہوں نے اس گھر کو حضرت امیر معاویہ کے ہاتھ فروخت کیا اسی طرح حضرت صفیہ کے وارثین کے انکے مکان کو حضرت امیر معاویہ کے ہاتھوںدولاکھ اسی ہزار میں فروخت کیا ابن سعد کہتے بعض اہل شام کا کہنا ہے حضرت امیر معاویہ نے اس مکان کو خرید کر حضر ت عائشہ کو اس کا حق تفویض کردیا کہ جو چاہیں اس میں تصرف فرمایئں [الطبقات الکبری ابن سعد ۸/۱۶۴] ابن تیمیہ لکھتے ہیں:لما وسع المسجد فی خلافۃ الولید بن عبد الملک وکان نائبہ علی المدینۃ عمر بن عبد العزیز امرہ ان یشتری الحجر ویزیدھا فی المسجد[کتب ورسائل فی العقیدہ۱/۲۳۷] کہ خلافت ولید بن عبد الملک میں جب مسجد نبوی کی توسیع کا خیال آیا تو خلیفہ نے مدینہ میں اپنے نائب عمر بن عبد العزیز کو لکھا کہ حجرات کو خرید کر

مسجد کی توسیع کردی جائے ،

اگرھجرات انکی ملکیت نہ تھے تو انہوں نے فروخت کیسے کردئے ؟ ذاد المعاد کی روایت کے مطابق ہر

 

روز بعد نماز عصر ہر ایک بیوی کے پاس انکے گھروں میں تشریف لے جایا کرتے تھے ان کی ضرو ریا ت کا پوچھتے پھر جس بیوی کی باری ہوتی اس کے ہاں رات قیام فرماتے نبیﷺ کی وراثرت صدقہ تھی لیکن حجرات میں کسی قسم کا دعوی دیکھنے میں نہیں آیا ایک اور نکتہ ذہن میں آیاتا ہے سورہ احزاب کے مطابق جب نے اپنے نان و نفقہ میں اضافہ کا مطالبہ تو انہیں کہا گیا کہ اگر اس سے زیادہ کی ضرورت ہے تو آئو تمہیں کچھ لے دے کر فارغ کردیں یعنی جو ملتا تھا اس سے زیادہ کا مطالبہ کیا جارہا تھا لیکن یہ مقصد تو ازواج مطہرات کی زندگیوں کا نہ تھا،بلکہ انہیں تو ایک خاص مقصد کے لئے بیت نبوی ﷺ کی جمع کیا گیا تھا روایات میں آتا ہے کہ نبیﷺ ہر سال ہر بیوی کو ایک خاص مقدار میں کھجور اور جو دیا کرتے تھے ہر ایک بیوی کا ایک خاص حصہ مقرر تھا ہجر ت سے پہلے تو مال خدیجہ کام آتا رہا

بعد از ہجرت تحائف و غنائم کا سلسلہ شروع ہوگیا پھر ازواج مطہرات میں کئی ایک امراء و روء سا کی بیٹیاں تھیں انکی مالی حالت کافی مضبوط تھی لیکن فیضان نبوت ﷺ کے سامنے دنیا کی ہر حقیقت ماند پڑ گئی تھی اور دنیا کی بے حقیقتی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جو بھی آیا فوراََ تقسیم کردیا حتی کہ شام کی افطاری کے لئے بھی کچھ نہ بچتا تھا ہر ایک زوجہ کے حالات میں سخاوت کے عنوان سے اس کی بہت دلیلیں اسی کتاب میں موجود ہیں۔ایک چار پائی کا ذکر کتاب ترکۃ النبیﷺ میں موجود ہے جس پر آنحضرت آرام فرمایا کرتے تھے جب آپ ﷺ مدینہ تشریف لائے ابوایوب سے فرمایا ۔اے ابوایوب! یہ چار پائی کتنی بہتر ہے جب یہ بات اسعد کے پاس پہنچی تو تو انہوں نے ایک چار پائی بھیجی جو بان سے بُنی ہوئی تھی یہ چار پائی آپﷺ کو ہبہ کردی آپ وفات تک اس چار پائی پر آرام فرماتے رہے۔

اسی چار پائی پر آپﷺ کا جنازہ لوگوں نے پڑھا تھا ۔پھر لوگوں نے بطور تبریک اسے اپنے مردوں کیلئے مانگنا شروع کردی ابوبکر و عمر نے ایسا ہی کیا ۔کیونکہ اس امر سے برکت مطلوب تھی [ترکۃ النبیﷺ ۱/۱۰۵از حماد بن اسحق بغدادی مجموعہ الفتاویٰ ابن تیمیہ ص۳۹۵ج۴]میں اس بارہ میں بحث کی گئی ہے کہ انبیاء کی

بیویاں غیر انبیاء کی بیویوں سے افضل ہیں اگر کوئی اس کے خلاف کہے تو وہ قران و سنت اور اجماع امت کا مخالف ہے یہ دلائل اس کی بات کو رد کرتے ہیںکیونکہ جنت میں ہر بیوی اپنے خاوند کے ساتھ ہوگی لامحالہ طور پر انبیاء کی ازواج جنت میں انبیاء کے ساتھ ہونگی اور جنت میں انبیاء کے مقام کو کوئی بھی نہیں پہنچ سکتا بیشک الاسلام نے اس حدیث سے استدلال کیا ہے کہ عائشہ کی فضیلت عورتوں میں ایسی ہے جیسے کھانوں میںثرید[ابن حجر نیفتح الباری المناقب میں اس پر بحث کی ہے رقم بخاری۳۴۹۱]

Written by admin

Leave a Reply

Your email address will not be published.

GIPHY App Key not set. Please check settings

دبیلہ معدہ(معدہ کی رسولی)

دبیلہ معدہ(معدہ کی رسولی)

جادو و سحر کے توڑکے لئےعمل

جادو و سحر کے توڑکے لئےعمل